X

فیکٹ چیک: 2017 میں ادے پور میں نکالی گئی تھی ریلی، ویڈیو اب دہلی انتخابات کے نام پر وائرل

  • By Vishvas News
  • Updated: February 15, 2020

نئی دہلی (وشواس نیوز)۔ دہلی انتخابات کو لے کر سوشل میڈیا پر اس بار کئی طرح کے جھوٹ دیکھنے کو ملے۔ اسی ضمن میں ایک ویڈیو کو وائرل کرتے ہوئے متعدد صارفین دعویٰ کر رہے ہیں کہ دہلی انتخابات میں کچھ مسلمانوں نے متنازعہ نعرے لگائے ہیں۔

وشواس نیوز نے جب وائرل ویڈیو کی پڑتال کی تو ہمیں پتہ چلا کہ یہ راجستھان کے ادے پور کا ہے۔ دسمبر 2017 کو ادے پور کے چیتک سرکل پر کچھ مسلمانوں نے شمبھو ریگر کو سخت سزا دینے کے لئے ریلی نکالی تھی۔

کیا ہے وائرل پوسٹ میں؟

فیس بک صارف ’ابھیشیک بسواس‘ نے 9 فروری کو اپنے اکاونٹ پر ایک پرانا ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا
‘‘the #DelhiPolls2020, Muslim goons chant a provocative slogan against Hindus to boast Islamic supremacy.”

صارف نے فیس بک پر پوسٹ شیئر کرتے ہوئے پاکستانی نژاد کینیڈین مصنف طارق فتح کا ٹویٹ ایمبیڈ کیا ہوا تھا۔ اس ٹویٹ میں ہمیں وہی ویڈیو ملا جسے وائرل کیا جا رہا ہے۔ ٹویٹ کے آریکائیو ورژن کو یہاں دیکھیں۔

پڑتال

وشواس نیوز نے سب سے پہلے وائرل ویڈیو کو غور سے دیکھا۔ اس میں لوگوں کو نعرے لگاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ ویڈیو میں ہمیں سڑک پر ایک سفید رنگ کے گھوڈے کا مجسمہ بھی نظر آرہا ہے۔

اس کے بعد ہم نے ان ویڈ میں اس ویڈیو کو اپ لوڈ کر کے کئی ویڈیو گریب نکالے اور ینڈکس کی مدد سے سرچ کیا۔ کچھ دیر کی تفتیش کے بعد ہمیں ایک ویڈیو ’بلوارا اسٹار‘ نام کے یوٹیوب چینل پر ملا۔ اسے 13 دسمبر 2017 کو اپ لوڈ کیا گیا تھا۔ اس میں بتایا گیا کہ ادے پور میں مسلمانوں نے شمبھو ریگر کی مخالفت کرتے ہوئے ریلی نکالی۔

اس کے بعد ہم نے پھر سے سرچ جاری رکھا۔ ہمیں سب سے پرانا ویڈیو میوار آج تک نیوز کے یوٹیوب چینل پر ملا۔ 13 دسمبر 2017 کو اپ لوڈ کئے گئے اس ویڈیو میں بتایا گیا کہ ادے پور کے چیتک سرکل پر مسلمانوں نے شمبھو ریگر کے خلاف ریلی نکالی۔

پڑتال کے دوران ہم نے گوگل میں چیتک سرکل، ادے پور لکھ کر سرچ کیا۔ ہمیں پتہ چلا کہ ادے پور میں چیتک سرکل ہے۔ اب ہمیں وہاں کی اصل تصاویر چاہئے تھیں۔ اس کے لئے ہم نے گوگل امیج میں جاکر چیتک سرکل سرچ کیا۔ ہمارے سامنے متعدد تصاویر تھیں۔ جب ہم نے ان تصاویر کو وائرل ہو رہے ویڈیو کے گریب سے ملایا تو ہمیں بہت سے چیزیں ملتی جلتی نظر آئیں۔

دہلی کے نام پر وائرل ہو رہے ویڈیو میں سرکل پر ایک سفید رنگ کے گھوڈے کے مجسمہ دکھا۔ یہیں ہمیں داے پور کے چیتک سرکل کی اصل تصویر بھی نطر آئی۔ اسی طرح دونوں تصاویر میں گھوڈے کے علاوہ پول اور پیچھے کی عمارت بھی ایک ہی تھی۔ مطلب صاف تھا کہ ویڈیودہلی کا نہیں، ادے پور کے چیتک سرکل کا ہے۔

اس کے بعد ہم نے میواڑ آج تک نیوز کے مالک ہیمنت سنگھ چندانا سے رابطہ کیا۔ انہوں نے وشواس نیوز سے بات چیت میں بتایا، ’’دہلی کے نام پر اب وائرل ہو رہے ویڈیو ادے پورے چیتک سرکل کا ہے۔ 2017 کے دسمبر میں شمبھو ریبر کے خلاف مسلم برادری کے لوگوں نے ایک ریلی نکال کر متنازعہ نعرے لگائے تھے۔ ویڈیو اسی دوران کا ہے۔‘‘۔

اب باری تھی اس پوسٹ کو فرضی حوالے کے ساتھ شیئر کرنے والے فیس بک صارف ’ابھیشیک بسواس‘ کی سوشل اسکیننگ کرنے کی۔ ہم نے پایا کہ اس صارف نے اس سے قبل بھی فرضی پوسٹ شیئر کی تھیں۔ علاوہ ازیں اس پروفائل سے ایک مخصوص آئڈیولاجی کی جانب متوجہ خبروں کو شیئر کیا جاتا ہے۔

نتیجہ: وشواس نیوز کی پڑتال میں پتہ چلا کہ دہلی انتخابات میں مسلمانوں کی ریلی والی پوسٹ فرضی ہے۔ یہ ریلی 2017 میں ادے پور میں شمبھو ریگر کے خلاف نکالی گئی تھی۔

  • Claim Review : In the #DelhiPolls2020, Muslim goons chant a provocative slogan against Hindus to boast Islamic supremacy.
  • Claimed By : FB User- Abhishek Biswas
  • Fact Check : جھوٹ‎
جھوٹ‎
    فرضی خبروں کی نوعیت کو بتانے والے علامت
  • سچ
  • گمراہ کن
  • جھوٹ‎

مکمل حقیقت جانیں... کسی معلومات یا افواہ پر شک ہو تو ہمیں بتائیں

سب کو بتائیں، سچ جاننا آپ کا حق ہے۔ اگر آپ کو ایسے کسی بھی میسج یا افواہ پر شبہ ہے جس کا اثر معاشرے، ملک یا آپ پر ہو سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ آپ نیچے دئے گئے کسی بھی ذرائع ابلاغ کے ذریعہ معلومات بھیج سکتے ہیں۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Post saved! You can read it later