X
X

فیکٹ چیک: رمضان کے دوران ایرانی حکومت کی طرف سے رکھے گئے راشن کے حوالے وائرل ہو رہی تصویر گامبیا کے فاؤنڈیشن کی ہے

وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں وائرل پوسٹ کے ساتھ کیا جا رہا دعوی فرضی پایا۔ یہ تصویر مغربی افریقہ کے ملک گامبیا کی ہے۔ اور اس تصویر کا تعلق ایک غیر سرکاری تنظیم سے ہے جنہوں نے ضرورت مندوں کے لئے راشن رکھا تھا۔ اس تصویر کو ایران کی حکومت سے جوڑ کر غلط دعوی کے ساتھ پھیلایا جا رہا ہے۔

  • By: Umam Noor
  • Published: Mar 18, 2025 at 03:47 PM
  • Updated: Mar 18, 2025 at 03:56 PM

نئی دہلی (وشواس نیوز)۔ سوشل میڈیا پر ایک مرتبہ پھر سے ایک فوٹو وائرل ہو رہی ہے جس میں میدان میں رکھے کھانے کے پیکٹس کو دیکھا جا سکتا ہے۔ تصویر کو شیئر کرتے ہوئے صارفین دعوی کر رہے ہیں کہ یہ تصویر ایران کی ہے جہاں ضرورت مندوں کے لئے راشن حکومت کی جانب سے کھلے میدان میں رکھا جاتا ہے۔ اور اس راشن کو بغیر کسی رجسٹریشن یا راشن کارڈ کے لے جانے کی اجازت ہوتی ہے۔

وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں وائرل پوسٹ کے ساتھ کیا جا رہا دعوی فرضی پایا۔ یہ تصویر مغربی افریقہ کے ملک گامبیا کی ہے۔ اور اس تصویر کا تعلق ایک غیر سرکاری تنظیم سے ہے جنہوں نے ضرورت مندوں کے لئے راشن رکھا تھا۔ اس تصویر کو ایران کی حکومت سے جوڑ کر غلط دعوی کے ساتھ پھیلایا جا رہا ہے۔

کیا ہے وائرل پوسٹ میں؟

فیس بک صارف نے وائرل پوسٹ کو شیئر کیا جس پر لکھا ہے، ’’ایران میں راشن میدان میں رکھ دیا گیا ہیں۔ کوئی بھی شخص اٹھا کر لے جاسکتا ہے۔ کسی پر پابندی نہیں ہے۔ نہ فوٹو سیشن یا سیلفی ہوگی۔ نہ رجسٹریشن نہ شناختی کارڈ اور نہ ہی سیاست ہوگی۔‘‘۔

پوسٹ کے آرکائیو ورژن کو یہاں دیکھیں۔

پڑتال

یہ پوسٹ اس سے قبل بھی سوشل میڈیا پر رمضان کے دوران اسی دعوی کے ساتھ وائرل ہو چکی ہے اور اس وقت ہماری پڑتال میں ہمیں یہ تصویر 2020 کو ایک ایکس صارف کی جانب سے اپلوڈ ہوئی ملی تھی۔ یہاں دی گئی معلومات کے مطابق، یہ تصویر 2019 کی رمضان کے دوران گامبیا میں امام جیتا فاؤنڈیشن کے ذریعہ تقسیم کئے گئے راشن کی ہے۔

اس کے علاوہ اس تصویر کو 2019 میں شائع ہوئے ایک آرٹیکل میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ یہاں آرٹیکل میں تصفیلی طور پر بتایا گیا کہ، ’شیخ امام، 25 سال کے تجربے کے ساتھ معروف افریقی معالج اور مشیر ہیں انہوں نے اپنی زندگی کے مسائل کو حل کرنے اور دنیا بھر کے گاہکوں کو مشورہ دینے کے لیے وقف کر رکھی ہے۔ رمضان کے اس مہینے کے دوران گامبیا میں خیراتی اداروں کی مدد سے انہوں نے دیہاتوں، اسکولوں اور یتیموں میں ضرورت مند لوگوں میں کھانا تقسیم کیا ہے‘۔

جب اس سے قبل مذکورہ فوٹو کو ایران کے حوالے سے وائرل کیا گیا تھا اس وقت ہم نے تصدیق کے لئے ایران کی فیکٹ چیکر فاطمہ کریم خان سے رابطہ کیا تھا اور وائرل پوسٹ ان کے ساتھ شیئر کی تھی۔ انہوں نے ہمیں بتایا تھا کہ، ’یقیناً یہ دعوی غلط ہے۔ یہ تصویر ایران کی نہیں ہے، پہلا یہ کہ اس طرح کے پیکج میں یہاں تیل فروخت نہیں ہوتا اور دوسرا، حکومت لوگوں کو اس قسم کا کریڈٹ کارڈ دیتی ہے جس سے وہ کھانے کا سامان خرید سکتے ہیں‘۔

گمراہ کن پوسٹ کو شیئر کرنےوالے فیس بک پیج کی سوشل اسکیننگ میں پایا کہ اس پیج کو چار لاکھ سے زیادہ لوگ فالوو کرتےہیں۔

نتیجہ: وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں وائرل پوسٹ کے ساتھ کیا جا رہا دعوی فرضی پایا۔ یہ تصویر مغربی افریقہ کے ملک گامبیا کی ہے۔ اور اس تصویر کا تعلق ایک غیر سرکاری تنظیم سے ہے جنہوں نے ضرورت مندوں کے لئے راشن رکھا تھا۔ اس تصویر کو ایران کی حکومت سے جوڑ کر غلط دعوی کے ساتھ پھیلایا جا رہا ہے۔

  • Claim Review : یہ تصویر ایران کی ہے جہاں ضرورت مندوں کے لئے راشن حکومت کی جانب سے کھلے میدان میں رکھا جاتا ہے۔
  • Claimed By : FB User- ASif Emmy
  • Fact Check : گمراہ کن

مکمل حقیقت جانیں... کسی معلومات یا افواہ پر شک ہو تو ہمیں بتائیں

سب کو بتائیں، سچ جاننا آپ کا حق ہے۔ اگر آپ کو ایسے کسی بھی میسج یا افواہ پر شبہ ہے جس کا اثر معاشرے، ملک یا آپ پر ہو سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ آپ نیچے دئے گئے کسی بھی ذرائع ابلاغ کے ذریعہ معلومات بھیج سکتے ہیں۔

ٹیگز

اپنی راے دیں

No more pages to load

متعلقہ مضامین

Next pageNext pageNext page

Post saved! You can read it later