X

فیکٹ چیک: مصر سے کی جا رہی ہے عید الاضحی کی تصویر کشمیر کی بتاتے ہوئے وائرل

وشواس نیوز نے اس پوسٹ کی پڑتال کی اور ہم نے پایا کہ یہ تصویر عید الاضحی کی ہے انسانوں کے قتل کی نہیں اور وائرل پوسٹ کے ساتھ کیا جا رہا دعوی بھی فرضی ہے۔

  • By Vishvas News
  • Updated: October 13, 2021

نئی دہلی (وشواس نیوز)۔ سوشل میڈیا پر ایک تصویر وائرل ہو رہی ہے جس میں ایک بڑے سے میدان میں بہت سے لوگوں کو خون کو بہتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ صارفین اس تصویر کوشیئر کرتے ہوئے کشمیر کے زاویہ کے ساتھ کچھ اس طرح پھیلا رہے ہیں کہ یہ تصویر کشمیر پر مسلمانوں کے ظلم کی ہے۔ اور اس تصویر کو شیئر کرتے ہوئے صارفین دعوی کر رہے ہیں کہ ہندوستان نے تمام مذاہب کے لوگوں سے کشمیر کو چھوڑنے کے لئے کہا ہے تاکہ وہاں فوجی کاروائی کر کے مسلمان آبادی کو دہشت گردی کے نام پر مارا جا سکے۔ وشواس نیوز نے اس پوسٹ کی پڑتال کی اور ہم نے پایا کہ یہ تصویر عید الاضحی کی ہے انسانوں کے قتل کی نہیں اور وائرل پوسٹ کے ساتھ کیا جا رہا دعوی بھی فرضی ہے۔

کیا ہے وائرل پوسٹ میں؟

فیس بک صارف نے وائرل پوسٹ کو شیئر کرتے ہوئے لکھا، ’بھارت نے اسلام کے علاوہ تمام مذاہب کے لوگوں کو انتباہ کا اعلان کیا ہے کہ وہ ’’دہشت گردی‘‘ کے خلاف یا زیادہ واضح طور پر ’’ اسلام ‘‘ کے خلاف وسیع پیمانے پر فوجی مہم کی تیاری کے لیے فوری طور پر کشمیر چھوڑ دیں اور انٹرنیٹ اور ٹیلی کمیونیکیشن کو بند کر دیا گیا‘۔

پوسٹ کے آرکائیو ورژن کو یہاں دیکھیں۔

پڑتال

اپنی پڑتال کو شروع کرتے ہوئے سب سے پہلےہم نے وائرل تصویر کو غور سے دیکھا۔ تصویر میں ہمیں صاف طور پر کچھ جانور قرآنے کے جانور نظر آئے، جن کی قربانی کی جا رہی تھی۔

اپنی پڑتال کو اسی بنیاد پر آگے بڑھاتے ہوئے ہم نے تصویر کو عید الاضحی کے کی ورڈ کے ساتھ سرچ کرنا شروع کیا۔ سرچ میں ہمیں یہی وائرل تصویر مصر کی ایک نیوز ویب سائٹ پرملی۔ یہاں تصویر کو عید الاضحی پر ہونے والی قربانی سے متعلق لکھے گئے آرٹیکل کے ساتھ شائع کیا گیا ہے۔ 12اگست 2019 کو شائع کئے گئے اس آرٹیکل میں سڑک پر قربانی کئے جانے کا موقف مصر کے صحافی کے حوالے سے لکھا گیا ہے۔ مکمل خبر یہاں دیکھ سکتے ہیں۔

مزید سرچ میں ہمیں یہ تصویر میٹو ویب نام کی ایک ویب سائٹ پر بھی عید الاضحی پر ہونے والی قربانی کے ہی حوالے سے ملی۔ خبر یہاں دیکھ سکتے ہیں۔

