فیکٹ چیک: کیجریوال اور عآپ سرکار پر نشانہ سادھتے ہوئے پنجاب پولیس کے نام پر وائرل ویڈیو پاکستان کا ہے
وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ وائرل کیا جا رہا ویڈیو بھارت کے پنجاب کا نہیں ہے۔ یہ ویڈیو پاکستان کے صوبہ پنجاب کا ہے۔ پاکستان کے ویڈیو کو جھوٹے دعوے کے ساتھ پھیلایا جا رہا ہے۔
- By: Umam Noor
- Published: Jan 20, 2025 at 06:49 PM
نئی دہلی (وشواس نیوز)۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہو رہا ہے، جس میں ایک رپورٹر کو پولیس اہلکار کے پیچھے بھاگتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ رپورٹر کو پولیس والے کے پیچھے بھاگتے وقت یہ کہتے سن سکتے ہیں کہ یہ پنجاب پولیس چرس بیچ بھی رہی ہے اور بکوا بھی رہی ہے۔ ہندوستان کی پنجاب پولیس کا حوالہ دے کر کیجریوال حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے ویڈیو کو مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کیا جا رہا ہے۔
وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ وائرل کیا جا رہا ویڈیو بھارت کے پنجاب کا نہیں ہے۔ یہ ویڈیو پاکستان کے صوبہ پنجاب کا ہے۔ پاکستان کے ویڈیو کو جھوٹے دعوے کے ساتھ پھیلایا جا رہا ہے۔
وائرل پوسٹ میں کیا ہے؟
وائرل پوسٹ کو شیئر کرتے ہوئے فیس بک صارف نے لکھا، ’’اسے کہتے ہیں.. ہائی لیول گراؤنڈ رپورٹنگ۔ اگر تمام رپورٹرز ایسے ہو جائیں تو ملک کو سدھرنے میں دیر نہیں لگے گی! ویسے بھی یہ کیجریوال کی پنجاب پولیس ہے بھائی نے چہرہ ظاہر نہیں ہونے دیا‘‘۔
پوسٹ کے آرکائیو ورژن کو یہاں دیکھیں۔
پڑتال
اپنی تحقیقات شروع کرنے کے لیے، ہم نے پہلے ویڈیو کو غور سے دیکھا۔ ویڈیو کے تین سیکنڈ کے فریم میں ہمیں پولیس اہلکار کی وردی پر پاکستانی پرچم نظر آیا۔

اس بنیاد پر، ہم نے اپنی تحقیقات کو آگے بڑھایا اور گوگل لینز کے ذریعے وائرل ویڈیو کے کی فریموں کو تلاش کیا۔ سرچ کرنے پر ہمیں یہ ویڈیو ایک ایکس صارف کے پروفائل پر 18 دسمبر 2024 کو اپ لوڈ کیا ہوا ملا۔ یہاں ویڈیو کے ساتھ دی گئی معلومات کے مطابق یہ پاکستان پنجاب کا ویڈیو ہے۔ اس ویڈیو میں ‘ایس اے ٹائمس’ کے نام کے ساتھ ایک لوگو نظر آیا۔
اس سلسلے میں مزید تحقیقات کرتے ہوئے، ہم نے گوگل پر ‘ایس اے ٹائمس’ تلاش کیا۔ اور اس نام کا فیس بک پیج ملا۔ وائرل ویڈیو اس پیج پر 20 نومبر 2024 کو اپ لوڈ کیا گیا تھا۔ یہاں بھی ویڈیو پنجاب، پاکستان کی بتایا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ ویڈیو میں لکھا ہے کہ پولیس اہلکار سرعام چرس فروخت کرتے ہوئے پکڑا گیا ہے۔ وائرل ویڈیو کا ایک طویل ورژن یہاں دیکھا جا سکتا ہے۔

اس کے علاوہ پولیس کی وردی پر پاکستان کا جھنڈا واضح نظر آرہا ہے اور اس ویڈیو میں رپورٹر کے مائیک پر ‘ایس اے ٹائمس‘ بھی دکھائی دے رہا ہے۔
وائرل ویڈیو کی تصدیق کے لیے ہم نے پاکستانی صحافی عادل علی سے رابطہ کیا اور اس وائرل پوسٹ کو شیئر کیا۔ انہوں نے ہمیں تصدیق کی کہ ویڈیو پاکستان کا ہی ہے۔
اب باری تھی فرضی پوسٹ شیئر کرنے والے فیس بک صارف ‘رمیش ورما موریا ونشی’ کی سوشل اسکیننگ کرنے کی۔ ہم نے پایا کہ صارف کو 21 ہزار لوگ فالو کرتے ہیں۔ ساتھ ہی اس پروفائل سے کسی خاص نظریے سے متاثر پوسٹس شیئر کی جاتی ہیں۔
نتیجہ: وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ وائرل کیا جا رہا ویڈیو بھارت کے پنجاب کا نہیں ہے۔ یہ ویڈیو پاکستان کے صوبہ پنجاب کا ہے۔ پاکستان کے ویڈیو کو جھوٹے دعوے کے ساتھ پھیلایا جا رہا ہے۔
- Claim Review : بھارت کی پنجاب پولیس کا ویڈیو۔
- Claimed By : FB User: Ramesh Verma Mauryavanshi
- Fact Check : جھوٹ
مکمل حقیقت جانیں... کسی معلومات یا افواہ پر شک ہو تو ہمیں بتائیں
سب کو بتائیں، سچ جاننا آپ کا حق ہے۔ اگر آپ کو ایسے کسی بھی میسج یا افواہ پر شبہ ہے جس کا اثر معاشرے، ملک یا آپ پر ہو سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ آپ نیچے دئے گئے کسی بھی ذرائع ابلاغ کے ذریعہ معلومات بھیج سکتے ہیں۔











