X
X

فیکٹ چیک: یوکرین کے مسلم فوجیوں کے ساتھ زیلنسکی کی افطار کی یہ ویڈیو سال 2023 کی ہے، حالیہ نہیں

وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ وائرل کیا جا رہا ویڈیو سال 2023 کا ہے۔ زیلنسکی نے یوکرین کے مسلم فوجیوں اور مذہبی رہنماؤں کے ساتھ اپریل 2023 کے رمضان میں افطار کیا تھا۔ پرانے ویڈیو کو حالیہ نتاظر سے جوڑ کر گمراہ کن حوالے سے وائرل کر دیا گیا ہے۔

  • By: Umam Noor
  • Published: Mar 7, 2025 at 04:59 PM

نئی دہلی (وشواس نیوز)۔ گزشتہ روز اوول ہاؤس میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور یوکرینی صدر ولودیمیر زیلینسکی کے درمیان ہونے والی تلخ بات چیت کے بعد عالمی رہنماؤں اور سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے اس معاملے پر مختلف ردعمل سامنے آئے ہیں۔ کچھ نے زیلینسکی کی حمایت کی تو کچھ نے ٹرمپ کے موقف کو سراہا۔ اسی دوران یوکرینی صدر زیلینسکی کا ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہا ہے، جس میں انہیں یوکرین کے فوجیوں کے ساتھ افطار کرتے ہوئے دیکھا ہے۔

ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے صارفین دعوی کر رہے ہیں کہ یہ ویڈیو اسی رمضان کے دوران کا ہے جس میں صدر زیلنسکی نے یوکرین کے مسلم فوجیوں کے ساتھ افطار کیا ہے۔ اس ویڈیو کو سوشل میڈیا کے مختلف پلٹ فارم پر ملتے جلتے دعوی کے ساتھ پھیلایا جا رہا ہے۔

وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ وائرل کیا جا رہا ویڈیو سال 2023 کا ہے۔ زیلنسکی نے یوکرین کے مسلم فوجیوں اور مذہبی رہنماؤں کے ساتھ اپریل 2023 کے رمضان میں افطار کیا تھا۔ پرانے ویڈیو کو حالیہ نتاظر سے جوڑ کر گمراہ کن حوالے سے وائرل کر دیا گیا ہے۔

کیا ہے وائرل پوسٹ میں؟

فیس بک صارف نے وائرل پوسٹ کو شیئر کرتے ہوئے لکھ، ’’یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی رمضان المبارک میں یوکرین کے مسلم فوجیوں کے ساتھ افطار میں شریک ہیں۔ #یوکرین #رمضان‘‘۔

پوسٹ کے آرکائیو ورژن کو یہاں دیکھیں۔

پڑتال

اپنی پڑتال کی شروعات ہم نے گوگل اوپن سرچ پر ’زیلنسکی افطار‘ کی ورڈ سے کی۔ سرچ میں ہمیں یوکرینی صدر کی آفیشیئل ویب سائٹ پر اس معاملہ سے متعلق خبر ملی۔ 7 اپریل 2023 کی خبر کے مطابق، ’یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے یوکرین کے مسلمان فوجیوں، کریمین تاتاریوں کی مجلس کے رہنماؤں اور مسلم نمائندوں کے ساتھ افطار میں شرکت کی۔یہ افطار کیف میں ہوا‘۔

وائرل ویڈیو میں ہمیں ’العین نیوز‘ کا لوگو نظر آیا۔ اسی بنیاد پر ہم نے اپنی پڑتال آگے بڑھائی اور العین نیوز کے ایکس ہینڈل پر وائرل ویڈیو کو سرچ کیا۔ سرچ کئے جانے پر ہمیں یہ ویڈیو 8 اپریل 2023 کو پوسٹ ہوئی ملی۔ یہاں ویڈیو کے ساتھ دی گئی معلومات کے مطابق، زیلینسکی نے کریمیائی تاتار ثقافتی مرکز میں رمضان کے دوران اپنے فوجیوں کے ساتھ افطار کیا ‘۔

اس معاملہ سے متعلق خبر ہمیں کیف انڈیپیڈینٹ ڈاٹ کام کی ویب سائٹ پر 8 اپریل 2023 کو شائع ہوئی ملی۔ خبر میں دی گئی معلومات کے مطابق، ’صدر ولادیمیر زیلنسکی نے 7 اپریل کو اعلان کیا کہ یوکرین نے رمضان کے دوران ’سرکاری’ افطار کی میزبانی کی اور ایک نئی روایت شروع کر رہا ہے۔ زیلنسکی نے اس کا اعلان اس وقت کیا جب انہوں نے 7 اپریل کو کیف کے وسط میں ایک مسجد کے باہر مسلمان رہنماؤں، سفارتی کور کے نمائندوں اور کریمین تاتار لوگوں کی مجلس کے ساتھ پہلی “سرکاری” افطار میں شرکت کی‘‘۔

وائرل ویڈیو سے متعلق تصدیق کے لئے ہم نے ہمارے ساتھ دینک جاگرن میں عالمی خبروں کو کوور کرنے والے سینئر کارسپانڈینٹ جے پی رنجن سے رابطہ کیا اور انہوں نے ہمیں تصدیق دیتے ہوئے بتایا کہ یہ ویڈیو پرانا ہے۔

اب باری تھی گمراہ کن پوسٹ کو شیئر کرنے والے فیس بک پیج ’شانِ بنُو اُمیّہ‘ کی سوشل اسکیننگ کرنے کی۔ ہم نے پایا کہ پیج کو بارہ سو لوگ فالوو کرتے ہیں۔

نتیجہ: وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ وائرل کیا جا رہا ویڈیو سال 2023 کا ہے۔ زیلنسکی نے یوکرین کے مسلم فوجیوں اور مذہبی رہنماؤں کے ساتھ اپریل 2023 کے رمضان میں افطار کیا تھا۔ پرانے ویڈیو کو حالیہ نتاظر سے جوڑ کر گمراہ کن حوالے سے وائرل کر دیا گیا ہے۔

  • Claim Review : صدر زیلنسکی نے یوکرین کے مسلم فوجیوں کے ساتھ حالیہ روز افطار کیا ہے۔
  • Claimed By : فیس بک پیج: شانِ بنُو اُمیّہ
  • Fact Check : گمراہ کن

مکمل حقیقت جانیں... کسی معلومات یا افواہ پر شک ہو تو ہمیں بتائیں

سب کو بتائیں، سچ جاننا آپ کا حق ہے۔ اگر آپ کو ایسے کسی بھی میسج یا افواہ پر شبہ ہے جس کا اثر معاشرے، ملک یا آپ پر ہو سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ آپ نیچے دئے گئے کسی بھی ذرائع ابلاغ کے ذریعہ معلومات بھیج سکتے ہیں۔

ٹیگز

اپنی راے دیں

No more pages to load

متعلقہ مضامین

Next pageNext pageNext page

Post saved! You can read it later