X
X

فیکٹ چیک: بھارت کا نہیں بلکہ بنگلہ دیش کا ہے پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپ کا ویڈیو

وشواس نیوز نے اپنی تحقیق میں پایا کہ وائرل ویڈیو بنگلہ دیش کے شہر ڈھاکا کے علاقے شاہ باغ کا ہے۔ اس ویڈیو کا بھارت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ ویڈیو اس وقت کا ہے جب بنگلہ دیش میں ایک احتجاج کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپ ہوئی تھی۔

  • By: Umam Noor
  • Published: Feb 18, 2026 at 05:10 PM

نئی دہلی (وشواس نیوز)۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہو رہا ہے جس میں کچھ پولیس اہلکاروں کو ہجوم پر لاٹھی چارج کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ اس ویڈیو میں ٹوپی اور کرتا پاجامہ پہنے ایک مسلم نوجوان بھی نظر آ رہا ہے جو پولیس اہلکاروں کے درمیان آ کر کھڑا ہو جاتا ہے۔ اس ویڈیو کو کئی بھارتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس مسلمانوں پر مذہب کی بنیاد پر ہو رہے ظلم کے دعوے کے ساتھ شیئر کر رہے ہیں۔

وشواس نیوز نے اپنی تحقیق میں پایا کہ وائرل ویڈیو بنگلہ دیش کے شہر ڈھاکا کے علاقے شاہ باغ کا ہے۔ اس ویڈیو کا بھارت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ ویڈیو اس وقت کا ہے جب بنگلہ دیش میں ایک احتجاج کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپ ہوئی تھی۔

کیا ہے وائرل پوسٹ میں؟

انسٹاگرام صارف ‘سید فہیم’ نے 8 فروری 2026 کو اس ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے لکھا:’“اسلام، مسلمان ٹوپی دکھا تو مارو بس۔”

پڑتال

تحقیق کے آغاز میں ہم نے وائرل ویڈیو کے کی فریم نکال کر گوگل لینس کے ذریعے سرچ کیا۔ تلاش کے دوران یہ ویڈیو کئی سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر شیئر ہوتا ہوا ملا۔ ‘صلاح الدین’ نام کے ایک ویری فائیڈ ایکس ہینڈل نے بھی اسے 8 فروری 2026 کو پوسٹ کیا تھا۔ کمنٹ سیکشن چیک کرنے پر ایک صارف نے اس ویڈیو کو بنگلہ دیش کا بتایا تھا۔

https://twitter.com/Bintehaque2025/status/2020428985419931770

اسی بنیاد پر ہم نے مزید تلاش کی تو بنگلہ دیش سے چلنے والے ایک فیس بک پیج پر بھی اسی ویڈیو کی تصاویر اپ لوڈ ملی۔ اس کے علاوہ بنگلہ زبان کے کئی یوٹیوب چینلز پر بھی یہ ویڈیو اپ لوڈ کیا گیا تھا۔ یہ ویڈیوز اور تصاویر فروری 2026 میں ہی شیئر کی گئی تھیں۔

مزید کی ورڈ سرچ کرنے پر ہمیں ‘بنگلہ دیش انسٹی ٹیوٹ آف ہیومن رائٹس’ نامی فیس بک پیج کی 7 فروری 2026 کی ایک پوسٹ ملی جس میں فائنسن ٹوڈے ڈاٹ نیٹ کی خبر شیئر کی گئی تھی۔

فائنسن ٹوڈے ڈاٹ نیٹ پر 7 فروری کو شائع خبر کے مطابق، ڈھاکا کے شاہ باغ علاقے میں “انقلاب منچ” کے احتجاج کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپ ہوئی تھی۔ یہ احتجاج شریف عثمان ہادی کے گزشتہ سال ہوئے قتل کے معاملے میں فوری انصاف کے مطالبے پر کیا جا رہا تھا۔ اسی دوران ساجد نامی ایک نوجوان کارکن خبروں میں آیا جو پولیس کی شدید مارپیٹ کے باوجود اپنی جگہ پر ڈٹا رہا۔ سوشل میڈیا پر ساجد کو اس احتجاج میں جرات اور مزاحمت کی علامت کے طور پر دیکھا گیا۔

6 فروری 2026 کے اس احتجاج سے متعلق خبریں ڈھاکا ٹریبیون اور ہندوستان ٹائمز کی ویب سائٹس پر بھی شائع ہوئیں۔

ویڈیو کی تصدیق کے لیے ہم نے ‘بنگلہ دیش انسٹی ٹیوٹ آف ہیومن رائٹس’ کے فیس بک پیج سے رابطہ کیا۔ انہوں نے تصدیق کی کہ یہ ویڈیو شاہ باغ، ڈھاکا کا ہی ہے۔

اس کے بعد وائرل پوسٹ شیئر کرنے والے انسٹاگرام صارف ‘سید فہیم’ کی سوشل اسکیننگ کی گئی۔ معلوم ہوا کہ اس صارف کے ایک لاکھ 36 ہزار سے زائد فالوورز ہیں۔

وشواس نیوز کی تحقیق میں ثابت ہوا کہ وائرل ویڈیو بنگلہ دیش کے شاہ باغ، ڈھاکا کا ہے۔ اس کا بھارت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ ویڈیو بنگلہ دیش میں ایک احتجاج کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان ہونے والی جھڑپ کا ہے۔

  • Claim Review : بھارت میں مسلم ہونے کی وجہ سے ظلم
  • Claimed By : انسٹاگرام صارف ‘سید فہیم’
  • Fact Check : جھوٹ‎

مکمل حقیقت جانیں... کسی معلومات یا افواہ پر شک ہو تو ہمیں بتائیں

سب کو بتائیں، سچ جاننا آپ کا حق ہے۔ اگر آپ کو ایسے کسی بھی میسج یا افواہ پر شبہ ہے جس کا اثر معاشرے، ملک یا آپ پر ہو سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ آپ نیچے دئے گئے کسی بھی ذرائع ابلاغ کے ذریعہ معلومات بھیج سکتے ہیں۔

ٹیگز

اپنی راے دیں

No more pages to load

متعلقہ مضامین

Next pageNext pageNext page

Post saved! You can read it later