فیکٹ چیک: علی گڑھ میں نوجوان کے قتل کے نام پر گجرات میں شخص کی پٹائی کا ویڈیو غلط دعوی سے وائرل
وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ وائرل کئے جا رہے دونوں ہی معاملے الگ- الگ ہیں۔ گولیوں سے جس شخص پر حملہ ہوا وہ معاملہ علی گڑھ کا ہے۔ وہیں دوسرا ویڈیو گجرات کے احمد آباد کا اس وقت کا جب پولیس اہلکاروں نے ہولی سے پہلے مبینہ طور پر ہڑدنگ کرنے والوں کی سرعام پٹائی کی تھی۔ ان دونوں کیسز کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہے۔ فرضی دعوے کےساتھ دونوں کو جوڑ کر پھیلایا جا رہا ہے۔
- By: Umam Noor
- Published: Mar 17, 2025 at 03:50 PM
- Updated: Mar 17, 2025 at 04:30 PM
نئی دہلی (وشواس نیوز)۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر دو ویڈیوز سے بنی ایک ریل وائرل ہو رہی ہے۔ پہلی ویڈیو میں بائیک سوار ایک شخص پر گولیوں سے حملہ کرتے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں۔ وہیں دوسرے ویڈیو میں پولیس اہلکار ایک شخص کو ڈنڈوں سے پیٹتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔
ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے صارفین دعوی کر رہے ہیں کہ پہلے ویڈیو میں مسلم شخص کو گولیوں سے مارا گیا اور دوسرا دوسر ویڈیو اسی حملہ کرنے والے شخص کی پٹائی کا ہے۔ ویڈیو کو الگ۔ الگ پلیٹ فارم پر وائرل کیا جا رہا ہے۔
وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ وائرل کئے جا رہے دونوں ہی معاملے الگ- الگ ہیں۔ گولیوں سے جس شخص پر حملہ ہوا وہ معاملہ علی گڑھ کا ہے۔ وہیں دوسرا ویڈیو گجرات کے احمد آباد کا اس وقت کا جب پولیس اہلکاروں نے ہولی سے پہلے مبینہ طور پر ہڑدنگ کرنے والوں کی سرعام پٹائی کی تھی۔ ان دونوں کیسز کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہے۔ فرضی دعوے کےساتھ دونوں کو جوڑ کر پھیلایا جا رہا ہے۔
کیا ہے وائرل پوسٹ میں؟
انسٹاگرام صارف نے ’خان احمد جی‘ نے 16 مارچ کو وائرل پوسٹ کو شیئر کرتے ہوئے لکھا، ’’اللہ بھائی کو جنت نسیب فرمائے‘‘۔
پوسٹ کے آرکائیو ورژن کو یہاں دیکھیں۔

پڑتال
وائرل ہو رہی ایک ریل میں دو ویڈیو کا استعمال کیا گیا ہے، تو ہم نے دونوں ویڈیو کی الگ الگ پڑتال کرنے کا فیصلہ کیا۔
پہلا ویڈیو
پہلے ویڈیو کے ہم نے کی فریمس نکالے اور انہیں گوگل لینس کے ذریعہ سرچ کیا۔ سرچ کئے جانے پر ہمیں یہ ویڈیو ٹائمس ناؤ کے یوٹیوب چینل پر اپلوڈ کیا ہوا ملا۔ یہاں ویڈیو کے ساتھ دی گئی معلومات کے مطابق، یہ معاملہ علی گڑھ میں پیش آیا جہاں سحری ایک وقت ایک شخص کچھ بائیک سوار لوگوں نے گولی مار کر قتل کر دیا۔
اسی بنیاد پر نیوز سرچ کئے جانے پر ہمیں اس معاملہ سے متعلق خبر دینک جاگرن کی سائٹ پر 15 مارچ کو اپلوڈ کی ہوئی ملی۔ یہاں خبر میں بتایا گیا کہ، ’علی گڑھ کے روراور علاقہ میں حارث نام شخص پر گولیوں سے حملہ کا معاملہ سامنے آیا۔ حارص سحری کے وقت اپنے گھر کے باہر کھڑا تھا تبھی اچانک دو موٹرسائیکل آئیں اور اس پر حملہ کر دیا۔ اس حملے میں حارث کا انتقال ہو گیا۔
