فیکٹ چیک: غزہ کے زخمی بچوں کی 2023 کی تصویر، حالیہ بتاتے ہوئے وائرل
وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ وائرل کی جا رہی غزہ میں زخمی ہوئے بچوں کی یہ تصویر اکتوبر 2023 کی اسرائیلی حملے کے بعد کی ہے۔ پرانی تصویر کو حالیہ بتاتے ہوئے شیئر کیا جا رہا ہے۔
- By: Umam Noor
- Published: Apr 4, 2025 at 06:04 PM
- Updated: May 1, 2025 at 05:59 PM
نئی دہلی (وشواس نیوز)۔ سوشل میڈیا پر اسپتال کے اندر کی ایک تصویر وائرل ہو رہی ہے جس میں زخمی بچوں اور ایک خاتون کو دکھا جا سکتا ہے۔ تصویر کو شیئر کرتے ہوئے دعوی کیا جا رہا ہے کہ یہ فلسطین کے غزہ کی حالیہ فوٹو ہے۔
وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ وائرل کی جا رہی غزہ میں زخمی ہوئے بچوں کی یہ تصویر اکتوبر 2023 کی اسرائیلی حملے کے بعد کی ہے۔ پرانی تصویر کو حالیہ بتاتے ہوئے شیئر کیا جا رہا ہے۔
کیا ہے وائرل پوسٹ میں؟
فیس بک صارف نے وائرل ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے لکھا، ’’یہ کس جرم کی پائی ہے سزا پوچھتا ہے غزہ ہر جانب ہے بکھرا ہوا لاشوں کا منظَر غزہ زمین روئی فلک چیخا ہوا بھی رو دی مگر ظالم کے دل میں رحم پھر بھی نہ آیا لہو سے لکھ رہے ہیں وہ وفا کی داستاں جو کٹ رہے ہیں، جل رہے ہیں، مر نہیں رہے گرتی ہیں لاشیں بہتے ہیں آنسو جلتے ہیں گھر اے رب کوئی تو فیصلہ کر یہ ظلم کب تک۔ See less‘‘۔
پوسٹ کے آرکائیو ورژن کو یہاں دیکھیں۔
پڑتال
اپنی پڑتال کو شروع کرتے ہوئے سب سے پہلے ہم نے تصویر کے کی فریمس کو گوگل لینس کے ذریعہ سرچ کیا۔ سرچ میں ہمیں وائرل تصویر سے متعدد نیوز ویب سائٹ پر اپلوڈ ہوئی ملی۔ دی گارجئن کی ویب سائٹ پر اس فوٹو کو 12 اکتوبر 2023 کو اپلوڈ کیا گیا ہے۔ وہیں تصویر کے ساتھ دی گئی معلومات کے مطابق، ’اسرائیلی فضائی حملوں میں زخمی ہونے والے فلسطینی بچے شفاہ اسپتال میں زیر علاج ہیں‘۔

اسی بنیاد پر ہم نے اپنی پڑتال کو آگے بڑھایا اور وائرل تصویر ہمیں ڈیلی کو ڈاٹ یو کے کی ویب سائٹ پر 15 اکتوبر 2023 کو شائع ہوئی خبر میں ملی۔ دی گئی معلومات کے مطابق یہ شفاہ اسپتال کی تصویر ہے جہاں حملے میں زخمی ہوئے بچے علاج کرا رہے ہیں۔
سرچ کئے جانے پر ہمیں یہ تصویر سی این بی سی ٹی وی 18، آئرش نیوز، شیکاگو سن ٹائمز اور دیگر عالمی نیوز اداروں کے پلیٹ فارم پر شائع ہوئی خبر میں بھی ملی۔ اس تصویر کو اکتوبر 2023 میں شائع ہوئے آرٹیکلز میں دیکھا جا سکتا ہے۔
اب تک کی پڑتال سے یہ تو واضح تھا کہ وائرل کی جا رہی تصویر پرانی ہے حالاںکہ تصدیق کے لئے ہم نے مشرق وقط کے ماہر سوربھ شاہی سے رابطہ کیا اور انہوں نےہمیں بتایا کہ یہ تصویر پرانی ہے، حالیہ نہیں۔
گمراہ کن پوسٹ کو شئر کرنے والے فیس بک صارف کی سوشل اسکیننگ میں ہم نے پایا کہ صارف کا تعلق کشمیر سے ہے۔
نتیجہ: وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ وائرل کی جا رہی غزہ میں زخمی ہوئے بچوں کی یہ تصویر اکتوبر 2023 کی اسرائیلی حملے کے بعد کی ہے۔ پرانی تصویر کو حالیہ بتاتے ہوئے شیئر کیا جا رہا ہے۔
- Claim Review : یہ حالیہ غزہ کی تصویر ہے۔
- Claimed By : FB User- M Aijaz Malik
- Fact Check : گمراہ کن
مکمل حقیقت جانیں... کسی معلومات یا افواہ پر شک ہو تو ہمیں بتائیں
سب کو بتائیں، سچ جاننا آپ کا حق ہے۔ اگر آپ کو ایسے کسی بھی میسج یا افواہ پر شبہ ہے جس کا اثر معاشرے، ملک یا آپ پر ہو سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ آپ نیچے دئے گئے کسی بھی ذرائع ابلاغ کے ذریعہ معلومات بھیج سکتے ہیں۔











