فیکٹ چیک: منی پور کے پرانے ویڈیو کو کیا جا رہا پی ایم مودی کے حالیہ دورے کے بعد وائرل
گزشتہ روز وزیر اعظم نریندر مودی نے منی پور کا دورہ کیا ہے۔ اسی بیچ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہو رہا ہے۔
- By: Umam Noor
- Published: Sep 17, 2025 at 06:20 PM
- Updated: Sep 17, 2025 at 06:28 PM
نئی دہلی (وشواس نیوز)۔ گزشتہ روز وزیر اعظم نریندر مودی نے منی پور کا دورہ کیا ہے۔ اسی بیچ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہو رہا ہے۔ وائرل ہو رہے اس ویڈیو میں ایک جگہ پر کچھ لوگوں کو سڑکوں کو دیکھا جا سکتا ہے۔ ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے دعوی کیا جا ہا ہے کہ پی ایم مودی کے حالیہ منی پور دورے کے بعد چوراچندپور میں تشدد بھڑک اٹھا اور یہ اسی کا منظر ہے۔
وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ وائرل کیا جا رہا دعوی گمراہ کن ہے۔ وائرل ہو رہا ہے یہ ویڈیو منی پور کا سال 2015 کا ہے۔ پرانے ویڈیو کو پی ایم مودی کے حالیہ منی پور دورے کے بعد وائرل کیا جا رہا ہے۔
کیا ہے وائرل پوسٹ میں؟
فیس بک صارف نے وائرل پوسٹ کو شیئر کرتے ہوئے لکھا، ’’مودی کے $#@ چرن پڑتے ہی بھارتی ریاست منی پور کے حالات ایک بار پھر قابو سے باہر پوری ریاست میں پرتشدد احتجاجی مظاہرے جاری ہیں گزشتہ روز #چوراچندر پور میں کئی گھر جلا دیے گئے‘‘۔
پوسٹ کے آرکائیو ورژن کو یہاں دیکھیں۔

پڑتال
اپنی پڑتال کو شروع کرتے ہوئے سب سےپہلے ہم نے گوگل لینس کے ذریعہ میں وائرل ویڈیو کو کے فریمس کو تلاش کیا۔ سرچ کئے جانے پر ہمیں یہ ویڈیو ایک یوٹیوب چینل پر 7 ستمبر 2015 کو اپلوڈ کیا ہوا ملا۔ یہاں دی گئی معلومات کے مطابق، منی پور اسمبلی سے تین متنازعہ اراضی بل کی منظوری کے بعد منی پور میں پرتشدد مظاہرے پھوٹ پڑے۔ منی پور۔ اس فوٹیج میں چورا چند پور کے لامکا پولیس اسٹیشن کے باہر مشتعل ہجوم کو پکڑ لیا گیا ہے جب یہ پتہ چلا کہ پولیس نے ان پر آنسو گیس کے گولے برسائے‘‘۔
ٹائم ٹول کی مدد سے ہم نے اپنی پڑتال کو آگے بڑھایا اور ہمیں دی ٹیلی گراف انڈیا کی ویب سائٹ پر دو ستمبر 2015 کو شائع ہوئی خبر ملی۔ دی گئی معلومات کے مطابق، یہ احتجاج زمین بل کو لے کر ہوا تھا۔ خبر میں بتایا گیا کہ، ‘منی پور اراضی قانون میں ترمیم کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے کل رات سے چورا چند پور ضلع میں سات افراد ہلاک ہوچکے ہیں، جس سے انتظامیہ کو کل صبح 5 بجے تک کرفیو نافذ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ جہاں آج پولیس کی فائرنگ میں تین مظاہرین کی موت ہو گئی، کل رات آتشزدگی اور تشدد کے دوران چار کی موت ہو گئی اور 30 سے زائد زخمی ہوئے، جن میں سے 15 کی حالت تشویشناک ہے‘۔
اس معاملہ کی نیو انڈئن ایکسپریس کی خبر دو سمتبر 2015 کی خبر کے مطابق، منی پور کے چورا چند پور ضلع میں آج اس وقت تین افراد ہلاک ہو گئے جب پولیس نے مظاہرین پر گولی چلائی جس سے رات بھر میں مرنے والوں کی تعداد آٹھ ہو گئی کیونکہ وہاں تازہ تشدد پھوٹ پڑا جس سے حکام کو کل رات نافذ غیر معینہ مدت کے کرفیو کو جاری رکھنے پر مجبور کر دیا گیا۔ پولیس نے بتایا کہ انہوں نے چوراچند پور پولیس اسٹیشن پر حملہ کرنے والے ہجوم پر فائرنگ کی جس سے تین مشتعل افراد ہلاک ہوگئے۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں سے دو کی عمر 30 سال تھی جبکہ دوسرے کی عمر 10 سال تھی‘۔
وائرل ویڈیو سے متعلق تصدیق کے لئے ہم نے منی پوری کے صحافی لک سنگھ سے رابطہ کیا۔ انہوں نے ہمیں بتایا کہ یہ ویڈیو کئی سال پرانا ہے۔
اب باری تھی فرضی پوسٹ کو شیئر کرنے والے فیس بک صارف کی سوشل اسکیننگ کرنے کی۔ ہم نے پایا کہ صارف کا تعلق پاکستان کے لاہور سے ہے۔ وہیں صارف کو چار ہزا سے زیادہ لوگ فالوو کرتے ہیں۔
- Claim Review : پی ایم مودی کے حالیہ منی پور دورے کے بعد چوراچندپور میں تشدد بھڑک اٹھا اور یہ اسی کا منظر ہے۔
- Claimed By : FB User- Amna Aman
- Fact Check : گمراہ کن
مکمل حقیقت جانیں... کسی معلومات یا افواہ پر شک ہو تو ہمیں بتائیں
سب کو بتائیں، سچ جاننا آپ کا حق ہے۔ اگر آپ کو ایسے کسی بھی میسج یا افواہ پر شبہ ہے جس کا اثر معاشرے، ملک یا آپ پر ہو سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ آپ نیچے دئے گئے کسی بھی ذرائع ابلاغ کے ذریعہ معلومات بھیج سکتے ہیں۔











