فیکٹ چیک: سیریا کی جیل سے صدام حسین کے ملنے کا دعوی فرضی، ایڈیٹڈ تصویر وائرل
وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ وائرل کی جا رہی تصویر ایڈیٹڈ ہے۔ اصل تصویر 2017 کی یوکرین کے ایک لیڈر کی ہے۔ فوٹو کو ایڈٹ کر کے صدام حسین کو صیدنایا جیل سے بچائے جانے کے فرضی دعوی کے ساتھ پھیلایا جا رہا ہے۔
- By: Umam Noor
- Published: Dec 17, 2024 at 02:06 PM
نئی دہلی (وشواس نیوز)۔ سیریا میں تختہ پلٹ کے بعد سے سوشل میڈیا پر اس معاملہ سے متعلق متعدد گمراہ کن اور فرضی دعوی سوشل میڈیا پر گردش کر رہے ہیں۔ اسی کڑی میں ایک نیوز کلپ وائرل ہو رہی ہے جس میں عراق کے سابق صدر صدام حسین جنہیں سال 2006 میں پھانسی دی جا چکی ہے کی تصویر وائرل ہو رہی ہے۔ وائرل تصویر کو شیئر کرتے ہوئے صارفین دعوی کر رہے ہیں کہ سیریا کی صیدنایا جیل میں صدام حسین اتنے برسوں سے قید تھے اور اب انہیں بھی باقی قیدیوں کی طرح باہر نکالا گیا ہے۔
وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ وائرل کی جا رہی تصویر ایڈیٹڈ ہے۔ اصل تصویر 2017 کی یوکرین کے ایک لیڈر کی ہے۔ فوٹو کو ایڈٹ کر کے صدام حسین کو صیدنایا جیل سے بچائے جانے کے فرضی دعوی کے ساتھ پھیلایا جا رہا ہے۔
کیا ہے وائرل پوسٹ میں؟
فیس بک صارف نے وائرل پوسٹ کو شیئر کرتے ہوئے لکھا، ’’الحمدللہ ، ظالم صدر بشار الاسد کی جیل سے زلیخا بانو کے بعد کئی سالوں قبل قید کیا گیا صدام حسین بھی زندہ ملا ہے اس نے کہا میں نے سورج دسمبر 2006 کے بعد پہلی بار دیکھا ہے۔ #شام‘‘۔
پوسٹ کے آرکائیو ورژن کو یہاں دیکھیں۔

پڑتال
اپنی پڑتال کو شروع کرتے ہوئے سب سے پہلے ہم نے گوگل لینس کے ذریعہ وائرل تصویر کو سرچ کیا۔ سرچ کئے جانے پر ہمیں کوئی بھی قابل اعتماد نتائج نہیں ملا۔ پڑتال کو آگے بڑھاتے ہوئے ہم نے اس تصویر کو ینڈیکس پر بھی سرچ کیا۔ سرچ میں ہمیں یہ تصویر ایک نیوز ویب سائٹ پر اپلوڈ ہوئی ملی۔ یہاں تصویر میں صدام حسین کی جگہ ایک دیگر شخص کو دیکھا جا سکتا ہے۔ یہاں 5 دسمبر 2017 کو شائع ہوئی خبر میں دی گئی معلومات کے مطابق، یہ تصویر یوکرین کے لیڈر میخائل ساکاشویلی کی ہے۔

اسی بنیاد پر ہم نے اپنی پڑتال کو آگے بڑھایا اور ہمیں ایک دیگر ویب سائٹ پر بھی ملی۔ 5 دسمبر 2017 کو شائع ہوئی خبر میں دی گئی معلومات کے مطابق، ’جارجیا کے سابق صدر اور اوڈیسا اوبلاست کے سابق گورنر میخائل ساکاشویلی کو کیف میں حراست میں لیا گیا‘۔ اس معاملہ سے متعلق خبر یہاں پڑھی جا سکتی ہے۔

وائرل تصویر ہمیں روائٹرز کی فوٹو گیلری میں بھی اپلوڈ ہوئی ملی۔ یہاں بھی اصل تصویر میں صدام حسین کی جگہ ایک دیگر شخص کو دیکھ سکتے ہیں۔

وائرل تصویر اور اصل تصویر کے درمیان فرق کو صاف طور پر نیچے دئے گئے کولاج میں دیکھا جا سکتا ہے۔

خبروں کے مطابق، ’سابق عراقی صدر صدام حسین کو نومبر 2006 میں عراقی عدالت نے 1982 میں دجیل شہر میں اپنے 148 مخالفین کے قتل کے جرم میں موت کی سزا سنائی تھی۔ صدام حسین کی سزائے موت کے وقت اور جگہ کو خفیہ رکھا گیا تھا۔ صدام کو عراق کے دارالحکومت بغداد کے قریب واقع علاقے ‘خادمیہ’ میں ایک عراقی کمپاؤنڈ میں کنکریٹ کے ایک حجرے میں پھانسی دی گئی تھی۔ مکمل تفصیل بی بی سی کی ویب سائٹ پر یہاں پڑھی جا سکتی ہے۔
وائرل پوسٹ کے بارے میں وشواس نیوز نے ہماری ساتھ دینک جاگرن میں عالمی معاملات کو کوور کرنے والے صحافی جے پی رنجن سے رابطہ کیا اور وائرل پوسٹ ان کے ساتھ شیئر کی۔ انہوں نے ہمیں تفصیل دیتے ہوئے بتایا کہ، وائرل پوسٹ بالکل غلط ہے صدام حسین کو دہائیوں پہلے پھانسی کی سزا ہو چکی ہے۔
اب باری تھی فرضی پوسٹ کو شیئر کرنے والے فیس بک صارف کی سوشل اسکیننگ کرنے کی۔ ہم نے پایا کہ صارف کا تعلق پاکستان سے ہے۔
نتیجہ: وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ وائرل کی جا رہی تصویر ایڈیٹڈ ہے۔ اصل تصویر 2017 کی یوکرین کے ایک لیڈر کی ہے۔ فوٹو کو ایڈٹ کر کے صدام حسین کو صیدنایا جیل سے بچائے جانے کے فرضی دعوی کے ساتھ پھیلایا جا رہا ہے۔
- Claim Review : سیریا میں صیدنایا جیل میں صدام حسین اتنے برسوں سے قید تھے اور اب انہیں بھی باقی قیدیوں کی طرح باہر نکالا گیا ہے۔
- Claimed By : FB User Ibrahim Asadi Katishovi
- Fact Check : جھوٹ
مکمل حقیقت جانیں... کسی معلومات یا افواہ پر شک ہو تو ہمیں بتائیں
سب کو بتائیں، سچ جاننا آپ کا حق ہے۔ اگر آپ کو ایسے کسی بھی میسج یا افواہ پر شبہ ہے جس کا اثر معاشرے، ملک یا آپ پر ہو سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ آپ نیچے دئے گئے کسی بھی ذرائع ابلاغ کے ذریعہ معلومات بھیج سکتے ہیں۔











