X

فیکٹ چیک: برقع پہن کر ووٹ ڈالنے کا ویڈیو فرضی ہے، 9 ماہ قبل سری لنکا میں پکڑا گیا تھا یہ آدمی

  • By Vishvas News
  • Updated: May 10, 2019

نئی دہلی (وشواس ٹیم)۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہو رہا ہے۔ اس میں ایک آدمی برقع میں پولیس حراست میں ہے۔ دعوی کیا جا رہا ہے کہ یہ مسلم عورت بن کر ووٹ ڈالنے آیا تھا۔ وشواس ٹیم کی جانچ میں یہ دعوی فرضی ثابت ہوا۔

کیا ہے وائرل پوسٹ میں

فیس بک پر نوین گری نام کے ایک یوزر نے فرضی ویڈیو اپ لوڈ کرتے ہوئے لکھا: ’’ووٹ ڈالنے آئی مسلم عورت کے ساتھ بدسلوکی‘‘۔ اس ویڈیو کو فیس بک پر 6 مئی 2019 کو 2:53 بجے دو پہر میں اپ لوڈ کیا گیا۔ اس ویڈیو کو اب تک 100 سے زیادہ لوگ شیئر کر چکے ہیں۔

پڑتال

وشواس ٹیم نے سب سے پہلے وائرل ویڈیو کو غور سے دیکھا۔ ہم نے سب سے پہلے اوریجنل ویڈیو کو تلاش کرنے کی کوشش کی۔ فیس بک پر موجود وائرل ویڈیو کے لنک کو ہم نے ان ویڈ (نیچے انگریزی میں دیکھیں) ٹول میں ڈال کر سرچ کیا۔ یہاں اس ویڈیو کے کئی فریم بن گئے۔ اسی میں سے ایک فریم کو ہم نے گوگل ریورس امیج کے ذریعے سرچ کیا۔ ہمیں یوٹیوب (نیچے انگریزی میں دیکھیں) پر اس کا اوریجنل ویڈیو مل گیا۔ 1:04 منٹ کے اس ویڈیو میں خاتون پولیس اہلکار کی یونیفارم پر ہماری نظر گئی۔
InVID , Youtube 

ایسی یونیفارم ہمارے ملک میں نہیں ہے۔ یعنی یہ ویڈیو انڈیا کا نہیں ہے۔ اس کےعلاوہ نتھ ایف ایم (نیچے انگریزی میں دیکھیں) نام کے یوٹیوب (نیچے انگریزی میں دیکھیں) چینل پر اسے 9 مہینے پہلے29 اگست 2018 کو اپ لوڈ کیا گیا تھا۔ لہٰذا اس ویڈیو کا پولنگ کا کہنا بھی غلط ہے۔
Neth FM , Youtube 

اس کے بعد ہم نے ویڈیو سے متعلق خبر کو سرچ  کرنا شروع کیا۔ اس کے لئے ویڈیو سے ایک فریم كراپ کرکے گوگل ریورس امیج میں سرچ کیا۔ یہاں سے ہمیں نتھ گاسپ ڈاٹ ایل کے (نیچے انگریزی میں دیکھیں) کی ایک خبر کا لنک ملا۔ خبر سری لنکا کی سنہالی زبان میں تھی۔ خبر کے ترجمہ کے لئے ہم نے گوگل ٹرانسلیشن ٹول کی مدد لی۔ اردو میں ترجمہ کرنے کے بعد پتہ چلا کہ ویلکاڈا  پلازہ کے پاس سے برقع پہنے ایک آدمی کو پولیس نے گرفتار کیا۔
nethgossip.lk

اس کے بعد ویڈیو کے اوپر ہمیں ایک لوگو دکھا، جو کسی ميڈيا کمپنی کا لوگودکھ رہا تھا۔ اسے كراپ کرکے ہم نے اسے گوگل ریورس امیج میں سرچ کیا تو ہمیں پتہ چلا کہ یہ سری لنکا کی میڈیا کمپنی ہے۔ نتھ نیوز ڈاٹ ایل کے (نیچے انگریزی میں دیکھیں) ویب سائٹ پر پہنچنے کے بعد ہم نے اس کانٹیکٹ والے ٹیب پر کلک کیا تو ہمیں پتہ چلا کہ اس کا ہیڈکوارٹر سری لنکا کے کولمبو میں ہے۔ یہ ایک میڈیا کمپنی ہے۔
nethnews.lk


آخر میں ہم نے فرضی ویڈیو وائرل کرنے والے فیس بک یوزر کی سوشل اسکیننگ کی۔ اسٹاک اسکین (نیچے انگریزی میں دیکھیں) سے ہمیں پتہ چلا نوین  گری نام کا یہ فیس بک یوزر کولکتہ میں رہتا ہے۔ اسے ایک ہزار سے زیادہ لوگ فالو کرتے ہیں۔
Stalkscan 

اختتامیہ: وشواس ٹیم کی جانچ میں پتہ چلا کہ وائرل پوسٹ فرضی ہے۔ جس ویڈیو کو ووٹ دینے کا بتایا جا رہا ہے، وہ قریب نو ماہ پرانا سری لنکا کا ہے۔

مکمل سچ جانیں…سب کو بتائیں

اگر آپ کو ایسی کسی بھی خبر پر شک ہے جس کا اثر آپ کے معاشرے اور ملک پر پڑ سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ ہمیں یہاں جانکاری بھیج سکتے ہیں۔ آپ ہم سے ای میل کے ذریعہ رابطہ کر سکتے ہیں
contact@vishvasnews.com 
اس کے ساتھ ہی واٹس ایپ (نمبر9205270923 –) کے ذریعہ بھی اطلاع دے سکتے ہیں۔

  • Claim Review : دعوی کیا جا رہا ہے کہ یہ مسلم عورت بن کر ووٹ ڈالنے آیا تھا
  • Claimed By : Navnin Giri
  • Fact Check : جھوٹ‎
جھوٹ‎
    فرضی خبروں کی نوعیت کو بتانے والے علامت
  • سچ
  • گمراہ کن
  • جھوٹ‎

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Post saved! You can read it later