فیکٹ چیک: امریکہ میں ایپسٹین فائلز کے خلاف احتجاج کے حوالے سے وائرل ہو رہا ویڈیو اےآئی ہے
وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ وائرل کیا جا رہا دعوی فرضی ہے۔ ایپسٹین فائلز سامنے آنے کے بعد امریکہ میں احتجاج کے حوالے سے وائرل ہو رہا یہ ویڈیو اصلی نہیں ہے، بلکہ اس ویڈیو کو مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا ہے۔
- By: Umam Noor
- Published: Feb 12, 2026 at 06:31 PM
- Updated: Feb 12, 2026 at 06:49 PM
نئی دہلی (وشواس نیوز)۔ امریکی محکمہ انصاف نے حال ہی میں مجرم جیفری ایپسٹین کے خلاف تحقیقات سے متعلق تقریباً تین ملین صفحات پر مشتمل دستاویزات، ہزاروں ویڈیوز اور تصاویر جاری کیں۔ ان دستاویزات میں کئی مشہور شخصیات کے نام سامنے آئے ہیں۔ اس دوران سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہو رہا ہے جس میں سڑک پر ہزاروں لوگوں کو ہجوم کو دیکھا جا سکتا ہے۔ وہیں، اس ویڈیو کو شیئر کرنے والے کئی صارفین دعویٰ کر رہے ہیں کہ یہ احتجاج امریکہ میں ایپسٹین فائلز کے ریلیز ہونے کے بعد ہوئے ہیں۔
وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ وائرل کیا جا رہا دعوی فرضی ہے۔ ایپسٹین فائلز سامنے آنے کے بعد امریکہ میں احتجاج کے حوالے سے وائرل ہو رہا یہ ویڈیو اصلی نہیں ہے، بلکہ اس ویڈیو کو مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا ہے۔
کیا ہے وائرل پوسٹ میں؟
انسٹاگرام صارف صابر نورانی 10 فروری 2026 کو وائرل ویڈیو کو اپلوڈ کیا جس پر لکھا ہوا ہے، ‘ایپسٹین فائلز ریلیز ہونے کا بعد امریکہ۔ آل آئز آن امریکہ‘‘۔

پڑتال
اپنی پڑتال کو شروع کرتے ہوئے سب سے پہلے ہم نے ویڈیو کو گوگل لینس کے ذریعہ سرچ کیا۔ سرچ میں ہمیں یہ ویڈیو الناز نام کے ایک انسٹاگرام اکاؤنٹ پر 11 جنوری کو شیئر کیا ہوا ملا۔ یہاں ویڈیو کو ایران میں گزشتہ روز ہوئے احتجاج کے حوالے سے شیئر کیا گیا ہے۔ وہیں ویڈیو کے ساتھ دی گئی معلومات کے مطابق یہ اے آئی سے تیار کردہ ویڈیو ہے۔ پوسٹ کو یہاں دیکھا جا سکتا ہے۔
اسی بنیاد پر ہم نے اپنی پڑتال کو آگے بڑھایا اور اے آئی تصاویر اور ویڈیو کی جانچ کرنے والے ٹول ہائیو ماڈریشن پر ایران کے حوالے سے وائرل کئے گئے مزید بہتر کوالٹی کے ویڈیو کو اپلوڈ کیا۔ یہاں حاصل ہوئے نتائج کے مطابق 97.9 فیصد اس ویڈیو کو اے آئی کے ذریعہ ممکن طور پر بنایا گیا ہے۔

یہ ویڈیو اس سے قبل بھی سوشل میڈیا پر ایک دیگر فرضی دعوی کے ساتھ وائرل ہو چکا ہے اور اس وقت ہم نے ڈیپ فیک اینالیسس یونٹ (ڈی اے یو) سے رابطہ کیا تھا، جو ہمارے پارٹنر ٹی آئی اے (سابقہ ایم سی اے) کا ایک اقدام ہے۔ انہوں نے ہمارے ساتھ پتہ لگانے کے کئی دوسرے ٹولز کا تجزیہ شیئر کیا۔ جس کے نتیجے کے مطابق اس ویڈیو کے اے آئی سے تیار ہونے کی تصدیق ہوتی ہے۔

ایز ایٹ اے آئی نے اس ویڈیو کے اے آئی سے تیار ہونے کے تقریباً 100فیصد امکان کی تصدیق کی ہے، جبکہ ایمیچ وسفر کے تجزیے نے بھی اس ویڈیو کے اے آئی سے تیار ہونے کے تقریباً 100فیصد امکان کی تصدیق کی ہے۔

وائرل ویڈیو سے متعلق تصدیق کے لئے ہم نے اے آئی ایکسپرٹ اظہر مچاوے سے رابطہ کیا۔ انہوں نے ہمیں بتایا کہ یہ اے آئی کے ذریعہ تیار کیا ہوا ہے۔
اب باری تھی فرضی پوسٹ کو شیئر کرنے والے انسٹاگرام صارف صابر نورانی کی سوشل اسکیننگ کرنے کی۔ ہم نے پایا کہ صارف کو انسٹاگرام پر ساڑھی تین لاکھ سے زیادہ لوگ فالوو کرتے ہیں۔
نتیجہ: وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ وائرل کیا جا رہا دعوی فرضی ہے۔ ایپسٹین فائلز سامنے آنے کے بعد امریکہ میں احتجاج کے حوالے سے وائرل ہو رہا یہ ویڈیو اصلی نہیں ہے، بلکہ اس ویڈیو کو مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا ہے۔
- Claim Review : یہ احتجاج امریکہ میں ایپسٹین فائلز کے ریلیز ہونے کے بعد ہوئے ہیں۔
- Claimed By : انسٹاگرام صارف صابر نورانی
- Fact Check : جھوٹ
مکمل حقیقت جانیں... کسی معلومات یا افواہ پر شک ہو تو ہمیں بتائیں
سب کو بتائیں، سچ جاننا آپ کا حق ہے۔ اگر آپ کو ایسے کسی بھی میسج یا افواہ پر شبہ ہے جس کا اثر معاشرے، ملک یا آپ پر ہو سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ آپ نیچے دئے گئے کسی بھی ذرائع ابلاغ کے ذریعہ معلومات بھیج سکتے ہیں۔











