X
X

فیکٹ چیک: جمعیۃ علماء ہند کے صدر ارشد مدنی کی دیپک کمار سے ملنے کی تصویر اصلی نہیں اے آئی ہے

وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ وائرل کیا جا رہا دعوی فرضی ہے۔ ارشد مدنی کے ساتھ دیپک کمار اور ان کے خاندان کی ملاقات کے حوالے سے وائرل کی جا رہی فوٹو اصلی نہیں ہے، بلکہ اس تصویر کو مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کے ذریعہ تیار کیا گیا ہے۔

  • By: Umam Noor
  • Published: Feb 11, 2026 at 02:14 PM
  • Updated: Feb 11, 2026 at 06:00 PM

نئی دہلی (وشواس نیوز)۔ اتراکھنڈ کے کوٹ دوار میں ایک مسلمان دکاندار کی دکان کے نام کو لے کر تنازعہ ہوا۔ اسی دوران ایک مقامی نوجوان دیپک کمار دکاندار کی حمایت میں سامنے آئے۔ اب اسی واقعہ کے بعد سے سوشل میڈیا پر صارفین اپنے ردعمل کا اظہار کر رہے ہیں۔ اس دوران ایک تصویر بھی وائرل ہو رہی ہے۔ وائرل تصویر میں جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی کو دیپک کمار اور ان کے پریوار کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے۔ تصویر کو شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ارشد مدنی نے دپیپک کمار اور ان کے اہل خانہ سے ملاقات کی ہے۔

وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ وائرل کیا جا رہا دعویٰ فرضی ہے۔ ارشد مدنی کے ساتھ دیپک کمار اور ان کے خاندان کی ملاقات کے حوالے سے وائرل کی جا رہی فوٹو اصلی نہیں ہے، بلکہ اس تصویر کو مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کے ذریعہ تیار کیا گیا ہے۔

کیا ہے وائرل پوسٹ میں؟

فیس بک صارف راجا اشرف خان نے وائرل فوٹو کو 8 فروری 2026 کو شیئر کرتے ہوئے لکھا، ‘دارالعلوم دیوبند کے مولانا ارشد مدنی نے دیپک کمار کو ان کی بیوی اور بچوں کی موجودگی میں پھولوں کے گلدستے سے نوازا۔ یہ لمحہ انسانیت، باہمی احترام اور خاندان کے احترام کی ایک خوبصورت تصویر پیش کرتا ہے‘۔

پڑتال

اپنی پڑتال کو شروع کرتے ہوئے سب سے پہلے ہم نے نیوز سرچ کیا۔ سرچ میں ہمیں ارشد مدنی اور دیپک کمار کی ملاقات سے جڑی کوئی خبر نہیں ملی، حالانکہ، اگر اس طرح کی کوئی ملاقات ہوئی ہوتی تو اس سے متعلقہ معلومات کہیں نہ کہیں ضرور موجود ہوتی۔

پڑتال کو آگے بڑھاتے ہوئے ہم نے ارشد مدنی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ ایکس اور فیس بک کو اسکین کیا۔ وہاں بھی ہمیں وائرل تصویر اپلوڈ کی ہوئی نہیں ملی۔ جس سے ہمیں اس تصویر کے اے آئی سے بنے ہونے کا شک ہوا۔

اسی کڑی میں ہم نے وائرل تصویر کو اے آئی تصاویر کی جانچ کرنے والے ٹول سنتھ چیک پر اپلوڈ کیا۔ یہاں تصویر کو اے آئی سے بنے ہونے کا امکان بتایا گیا ہے۔ نیچے دئے گئے اسکرین شاٹ میں نتیجے کو دیکھ سکتے ہیں۔

وہیں، دوسرے ٹول ہائیو ماڈریشن پر بھی ہم نےاس تصویر کو اپلوڈ کیا۔ یہاں ملے نتیجے کے مطابق، 99.9 فیصد ممکن ہے کہ اس تصویر کو اے آئی ٹول کے ذریعہ تیار کیا گیا ہے۔

وائرل تصویر سے متعلق تصدیق کے لئے ہم نے جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی کے پرسنل اسسٹنٹ فضل الرحمان سے رابطہ کیا۔ انہوں نے ہمیں بتایا کہ یہ تصویر فرضی ہے، اور دیپک کمار کی ارشد مدنی سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی ہے۔

کیا ہے اتراکھنڈ معاملہ؟

اتراکھنڈ کے کوٹ دوار میں 26 جنوری کو ایک مسلمان دکاندار کی دکان کے نام کو لے کر ایک تنازعہ کھڑا ہوا، جہاں کچھ لوگوں نے دکان کے نام سے لفظ “بابا” ہٹانے کا مطالبہ کیا۔ اطلاعات کے مطابق دیپک کمار نامی ایک مقامی شخص آگے آیا اور ہجوم کا سامنا کیا اور اپنی شناخت “محمد دیپک” کے طور پر بتائی۔ اس واقعے کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد سماجی و سیاسی بحث چھڑ گئی۔ واقعے سے متعلق رپورٹس یہاں اور یہاں پڑھی جا سکتی ہیں۔

اب باری تھی فرضی پوسٹ کو شیئر کرنے والے فیس بک صارف راجا اشرف خان کی سوشل اسکیننگ کرنے کی۔ ہم نے پایا کہ صارف کا تعلق جموں و کشمیر کے راجوری سے ہے۔ وہیں، صارف کو ساڑھے پانچ ہزار سے زیادہ لوگ فالوو کرتے ہیں۔

نتیجہ: وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ وائرل کیا جا رہا دعوی فرضی ہے۔ ارشد مدنی کے ساتھ دیپک کمار اور ان کے خاندان کی ملاقات کے حوالے سے وائرل کی جا رہی فوٹو اصلی نہیں ہے، بلکہ اس تصویر کو مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کے ذریعہ تیار کیا گیا ہے۔

  • Claim Review : دارالعلوم دیوبند کے مولانا ارشد مدنی نے دیپک کمار کو ان کی بیوی اور بچوں کی موجودگی میں پھولوں کے گلدستے سے نوازا۔
  • Claimed By : فیس بک صارف راجا اشرف خان
  • Fact Check : جھوٹ‎

مکمل حقیقت جانیں... کسی معلومات یا افواہ پر شک ہو تو ہمیں بتائیں

سب کو بتائیں، سچ جاننا آپ کا حق ہے۔ اگر آپ کو ایسے کسی بھی میسج یا افواہ پر شبہ ہے جس کا اثر معاشرے، ملک یا آپ پر ہو سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ آپ نیچے دئے گئے کسی بھی ذرائع ابلاغ کے ذریعہ معلومات بھیج سکتے ہیں۔

ٹیگز

اپنی راے دیں

No more pages to load

متعلقہ مضامین

Next pageNext pageNext page

Post saved! You can read it later