وہیں اس معاملہ پر پولیس کا کہنا ہے کہ حارث پر حملہ ممکنہ طور پر دشمنی کا نتیجہ ہے تاہم دیگر زاویوں سے بھی تفتیش کی جارہی ہے۔ اس کے علاوہ این ڈی ٹی وی کی خبر میں ہمیں ایک رشتہ دار شعیب کا اس معاملہ پر بیان بھی ملا، “ہم صبح 3 بجے کے قریب سحری کے لیے یہاں آئے تھے۔ اسی وقت حارث کو گولی مار دی گئی۔ کوئی دشمنی نہیں تھی۔ یہ لوگ (گولیاں چلانے والے) مجرم ہیں‘‘۔
وہیں انڈئن ایکپریس کی 16 مارچ کی خبر میں پولیس کے حوالے سے بتایا گیا کہ، ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے اور دستیاب سی سی ٹی وی فوٹیج کی جانچ کرکے مجرموں کی شناخت کرنے کی کوششیں جاری ہے۔ مکمل خبر یہاں پڑھیں۔
وائرل ویڈیو سے متعلق تصدیق کے لئے ہم نے ہماری ساتھی دینک جاگرن میں علی گڑھ کے سینئر رپورٹر سرجیت سے رابطہ کیا اور انہوں نے ہمیں تصدیق دیتے ہوئے بتایا کہ اس معاملہ میں ابھی تک کسی کی گرفتاری نہیں ہوئی ہے، پولیس تفتیش کر رہی ہے۔
دوسری ویڈیو
ویڈیو کے کی فریمس نکال کر ہم نے ویڈیو کو سرچ کیا۔ سرچ میں ہمیں لائیو منٹ کی ویب سائٹ پر اس معاملہ سے متعلق خبر ملی۔ 15 مارچ 2025 کی خبر کے مطابق، ’’گجرات پولیس نے جمعرات کے روز احمد آباد کے وسترال علاقے میں مبینہ طور پر مسافروں پر حملہ کرنے اور لاٹھیوں اور تلواروں سے گاڑیوں کی توڑ پھوڑ کرنے کے الزام میں ملزموں کی پٹائی کی‘‘۔

نیوز 24 آن لائن کی خبر میں بتایا گیا کہ، ’’گجرات میں ہولی سے ایک دن پہلے احمد آباد میں لا اینڈ آرڈر کو توڑتے ہوئے بھاوسر گینگ کے غنڈوں نے سڑکوں پر ہنگامہ کھڑا کیا اور مسافروں پر لاٹھیوں اور تلواروں سے حملہ کیا۔ اس کے ساتھ سڑک پر چلنے والی کئی گاڑیوں میں توڑ پھوڑ کی گئی۔ اس واقعہ کا ایک ویڈیو سامنے آیا، جس کے بعد احمد آباد پولیس حرکت میں آئی۔ اب پولیس نے ان غنڈوں کو پکڑ لیا اور انہیں بے دردی سے مارا‘‘۔
اب باری تھی فرضی پوسٹ کو شیئر کرنے والے انسٹاگرام صارف کی سوشل اسکیننگ کرنے کی۔ ہم نے پایا کہ صارف کو 218 لوگ فالوو کرتے ہیں۔
نتیجہ: وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ وائرل کئے جا رہے دونوں ہی معاملے الگ- الگ ہیں۔ گولیوں سے جس شخص پر حملہ ہوا وہ معاملہ علی گڑھ کا ہے۔ وہیں دوسرا ویڈیو گجرات کے احمد آباد کا اس وقت کا جب پولیس اہلکاروں نے ہولی سے پہلے مبینہ طور پر ہڑدنگ کرنے والوں کی سرعام پٹائی کی تھی۔ ان دونوں کیسز کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہے۔ فرضی دعوے کےساتھ دونوں کو جوڑ کر پھیلایا جا رہا ہے۔
- Claim Review : پہلے ویڈیو میں مسلم شخص کو گولیوں سے مارا گیا اور دوسرا دوسر ویڈیو اسی ملزم کی پٹائی کا ہے۔
- Claimed By : Instagram User- khan_ahmad_ji_
- Fact Check : گمراہ کن
مکمل حقیقت جانیں... کسی معلومات یا افواہ پر شک ہو تو ہمیں بتائیں
سب کو بتائیں، سچ جاننا آپ کا حق ہے۔ اگر آپ کو ایسے کسی بھی میسج یا افواہ پر شبہ ہے جس کا اثر معاشرے، ملک یا آپ پر ہو سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ آپ نیچے دئے گئے کسی بھی ذرائع ابلاغ کے ذریعہ معلومات بھیج سکتے ہیں۔











