فیکٹ چیک: بنگال تشدد کے نام پر وائرل ہو رہی ہیں جمشید پور اور لکھنئو کی پرانی تصاویر

0

نئی دہلی (وشواس ٹیم)۔ سوشل میڈیا پر مغربی بنگال تشدد کے نام پر بی جے پی کارکنان کی کچھ تصاویر وائرل ہو رہی ہیں۔ ان تصاویر میں کچھ لوگ ہنگامہ کرتے ہوئے نظر آرہے  ہیں۔ وشواس ٹیم کی پڑتال میں یہ پوسٹ فرضی ثابت ہوئی۔ جن تصاویر کو مغربی بنگال کی بتا کر وائرل کیا جا رہا ہے، وہ وہاں کی ہیں ہی نہیں۔ پہلی تصویر جمشید پور کی ہے تو دوسری فوٹو لکھنئو کی ہے۔

کیا ہے وائرل پوسٹ میں

مادھوری دکشت اور رویش کمار کے نام پر بنے فیس بک پیج سے پرانی تصاویر کو بنگال کے نام پر وائرل کیا جا رہا ہے۔ علاوہ ازیں دوسرے متعدد صفحات بھی ان تصاویر کو بنگال تشدد سے جوڑ کر وائرل کر رہے ہیں۔


Ravish Kumar – The Fearless Reporter (@RavishKumarTFR) 
نام سے ان تصاویر کو پوسٹ کرتے ہوئے لکھا گیا ہے کہ یہ ہیں بی جے پی کے سیدھے سادے بھولے بھالے کارکنان۔ جو ایک بہتر امیج والے لیڈر ’امت شاہ‘ کے اشارہ پر امن و امان کے ساتھ بنگال میں روڈ شو کر رہے ہیں۔

اسی طرح مادھوری دکشت کے نام پر بنے پیج ’مادھوری دکشت‘ پر بھی انہیں تصاویر کو اپ لوڈ کرے ہوئے لکھا گیا کہ بنگال میں تشدد پھیلا کر ممتا حکومت کو بدنام کیا جا رہا ہے۔ بنگالی ثقافت اور بنگال کو بچانے کے لئے ممتا دی دی کا ساتھ دو۔

پڑتال

پہلی تصویر کی حقیقت

وائرل پوسٹ میں استعمال کی گئی تصویر میں ٹرک کے شیشے توڑتا ہوا ایک شخص دکھ رہا ہے۔ اس کے بغل میں ایک آدمی بی جے پی کا پرچم لے کر کھڑا ہے۔ وشواس ٹیم نے سب سے پہلے اس تصویر کی سچائی جاننے کے لئے گوگل رورس امیج سرچ کا سہارا لیا۔ اس تصویر کو جب ہم نے گوگل رورس امیج ٹول میں ڈال کر سرچ کیا تو حقیقت ہمارے سامنے آگئی۔

ہمیں گوگل پر ہندوستان ٹائمس (نیچے انگریزی میں دیکھیں) کی ویب سائٹ پر موجود ایک لنک ملا۔ اس میں اس تصویر کو استعمال کیا گیا تھا۔ پڑتال میں پتہ چلا کہ جس تصویر کو بنگال کی بتا کر انتخابی ماحول میں وائرل کیا گیا ہے، وہ دراصل جمشید پور کی ہے۔ اس تصویر کو پی ٹی آئی کے فوٹوگرافر نے کلک کیا تھا۔ کیشپن کے مطابق، پٹرول کی قیمت میں ہوئے اضافہ کے خلاف بھارت بند بلایا گیا تھا۔ اسی دوران بی جے پی کارکنان نے آگ زنی اور ہنگامہ کیا تھا۔ ایچ ٹی نے اس تصویر کا استعمال 31 مئی 2012 کو اپنی خبر میں کیا تھا۔ یہ آپ نیچے دیکھ سکتے ہیں۔
 Hindustan Times

دوسری تصویر کی حقیقت

اب باری تھی دوسری تصویر کی حقیقت جاننے کی۔ اس کے لئے ہم نے تصویر کو غور سے دیکھا۔ تصویر کی بائیں جانب بینر پر ہمیں بی جے پی کے لیڈر رنجیت سنگھ نظر آئے۔ رنجیت سنگھ نے وشواس ٹیم کو بتایا کہ یہ تصویر 2011 یا 2012 کی ہے۔ اس وقت وہ لکھئنو کے وارڈ نمبر 62 کے  کونسلر تھے۔ ان کے علاقہ میں پارٹی نے اس وقت کی ریاستی حکومت کے خلاف ایک مظاہرہ کیا تھا۔ اس وقت وہاں لاٹھی چارج بھی ہوا تھا۔

کیا ہوا تھا بنگال میں؟

رواں سال 14 مئی کو مغربی بنگال کی دارالحکومت کولکاتہ میں بی جے پی صدر امت شاہ کے روڈ شو کے دوران پتھربازی، آگ زنی لاٹھی چارج ہوا تھا۔ متعدد لوگ زخمی ہوئے۔ ملک بھر میں کافی ہنگامہ ہوا۔ امت شاہ اپنا شو بھی مکمل نہیں کر پائے۔ پوری خبر آپ یہاں پڑھ سکتے ہیں۔

نتیجہ: وشواس ٹیم کی پڑتال میں پتہ چلا کہ بنگال تشدد کے نام پر پھیلائی جا رہیں دونوں تصاویر کا مغربی بنگال سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

مکمل سچ جانیں…سب کو بتائیں

اگر آپ کو ایسی کسی بھی خبر پر شک ہے جس کا اثر آپ کے معاشرے اور ملک پر پڑ سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ ہمیں یہاں جانکاری بھیج سکتے ہیں۔ آپ ہم سے ای میل کے ذریعہ رابطہ کر سکتے ہیں
contact@vishvasnews.com 
اس کے ساتھ ہی واٹس ایپ (نمبر9205270923 ) کے ذریعہ بھی اطلاع دے سکتے ہیں۔

Written BY Umam Noor
  • Claim Review : مغربی بنگال تشدد کی تصاویر
  • Claimed By : Ravish Kumar - The Fearless Reporter
  • Fact Check : False

ٹیگز

متعلقہ مضامین