اب تک کی پڑتال سے یہ تو واضح تھا کہ یہ تصویر بقرہ عید کی ہے حالاںکہ پڑتال کو آگے بڑھاتے ہوئے ہم نے اس تصویر کے ساتھ کئے جا رہے دعوی کی پڑتال کی۔ وائرل دعوی کے مطابق ’مسلمانوں کو چھوڑ کر باقی تمام مذاہب کے لوگوں کو کشمیر سے باہر نکال کر فوجی مہم چلانے کا حکومت نے علان کیا ہے‘ اور رابطہ کے تمام ذرائع معطل کر دئے گئے ہیں‘۔ اس دعوی کی حقیقت جاننے کے لئے سب سے پہلے ہم جموں و کشمیر حکومت کی آفیشیئل ویب سائٹ پر پہنچنے جہاں سے وادی میں جاری ہونے والے تمام علانات موجود ہوتے ہیں۔ آفیشیئل ویب سائٹ پر ہمیں ایسا کوئی آرڈر نہیں ملا جو وائرل دعوی سے ملتا ہوا ہو۔

پڑتال کو آگے بڑھاتے ہوئے ہم نے گوگل نیوز سرچ کیا، لیکن سرچ میں بھی ہمیں ایسی کوئی خبر نہیں ملی جو اس دعوی کی تصدیق کرتی ہو۔ حالاںکہ نیوز سرچ میں ہمارے ہاتھ ایسی متعدد خبریں لگی جو وائرل دعوی سے برعکس تھی۔ ڈیکن ہیرالڈ کی 14 فروری 2021 کی خبر کے مطابق، وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ 2022 تک تمام کشمیری پنڈتوں کو دوربارہ وادی میں منتقل کر دیا جائےگا‘۔ مکمل خبر یہاں دیکھ سکتے ہیں۔

دا پرنٹ کی ویب سائٹ پر 28 جولائی 2021 کو شائع ہوئی خبر کے مطابق، ’3800 سے زیادہ کشمیری پنڈت دورباہ وادی میں واپس لوٹے‘۔ مکمل یہاں پڑھیں۔

وشواس نیوز نے تصدیق کے لئے دینک جاگرن کے بیورو چیف نوین نواز سے رابطہ کیا اور وائرل دعوی ان کے ساتھ شیئر کحیا انہوں نے ہمیں بتایا کہ،’ یہاں ایسا کوئی علان نہیں ہوا کہ مسلمانوں کے علاوہ سبھی مذاہب کے لوگ کشمیر چھوڑ کر چلے جائیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ آرٹیکل 370 تو حکومت کی نئی پالیسی کے مطابق یہاں باقی عوام بھی آسانی سے منتقل ہو سکتی ہے‘۔

فرضی پوسٹ کو شیئر کرنے والے فیس بک صارف کی سوشل اسکیننگ کرنے کی۔ ہم نے پایا کہ صارف

نتیجہ: وشواس نیوز نے اس پوسٹ کی پڑتال کی اور ہم نے پایا کہ یہ تصویر عید الاضحی کی ہے انسانوں کے قتل کی نہیں اور وائرل پوسٹ کے ساتھ کیا جا رہا دعوی بھی فرضی ہے۔

  • Claim Review : بھارت نے اسلام کے علاوہ تمام مذاہب کے لوگوں کو انتباہ کا اعلان کیا ہے کہ وہ ’’دہشت گردی‘‘ کے خلاف یا زیادہ واضح طور پر ’’ اسلام ‘‘ کے خلاف وسیع پیمانے پر فوجی مہم کی تیاری کے لیے فوری طور پر کشمیر چھوڑ دیں
  • Claimed By : حائر-şaşkın
  • Fact Check : جھوٹ‎
جھوٹ‎
فرضی خبروں کی نوعیت کو بتانے والے علامت
  • سچ
  • گمراہ کن
  • جھوٹ‎

مکمل حقیقت جانیں... کسی معلومات یا افواہ پر شک ہو تو ہمیں بتائیں

سب کو بتائیں، سچ جاننا آپ کا حق ہے۔ اگر آپ کو ایسے کسی بھی میسج یا افواہ پر شبہ ہے جس کا اثر معاشرے، ملک یا آپ پر ہو سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ آپ نیچے دئے گئے کسی بھی ذرائع ابلاغ کے ذریعہ معلومات بھیج سکتے ہیں۔

ٹیگز

اپنی راے دیں
مزید پڑھ

No more pages to load

متعلقہ مضامین

Next pageNext pageNext page

Post saved! You can read it later