فیکٹ چیک: 2011 میں ہوئی تھی اکھیلیش یادو کی گرفتاری، اس وقت کا ویڈیو ایک مرتبہ پھر وائرل

نئی دہلی (وشواس نیوز)۔ سوشل میڈیا پر اترپردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اکھیلیش یادو کا ایک ویڈیو وائرل ہو رہا ہے۔ اس ویڈیو کو لے کر دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ جب اکھیلیش یادو جموں و کشمیر سے ختم کی گئی دفعہ 370 کے خلاف مظاہرہ کر رہے تھے، اس وقت یو پی پولیس نے انہیں حراست میں لے لیا۔ یہ ویڈیو سون بھدر کے نام سے بھی وائرل ہو رہا ہے۔

وشواس ٹیم کی پڑتال میں یہ دعویٰ فرضی نکلا۔ وائرل ہو رہا ویڈیو پہلے بھی متعدد مرتبہ غلط حوالے کے ساتھ وائرل ہو چکا ہے۔ ویڈیو 9 مارچ 2011 کا ہے۔ اس دن صبح اکھیلیش یادو کو گرفتار کیا گیا تھا، کیوں کہ یو پی میں تین دن سے مسلسل ریاستی حکومت کے خلاف ایس پی کارکنان مظاہرہ کر رہے تھے۔ اس وقت ریاست میں مایاوتی کی حکومت تھی۔

کیا ہے وائرل پوسٹ میں

سندیپ آنند بھاردواج نام کے فیس بک صارف نے 9 اگست کو اکھیلیش یادو سے متعلق ایک ویڈیو اپ لوڈ کرتے ہوئے لکھا، ’’یوگی جی کی یو پی پولیس۔ گھسیٹتے ہوئے ٹیپو سلطان لے جایا گیا۔ 370 کے خلاف ہو رہا تھا مظاہرہ۔ مودی، امت شاہ کے بعد یوگی جی اور ان کی پولیس ایکشن میں، دھکہ مکی اور عزت کے ساتھ اٹھوایا اکھیلیش کو‘‘۔

یہ ویڈیو فیس بک کے علاوہ سوشل میڈیا کے دیگر پلیٹ فارمس پر بھی لگاتار وائرل ہو رہا ہے۔

پڑتال

ویڈیو کی پڑتال شروع کرنے سے پہلے وشواس نیوز نے 1:29 منٹ کے ویڈیو کو متعدد مرتبہ دیکھا۔ آخر کار ویڈیو کے اخر میں ہمیں ایک سراغ ملا۔ وائرل پوسٹ میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اکھیلیش یادو 370 کے خلاف مظاہرہ کر رہے تھے، اسلئے پولیس نے ان کے خلاف سخت قدم اٹھایا۔ حالاںکہ، ویڈیو کو غور سے دیکھیں تو آخر میں اکھیلیش یادو کی گاڑی کو چلا رہے ڈرائیور کو سویٹر پہنے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ اب یہ تو واضح ہو چکا تھا کہ وائرل ویڈیو موجودہ وقت کا نہیں، بلکہ سرد موسم کا ہے۔

اس کے بعد ہم نے ویڈیو کو ان ویڈ ٹول میں اپ لوڈ کر کے متعدد اسکرین شاٹ نکالے اور اسے گوگل رورس امیج ٹول کے ذریعہ سرچ کیا۔ سرچ کے دوران ہمیں پتہ چلا کہ یہ ویڈیو 2017 میں بھی فرضی حوالے کے ساتھ وائرل ہو چکا ہے۔ ہم نے اپنی پڑتال کو جاری رکھنے کے لئے گوگل رورس امیج میں سرچ کے ساتھ‘ اکھیلیش یادو گرفتار‘ جیسے کی ورڈ بھی لکھا۔ آخرکار ہمیں ٹائمس ناؤ کا ایک ویڈیو ملا۔ اس ویڈیو کو چینل کے یو ٹیوب اکاونٹ پر 9 مارچ 2011 کو اپ لوڈ کیا گیا تھا۔

