X

فیکٹ چیک: 2019 میں پاکستان پہنچی سری لنکا کرکٹ ٹیم کی سکیورٹی کی تصویر کو نیوزی لینڈ ٹیم سے جوڑ کر کیا جا رہا ہے وائرل

وشواس نیوز نے جب اس فوٹو کی پڑتال تو ہم نے پایا کہ اس تصویر کا نیوزی لینڈ کی ٹیم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ 2019 کی تب کی تصویر ہے جب سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پاکستان دورہ پر آئی تھی۔ اب اس تصویر کو حالیہ تناظر سے جوڑتے ہوئے گمراہ کن دعوی کے ساتھ شیئر کیا جا رہا ہے۔

  • By Vishvas News
  • Updated: September 21, 2021

نئی دہلی (وشواس نیوز)۔ پچھلے دنوں بغیر کرکٹ میچ کھیلے ہی نیوزی لینڈ ٹیم سکیورٹی وجوہات کے مدنظر پاکستان کا دورہ رد کر کے واپس لوٹ گئی۔ اب اسی معاملہ کے بعد کے بعد سے سوشل میڈیا پر ایک تصویر وائرل ہو رہی ہے جس میں بہت سی گاڑیوں کو دیکھا جا سکتا ہے۔ تصویر میں نظرآرہی یہ سبھی سکیورٹی گاڑیاں ہیں اور ان میں سکیورٹی فورسز کو بھی پیچھے بیٹھے ہوئے دیکھ سکتے ہیں۔ اس تصویر کو شیئر کرتے ہوئے صارفین دعوی کر رہے ہیں کہ یہ تصویر نیوزدی لینڈ ٹیم کی سکیورٹی کی فوٹو ہے جو پاکستان کرکٹ کھیلنے آئی ہے۔

وشواس نیوز نے جب اس فوٹو کی پڑتال تو ہم نے پایا کہ اس تصویر کا نیوزی لینڈ کی ٹیم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ 2019 کی تب کی تصویر ہے جب سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پاکستان دورہ پر آئی تھی۔ اب اس تصویر کو حالیہ تناظر سے جوڑتے ہوئے گمراہ کن دعوی کے ساتھ شیئر کیا جا رہا ہے۔

کیا ہے وائرل پوسٹ میں؟

فیس بک صارف نے وائرل فوٹو کو اپ لوڈ کرتے ہوئے لکھا، ’نیوزی لینڈ ٹیم کی سیکورٹی, اس کے علاوہ2 ہیلی کاپٹر بھی نگرانی کر رہے تھے‘۔

پوسٹ کے آرکائیو ورژن کو یہاں دیکھیں۔

پڑتال

اپنی پڑتال کو شروع کرتے ہوئے سب سے پہلے ہم نے گوگل رورس امیج کے ذریعہ وائرل تصویر کو سرچ کیا۔ سرچ میں ہمیں یہ تصویر دا مارنگ ڈاٹ ایل کے کی ویب سائٹ پر 30 ستمبر 2019 کو شائع ہوئی ایک خبر میں ملی۔ یہاں خبر میں دی گئی معلومات کے مطابق یہ تصویر پاکستان کے کراچی پہنچی سری لنکا کرکٹ ٹیم کی سرکیورٹی کی ہے۔ مکمل خبر یہاں پڑھ ستکے ہیں۔

مزید سرچ کئے جانے پر ہمیں یہ تصویر دینک جاگرن کی ویب سائٹ پر 1 اکتوبر 2019 کو شائع ہوئے ایک آرٹیکل میں لگی ہوئی ملی۔ خبر کے ساتھ دی گئی معلومات کے مطابق، ’سری لنک کی ٹیم کراچی اسٹیڈیم کے لئے روانا ہوئی تو پاکستان نے مہمان ٹیم کو سخت سکیورٹی انتظامات مہیہ کرائے۔ پاکستان حکومت نے بورڈ کو تین درجن سے زیادہ تقریبا 42 گاڑیاں دیں، جن میں اسلحہ کے ساتھ جوان موجود تھے۔ خبر یہاں دیکھیں۔

