فیکٹ چیک: رانچی کے 2022 کے ویڈیو کو کیا جا رہا حالیہ بتاتے ہوئے گمراہ کن حوالے وائرل
وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ وائرل کیا جا رہا ویڈیو سال 2022 کا رانچی کا ہے۔ یہ معاملہ اس وقت کا ہے جب رانچی میں بی بی جے کی معطل رہنما نوپور شرما کے متنازعہ بیان کے خلاف احتجاج ہونا تھا اور بھیڑ جمع نا ہونے کے کئے سڑک پر پولیس اہلکاروں کی تعیناتی ہوئی تھی اور ایک نواجوان کو پولیس نے پیٹا تھا۔ اسی پرانے ویڈیو کو گمراہ کن حوالے کے ساتھ پھیلایا جا رہا ہے۔
- By: Umam Noor
- Published: Jul 10, 2025 at 04:14 PM
نئی دہلی (وشواس نیوز)۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہو رہا ہے جہاں سڑک پر صرف پولیس اہلکاروں کو دیکھا جا سکتا ہے، وہیں تبھی ایک نوجوان آجاتا ہے اور پولیس اہلکار اسے مارنے لگتے ہیں حالاںکہ وہ نوجوان وہاں سے بھاگ نکلتا ہے۔ اسی ویڈیو کو حالیہ بتاتے ہوئے شیئر کیا جا رہا ہے۔
وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ وائرل کیا جا رہا ویڈیو سال 2022 کا رانچی کا ہے۔ یہ معاملہ اس وقت کا ہے جب رانچی میں بی بی جے کی معطل رہنما نوپور شرما کے متنازعہ بیان کے خلاف احتجاج ہونا تھا اور بھیڑ جمع نا ہونے کے کئے سڑک پر پولیس اہلکاروں کی تعیناتی ہوئی تھی اور ایک نواجوان کو پولیس نے پیٹا تھا۔ اسی پرانے ویڈیو کو گمراہ کن حوالے کے ساتھ پھیلایا جا رہا ہے۔
کیا ہے وائرل پوسٹ میں؟
فیس بک پیج نے 7 جولائی وائرل پوسٹ کو شیئر کرتے ہوئے لکھا، ’’یہ دیکھو کس طرح سے ظلم کر رہے ہیں لوگوں پر عام لوگوں پر‘‘۔
پوسٹ کے آرکائیو ورژن کو یہاں دیکھیں۔
پڑتال
اپنی پڑتال کو شروع کرتے ہوئے سب سے پہلے ہم نے گوگل لینس کے ذریعہ وائرل ویڈیو کے کی فریمس کو سرچ کیا۔ سرچ کئے جانے پر ہمیں یہ ویڈیو ایک ایکس ہینڈل پر 11 جون 2022 کو اپلوڈ کیا ہوا ملا۔ یہاں ویڈیو کے ساتھ دی گئی معلومات کے مطابق، یہ معاملہ رانچی میں پیش آیا تھا۔
اسی بنیاد پر ہم نے اپنی پڑتال کو آگے بڑھایا اور ہمیں نیوز سرچ کئے جانے پر سبرنگ انڈیا ڈاٹ ان نام کی ویب سائٹ پر اس معاملے سے متعلق خبر ملی۔ وہیں اس ویڈیو میں وائرل ویڈیو کے اسکرین شاٹ کا بھی استعمال کیا گیا ہے۔

خبر میں دی گئی معلومات کے ‘مطابق، ’بی جے پی کی معطل رہنما نوپور شرما کے نفرت انگیز تبصروں کی مذمت کرنے کے لیے شہر کی سڑکوں پر جمع ہونے والے ہجوم کو دور کرنے کے لیے پولیس کو تعینات کیا گیا۔ اسی بیچ جمعہ کے احتجاج سے نمٹنے کے لیے تعینات سیکیورٹی اہلکاروں نے ایک نوجوان مسلم لڑکے کو ڈنڈے سے پیٹا۔ اس معاملہ سے متعلق پوری خبر یہاں پڑھی جا سکتی ہے۔
اس خبر میں ہمیں صحافی میر فیصل کی ذریعہ ایک پوسٹ پر شیئر کئے گئے ویڈیو کا حوالے دیا گیا ہے۔ خبر کے مطابق، اس ویڈیو کو صحافی میر فیصل نے اپنے ایک اکاؤنٹ پر جون 2022 کو شیئر کیا تھا۔

وائرل ویڈیو سے متعلق تصدیق کے لئے ہم نے صحافی میر فیصل سے ایکس کے ذریعہ رابطہ کرنے کی کوشش کی ہے، وہاں سے جواب آتی ہی خبر کو اپڈیٹ کیا جائےگا۔
وائرل ویڈیو کے بارے میں بات کرتے ہوئے دینک جاگرن کے راچی کے سینئر رپورٹر دلیپ کمار نے بتایا کہ یہ معاملہ سال 2022 میں پیش آیا تھا جب اتحجاج کے خلاف پولیس تعینات کی گئی تھی۔
اب باری تھی فرضی پوسٹ کو شیئر کرنے والے فیس بک پیج کی سوشل اسکیننگ کرنے کی۔ ہم نے پایا کہ پیج کو دس ہزار لوگ فالوو کرتے ہیں۔
نتیجہ: وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ وائرل کیا جا رہا ویڈیو سال 2022 کا رانچی کا ہے۔ یہ معاملہ اس وقت کا ہے جب رانچی میں بی بی جے کی معطل رہنما نوپور شرما کے متنازعہ بیان کے خلاف احتجاج ہونا تھا اور بھیڑ جمع نا ہونے کے کئے سڑک پر پولیس اہلکاروں کی تعیناتی ہوئی تھی اور ایک نواجوان کو پولیس نے پیٹا تھا۔ اسی پرانے ویڈیو کو گمراہ کن حوالے کے ساتھ پھیلایا جا رہا ہے۔
- Claim Review : مسلم نوجوان پر تشدد کا حالیہ معاملہ۔
- Claimed By : FB Page- Kashmir news alert22
- Fact Check : گمراہ کن
مکمل حقیقت جانیں... کسی معلومات یا افواہ پر شک ہو تو ہمیں بتائیں
سب کو بتائیں، سچ جاننا آپ کا حق ہے۔ اگر آپ کو ایسے کسی بھی میسج یا افواہ پر شبہ ہے جس کا اثر معاشرے، ملک یا آپ پر ہو سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ آپ نیچے دئے گئے کسی بھی ذرائع ابلاغ کے ذریعہ معلومات بھیج سکتے ہیں۔











