X

فیکٹ چیک: اصل تصویر نریندر مودی کی ہے راہل گاندھی کی نہیں، وائرل تصویر فرضی ہے

نئی دہلی (وشواس ٹیم)۔ فیس بک پر ایک پوسٹ وائرل ہو رہی ہے، جس میں راہل گاندھی کے ساتھ ایک خاتون کو دیکھا جا سکتا ہے۔ اس تصویر پر ایک ڈسکرپشن لکھا ہے، ’’راہل گاندھی واحد ایسے سیاست داں ہیں جو ناخون کاٹنے برطانیہ، بال کاٹنے اپسین اور ناک کاٹنے ہندوستان آتے ہیں‘‘۔ جس خاتون کی تصویر راہل گاندھی کے ساتھ وائرل کی جا رہی ہے، وہ میڈم تساد کی اکسپرٹ ٹیم کی ایک ٹیم ممبر ہیں۔ جو ہندوستان مارچ 2016 میں پوری ٹیم کے ساتھ وزیر اعظم کے رہائش گاہ پر ان کے مسجمہ کی ماپ لینے آئی تھی اور اس تصویر میں ایڈیٹنگ ٹول کی مدد سے چھیڑ خانی کر کے نریندر مودی کی تصویر کی جگہ راہل گاندھی کی تصویر لگائی گئی ہے۔ وشواس ٹیم نے اپنی جانچ پڑتال میں اس تصویر کو فرضی ثابت کیا۔

کیا ہے وائرل پوسٹ میں

فیس بک پر ایک پیج یوگی سرکار (نیچے انگریزی میں دیکھیں) پر 12 مئی کو ایک پوسٹ اپ لوڈ ہوتی ہے۔  جس میں راہل گاندھی کے ساتھ ایک خاتون دکھائی دے رہی ہیں، راہل گاندھی بیٹھے ہوئے ہیں اور ان کے ٹھیک پیچے خاتون کھڑی ہیں اور خاتون کے ہاتھ ان کے سر پر کچھ  کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ اس وائرل تصویر کے ساتھ یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ راہل گاندھی واحد ایسے جیتے جاگتے سیاست داں ہیں جو ناخون کاٹنے برطانیہ، بال کاٹنے اسپین اور ناک کاٹنے ہندوستان آتے ہیں۔
Yogi Sarkar @YogiSarkarr 

پڑتال

فیس بک پر وائرل ہو رہی پوسٹ کی حقیقت جاننے کے لئے سب سے پہلے ہم نے گوگل رورس امیج ٹول کا استعمال کیا۔ اس سے متعلقہ خبروں کے لنک ملنے شروع ہوئے۔ جس میں اس تصویر میں خاتون تو وہ ہی تھی پر راہل گاندھی کی جگہ نریندر مودی کی تصویر تھی۔ اس کے بعد ہمارے ہاتھ ویون (نیچے انگریزی میں دیکھیں) کا لنک لگا۔ اس خبر کے مطابق، میڈم تساد میوزیم میں نریندر مودی کا مجسمہ نصب کیا جائےگا۔
WION 

خبر میں جس ویڈیو کا استعمال کیا گیا ہے، اس میں بھی وہی خاتون دکھ رہی ہیں، جو پھیلائی جا رہی فرضی تصویر میں ہیں۔ ویون پر یہ خبر 13 اگرست 2018 کو اپ لوڈ کی گئی جس کا کیپشن تھا
Prime Minister Modi’s gets wax statue at Madame Tussauds

اب باری تھی لندن کے میڈم تساد میوزیم کی ویب سائٹ اور سوشل میڈیا پیج پر اس ویڈیو اور تصویر کو تلاشنے کی جس میں ہمیں تصویر میں دکھ رہی خاتون نظر آجائے۔ اپنی تفتیش کے دوران ہمیں میوزیم کے یو ٹیوب چینئل میڈم تساد لندن (نیچے انگریزی میں دیکھیں) پر ہمیں ایک ویڈیو ملا۔ یہ 16 مارچ 2016 کو اپ لوڈ کیا گیا تھا۔ 58 سیکنڈ میں وزیر اعظم نریندر مودی کو میڈم تساد کے آرٹسٹ کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے۔
Madame Tussauds London

