فیکٹ چیک: پاکستان مقبوضہ کشمیر میں 2019 میں ائے زلزلہ کی تصویر کو افغانستان کا بتاتے ہوئے کیا جا رہا وائرل
سوشل میڈیا پر ایک ٹوٹی ہوئی سڑک کی تصویر وائرل ہو رہی ہے۔ وائرل تصویر کو شیئر کرتے ہوئے دعوی کیا جا رہا ہے کہ یہ افغانستان میں آئے حالیہ زلزلہ کی ہے۔
- By: Umam Noor
- Published: Sep 3, 2025 at 02:50 PM
نئی دہلی (وشواس نیوز)۔ گزشتہ روز افغانستان میں ایک زبردست زلزلہ آیا ہے۔ زلزلہ کے سبب کئی جانیں بحق ہو گئیں۔ اسی بیچ سوشل میڈیا پر ایک ٹوٹی ہوئی سڑک کی تصویر وائرل ہو رہی ہے۔ وائرل تصویر کو شیئر کرتے ہوئے دعوی کیا جا رہا ہے کہ یہ افغانستان میں آئے حالیہ زلزلہ کی ہے۔
وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ وائرل کیا جا رہا دعوی گمراہ کن ہے۔ اس تصویر کو افغانستان میں حالیہ روز آئے زلزلہ سے کوئی تعلق نہیں ۔ یہ 2019 میں پاکستان کے قبضے والے کشمیر میں ائے زلزلہ کی تصویر ہے۔
کیا ہے وائرل پوسٹ میں؟
فیس بک صارف نے وائرل تصویر کو 31 اگست کو شیئر کرتے ہوئے لکھا ’’افغانستان ایک بار پھر بڑے سانحے سے دوچار کنڑ اور ننگرہار کے پہاڑی علاقوں میں ریکٹر اسکیل پر 6.0 شدت کا خوفناک زلزلہ آیا ہے۔‘‘۔
پوسٹ کے آرکائیو ورژن کو یہاں دیکھیں۔
پڑتال
اپنی پرتال کو شروع کرتے ہوئے سب سے پہلے ہم نے گوگل لینس کے ذریعہ وائرل تصویر کو سرچ کیا۔ سرچ کئے جانے پر ہمیں یہ تصویر 25 سمتبر 2019 کو شائع ہوئی ایک میں خبر میں ملی۔ ملی۔ خبر کے مطابق یہ تصویر مقبوضہ کشمیر میں آئے زلزلے کی ہیں۔ 5.8 شدت کے زلزلے کا مرکز پی او کے میرپور شہر کے قریب تھا‘۔ مکمل خبر یہاں پڑھی جا سکتی ہے۔

اسی بنیاد پر سرچ کئے جانے پر ہمیں یہ فوٹو ریئل ٹائم زلزلوں کی جانکاری دینے والے ادارے ای ایم ایس سی کے آفیشیئل ایکس ہینڈل پر بھی 24 ستمرب 2019 کو پوسٹ کی ہوئی ملی۔ یہاں بھی تصویر کے ساتھ دی گئی معلومات کے مطابق یہ فوٹو پاکستان کے قبضے والے کشمیر میں آئے زلزلے کی ہے۔
یہ تصویر جب اس سے قبل وائرل ہوئی تھی اس وقت کی تصدیق کے لئے ہم نے افغانستان کے صحافی جاوید تنویر سے رابطہ کیا۔ انہوں نے بھی تصدیق دیتے ہوئے بتایا تھا کہ یہ فوٹو افغانستان کی نہیں ہے۔
انقلاب کی دو ستمبر کی خبر کے مطابق، ’افغانستان کےکونر صوبے میں اتوار کی رات گئے تباہ کن زلزلے کے نتیجے میں کم از کم 812؍ افراد جاں بحق اور تقریباً تین ہزار افراد زخمی ہوگئے۔ ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کابل میں پریس کانفرنس کی اور بتایا کہ طاقتور زلزلے کے نتیجے میں بیشتر جانی نقصان صوبہ کونر میں ہوا جہاں800؍ سے زائد افراد جاں بحق اور کئی ہزار زخمی ہوئے ہیں‘‘۔
اب باری تھی گمراہ کن پوسٹ کو شیئر کرنے والے فیس بک صارف کی سوشل اسکیننگ میں ہم نے پایا کہ صارف محمد انس کو دو لالھ تیس ہزار سے زیادہ لوگ فالوو کرتے ہیں۔ وہیں صارف فیس بک پر کافی سرگرم رہتا ہے۔
- Claim Review : یہ افغانستان میں آئے حالیہ زلزلہ کی ہے۔
- Claimed By : fb user- Mohd Anas
- Fact Check : گمراہ کن
مکمل حقیقت جانیں... کسی معلومات یا افواہ پر شک ہو تو ہمیں بتائیں
سب کو بتائیں، سچ جاننا آپ کا حق ہے۔ اگر آپ کو ایسے کسی بھی میسج یا افواہ پر شبہ ہے جس کا اثر معاشرے، ملک یا آپ پر ہو سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ آپ نیچے دئے گئے کسی بھی ذرائع ابلاغ کے ذریعہ معلومات بھیج سکتے ہیں۔