دینک جاگرن کی ویب سائٹ پر 17 فروری 2021 کو شائع ہوئی خبر کے مطابق، ’نیوزی لینڈ کی ٹیم 18 سال بعد پاکستان کے دورہ پر گئی تھی جہاں ٹیم کو تین وون ڈے اور پانچ ٹی 20 انٹرنیشنل میچوں کی سریزی کھیلنی تھی اور اسی وون ڈے کا مقابلہ 17 ستمبر کو کھیلا جانا تھا لیکن اس سے قبل ہی دورہ کو رد کر دیا گیا ہے۔نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ اس نے پاکستان میں سکیورٹی خدشات کی وجہ سے دورہ ختم کرنے کا اعلان کیا ہے اور اس نے یہ قدم اپنی حکومت کی اجازت سے اٹھایا ہے‘‘۔

این ڈی ٹی وی کی 19 ستمبر 2021 کی خبر کے مطابق،’ نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم اتوار کی صبح پاکستان چھوڑنے کے بعد دبئی پہنچی‘۔ مکمل خبر یہاں دیکھیں۔

پوسٹ سے جڑی مزید پختہ معلومات کے لئے وشواس نیوز نے ہمارے ساتھی دینک جاگرن میں اسپورٹس کو کوور کرنے والے کارسپانڈینٹ ابھیشیک تریپاٹھی سے رابطہ کیا اور وائرل پوسٹ ان کے ساتھ شیئر کی۔ انہوں نے ہمیں بتایا کہ نیوزی لینڈ کی ٹیم پاکستان میں دو تین روز روکی تھی اور وہاں متعدد میچ ہونے تھے لیکن سکیورٹی کے مدنظر یہ دورہ در کر دیا گیا ہے۔ اور دوبارہ نیوزی لینڈ کی ٹیم پاکستان واپس بھی نہیں آئی ہے‘۔

پوسٹ کو فرضی دعوی کے ساتھ شیئر کرنےوالے فیس بک صارف کی سوشل اسکیننگ میں ہم نے پایا کہ اس پیج کو241,366 لوگ فالوو کرتے ہیں۔ اور اس سے قبل بھی فرضی پوسٹ کو شیئر کیا جا چکا ہے۔

نتیجہ: وشواس نیوز نے جب اس فوٹو کی پڑتال تو ہم نے پایا کہ اس تصویر کا نیوزی لینڈ کی ٹیم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ 2019 کی تب کی تصویر ہے جب سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پاکستان دورہ پر آئی تھی۔ اب اس تصویر کو حالیہ تناظر سے جوڑتے ہوئے گمراہ کن دعوی کے ساتھ شیئر کیا جا رہا ہے۔

  • Claim Review : نیوزی لینڈ ٹیم کی سیکورٹی, اس کے علاوہ2 ہیلی کاپٹر بھی نگرانی کر رہے تھے
  • Claimed By : https://www.facebook.com/thegarhidupattanews/posts/1954230908079511
  • Fact Check : گمراہ کن
گمراہ کن
فرضی خبروں کی نوعیت کو بتانے والے علامت
  • سچ
  • گمراہ کن
  • جھوٹ‎

مکمل حقیقت جانیں... کسی معلومات یا افواہ پر شک ہو تو ہمیں بتائیں

سب کو بتائیں، سچ جاننا آپ کا حق ہے۔ اگر آپ کو ایسے کسی بھی میسج یا افواہ پر شبہ ہے جس کا اثر معاشرے، ملک یا آپ پر ہو سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ آپ نیچے دئے گئے کسی بھی ذرائع ابلاغ کے ذریعہ معلومات بھیج سکتے ہیں۔

ٹیگز

اپنی راے دیں
مزید پڑھ

No more pages to load

متعلقہ مضامین

Next pageNext pageNext page

Post saved! You can read it later