خبر میں بتایا گیا کہ لکھئنو میں اکھیلیش یادو کو حراست میں لیا گیا، کیوں کہ ریاست میں مایاوتی حکومت کے خلاف ایس پی کارکنان مظاہرہ کر رہے تھے۔ پوری خبر آپ یہاں دیکھ سکتے ہیں۔

اس کے بعد ہم نے گوگل سرچ میں ’اکھیلیش یادو گرفتار‘ کی ورڈ کے ساتھ ٹائم ٹول کا استعمال کرتے ہوئے خبر کو سرچ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے لئے ہم نے ٹائم لائن میں 9 مارچ 2011 سے لے کر 11 مارچ 2011 تک کی تاریخ فکس کی۔

سرچ میں ہمیں آج تک کی ویب سائٹ پر موجود ایک خبر کا لنک ملا۔ خبر میں بتایا گیا تھا، ’’سماجوادی پارٹی کی جانب سے اترپردیش کی پالیسیوں کے خلاف کئے جا رہے تین روزہ تحریک کے آخری روز بدھ کو ایس پی کے ریاستی صدر اور رکن پارلیمنٹ اکھیلیش یادو کو پولیس نے گرفتار کر لیا‘‘۔

آج تک کی ویب سائٹ پر یہ خبر 9 مارچ 2011 کو شائع کی گئی تھی۔

اس کے بعد وشواس نیوز نے ایس پی ترجمان عمیک جمائی سے رابطہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اکھیلیش یادو کو گرفتار کرنے والے جس ویڈیو کو اب وائرل کیا جا رہا ہے کہ، وہ پہلے بھی متعدد مرتبہ وائرل ہو چکا ہے۔ دراصل ویڈیو کی حقیقت یہ ہے کہ 2011 میں اکھیلیش یادو کو حراست میں لیا گیا تھا۔ اس وقت صوبہ میں یوگی آدیتہ ناتھ کی نہیں، بلکہ مایاوتی کی حکومت تھی۔

آخر میں وشواس نیوز نے اکھیلیش یادو کے پرانے ویڈیو کو اب کا بتا کر وائرل کرنے والے فیس بک صارف سندیپ آنند کی سوشل اسکیننگ کی۔ ہمیں پتہ چلا کہ اس اکاؤنٹ کو 325 لوگ فالوو کرتے ہیں۔ ہماری جانچ میں پتہ چلا کہ یہ ایک فرضی اکاونٹ ہے۔

نتیجہ: وشواس ٹیم کی پڑتال میں پتہ چلا کہ اکھیلیش یادو کا وائرل ہو رہا ویڈیو مارچ 2011 کا ہے۔ اس وقت یو پی میں مایاوتی کی حکومت تھی۔ ریاست میں ایس پی کے کارکنان حکومت کے خلاف مظاہرہ کر رہے تھے۔ اکھیلیش یادو جب دہلی سے لکھئنو لوٹ رہے تھے انہیں اموسی ایئر پورٹ کے باہر نکلتے ہی حراست میں لیا گیا تھا۔

مکمل سچ جانیں…سب کو بتائیں

اگر آپ کو ایسی کسی بھی خبر پر شک ہے جس کا اثر آپ کے معاشرے اور ملک پر پڑ سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ ہمیں یہاں جانکاری بھیج سکتے ہیں۔ آپ ہم سے ای میل کے ذریعہ رابطہ کر سکتے ہیں
contact@vishvasnews.com 
اس کے ساتھ ہی واٹس ایپ (نمبر9205270923 ) کے ذریعہ بھی اطلاع دے سکتے ہیں۔

  • Claim Review : دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ جب اکھیلیش یادو جموں و کشمیر سے ختم کی گئی دفعہ 370 کے خلاف مظاہرہ کر رہے تھے، اس وقت یو پی پولیس نے انہیں حراست میں لے لیا۔
  • Claimed By : FB User- Sandeep Anand Bharadwaj
  • Fact Check : False
False
    Symbols that define nature of fake news
  • True
  • Misleading
  • False

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Post saved! You can read it later