ویڈیو کا ٹائٹل ہے
Indian Prime Minister, Narendra Modi, has been involved in the creation of his figure and gave Madame Tussauds renowned artists a sitting at his residence in New Delhi earlier this year
ویڈیو کو دیکھنے پر تپہ چلا کہ مودی کے بغل میں کھڑی خاتون ان کا میک اپ نہیں کر رہی ہیں، بلکہ میڈم تساد کی اسپرٹ ٹیم کی ممبر ہیں۔

فوٹو میں دکھ رہی لڑکی کون ہے؟

میڈم تساد ایک ایسا میوزیم ہے، جہاں مشہور اور جانی مانی شخصیات کے موم سے بنے مسجمہ نصب ہیں۔ ان مجسموں کی خاصیت یہ ہوتی ہے کہ یہ دیکھنے میں بالکل اصل انسان جیسے لگتے ہیں۔ انہیں طویل محنت کے بعد تیار کیا جاتا ہے۔ صحیح ماپ کے تمام عمل کو اپنایا اور باریک سے باریک چیزوں پر بھی غور کیا جاتا ہے۔

راہل گاندھی کے ساتھ جس خاتون کی تصویر وائرل ہو رہی ہے، دراصل وہ میڈم تساد میوزیم کی ایک آرٹسٹ اور اکسپرٹ ہے۔ یہ تصویر تب کی ہے جب میڈم تساد کی ٹیم نریندر مودی کا مجسمہ بنانے کی تیاری کرنے دہلی آئی تھی۔ میوزیم کے آرٹسٹ اور اکسپرٹ کی ایک ٹیم ان کا پورا ماپ اور بیورا لینے وزیر اعظم کی رہائش گاہ پہچنی تھی۔ یوٹیوب کے جس ویڈیو کا لنک نیچے دیا ہے، وہ مودی کا مجمسہ بنانے کی تیاری سے جڑا ہے۔ ہم آپ کو وائرل فوٹو زوم ان کر کے دکھاتے ہیں، تاکہ آپ کے سامنے تصویر صاف ہو جائے۔

اب ضروری تھا اس پیج کی سوشل اسکیننگ کرنا جہاں پر یہ پوسٹ اپ لوڈ کی گئی۔

ہم نے اسٹاک اسکین (نیچے انگریزی میں دیکھیں) ٹول سے اس کی اسکیننگ کرنا شروع کیا تو ہمیں پتہ چلا کہ پیج یوگی سرکار (نیچے انگریزی میں دیکھیں) پر 411, 302 لائک 527, 850 فالوورس ہیں۔ یہ پیج 1 مارچ 2017 میں بنایا گیا۔
Stalkscan, Yogi Sarkar @YogiSarkarr

نتیجہ: وائرل پوسٹ میں دکھ رہی تصویر کے ساتھ ایڈینگ ٹول کے ذریعہ چھڑ خانی کی گئی ہے۔ اصل تصویر میں راہل گاندھی نہیں، بلکہ نریندر مودی ہیں۔ وشواس ٹیم نے اپنی جانچ میں اس تصویر کو فرضی ثابت کیا۔

مکمل سچ جانیں…سب کو بتائیں

اگر آپ کو ایسی کسی بھی خبر پر شک ہے جس کا اثر آپ کے معاشرے اور ملک پر پڑ سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ ہمیں یہاں جانکاری بھیج سکتے ہیں۔ آپ ہم سے ای میل کے ذریعہ رابطہ کر سکتے ہیں
contact@vishvasnews.com 
اس کے ساتھ ہی واٹس ایپ (نمبر9205270923 ) کے ذریعہ بھی اطلاع دے سکتے ہیں۔

  • Claim Review : راہل گاندھی کی ہیئر اسٹائلسٹ کے ساتھ تصویر
  • Claimed By : Fb Page- Yogi Sarkar
  • Fact Check : False
False
    Symbols that define nature of fake news
  • True
  • Misleading
  • False
جانیں سچی اور فرضی خبروں کی حقیقت کوئز کھیلیں اور خبروں کی حقیقت چیک کرنے کا طریقہ سیکھیں کوئز کھیلے

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Post saved! You can read it later