فیکٹ چیک: یمن میں سرعام دی گئی سزا کے پرانے ویڈیو کو کیا جا رہا گمراہ کن دعوی سے وائرل
وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ وائرل کیا جا رہا ویڈیو یمن کا 2017 کا معاملہ ہے۔ پرانے ویڈیو کو گمراہ کن حوالے کےساتھ حالیہ بتاتے ہوئے پھیلایا جا رہا ہے۔
- By: Umam Noor
- Published: May 22, 2025 at 05:50 PM
نئی دہلی (وشواس نیوز)۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہو رہا ہے جس میں ایک شخص کو سر عام گولی مارے جاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ وہیں آس- پاس بھیڑ کو بھی نظر آرہی ہے۔ ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے دعوی کیا جا رہا ہے کہ یہ ویڈیو یمن کا ہے جہاں بچی کے ساتھ زیادتی کرنے والے شخص کو سر عام گولی مار دی گئی۔
وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ وائرل کیا جا رہا ویڈیو یمن کا 2017 کا معاملہ ہے۔ پرانے ویڈیو کو گمراہ کن حوالے کےساتھ حالیہ بتاتے ہوئے پھیلایا جا رہا ہے۔
کیا ہے وائرل پوسٹ میں؟
فیس بک صارف نے وائرل پوسٹ کو شیئر کرتے ہوئے لکھا،’’یمن میں 5 سالہ بچے سے زیادتی کے واقعہ کے 15 منٹ میں ختم: اسی دوران عدالت نے پولیس کو سرعام زیادتی کرنے کا حکم دے دیا۔ لوگ خوفزدہ ہوں گے اگر وہ مجرم کے ساتھ ایسا کرتے اور دوسروں کو ایسا کرنے کی حوصلہ شکنی کرتے‘‘۔
پوسٹ کے آرکائیو ورژن کو یہاں دیکھیں۔

پڑتال
اپنی پڑتال کو شروع کرتے ہوئے سبسے پہلے ہم نے ویڈیو کے کی فریمس نکالے اور انہیں گوگل لینس کے ذریعہ سرچ کیا۔ سرچ کئے جانے پر ہمیں یہ ویڈیو ڈیلی میل کی ویب سائٹ پر اپلوڈ کیا ہوا ملا۔ 17 اگست 2017 کو دی گئی معلومات کے مطابق، ’’چار سالہ صفا المطاری کو نومبر 2015 میں 25 سالہ حسین السکیت نے یمن میں اغوا کر کے قتل کر دیا تھا۔ حسین السکیت کو یمن کی ایک شرعی عدالت نے اغوا، عصمت دری اور قتل کے جرم میں موت کی سزا سنائی۔ جس کے بعد تحریر اسکوائر میں ایک بڑے ہجوم کے سامنے اسے گولی ماری گئی‘‘۔

اسی بنیاد پر ہم نے اپنی پڑتال کو آگے بڑھایا اور ہمیں اس معاملہ سے متعلق خبر مڈل ایسٹ مانیٹر کی ویب سائٹ پر شائع ہوئی ملی۔ 14 اگست 2017 کی خبر میں بتایا گیا کہ، ’یمن میں آج ایک ایسے شخص کے خلاف سزائے موت سنائی گئی جو ایک پانچ سالہ بچی کو اغوا کرنے، زیادتی کرنے اور اسے قتل کرنے کا مجرم پایا گیا تھا۔ یہ سزا دارالحکومت صنعاء کے تحریر اسکوائر میں دی گئی، جہاں حسین عبداللہ السکیت کو انتظار کرنے والے ہجوم کے سامنے گولی مار دی گئی۔ اس فیصلے کی سپریم کورٹ نے حمایت کی اور پولیٹیکل کونسل کے صدر نے عدالت کے ارکان، خصوصی فوجداری استغاثہ اور متاثرہ کے والدین کی موجودگی میں اس کی توثیق کی‘۔
وہیں انگلش العربیہ اور دی انڈیپینڈینٹ کی ویب سائٹ پر اس معاملہ سے متعلق خبر اگست 2017 کو شائع ہوئی ملی۔ ان خبروں کو یہاں اور یہاں پڑھا یا جا سکتا ہے۔
وائرل ویڈیو سے متعلق تصدیق کے لئے ہم نے یمن سے متعلق رکھنے والے سماجی کارکن ڈاکٹر سمیع الحج سے رابطہ کیا انہوں نے ہمیں بتایا کہ یہ ویڈیو پرانا ہے حالیہ نہیں۔
اب بارتی تھی فرضی پوسٹ کو شیئر کرنے والے فیس بک صارف کی سوشل اسکیننگ کرنے کی۔ ہم نے پایا کہ صارف کی جانب سے زیادہ تر ویڈیوز شیئر کی جاتی ہیں۔
نتیجہ: وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ وائرل کیا جا رہا ویڈیو یمن کا 2017 کا معاملہ ہے۔ پرانے ویڈیو کو گمراہ کن حوالے کےساتھ حالیہ بتاتے ہوئے پھیلایا جا رہا ہے۔
- Claim Review : یمن کا ہے جہاں بچی کے ساتھ زیادتی کرنے والے شخص کو پندرہ مینٹ کے اندر گولی مارنے کا حالیہ معامل۔
- Claimed By : FB User- Chacha Vlogger
- Fact Check : گمراہ کن
مکمل حقیقت جانیں... کسی معلومات یا افواہ پر شک ہو تو ہمیں بتائیں
سب کو بتائیں، سچ جاننا آپ کا حق ہے۔ اگر آپ کو ایسے کسی بھی میسج یا افواہ پر شبہ ہے جس کا اثر معاشرے، ملک یا آپ پر ہو سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ آپ نیچے دئے گئے کسی بھی ذرائع ابلاغ کے ذریعہ معلومات بھیج سکتے ہیں۔











