X

فیکٹ چیک: یو پی میں بی جے پی اور کانگریس امیدواروں کو نہیں ملے ایک جیسے ووٹ، وائرل دعویٰ فرضی

نئی دہلی (وشواس ٹیم)۔ لوک سبھا انتخابات 2019 کے نتائج آنے کے بعد سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ وائرل ہو رہی ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ الگ الگ لوک سبھا سیٹوں پر جیتنے اور ہارنے والے امیدواروں کو ملے ووٹوں کی تعداد ایک ہی ہے۔ جن لوک سبھا سیٹوں کو لے کر ایسا دعویٰ کیا جا رہا ہے، وہ سبھی اترپردیش کی ہیں۔

رواں ماہ کی 23 تاریخ کو ووٹوں کی گنتی کے بعد وائرل ہوئی یہ پوسٹ فرضی ہے۔ وشواس نیوز کی پڑتال میں پوسٹ میں کیا گیا دعویٰ غلط ثابت ہوتا ہے۔

کیا ہے وائرل پوسٹ میں؟

فیس کے بک پیج ’ڈلہی گرونمینٹ وائرل نیوز 2.1‘  پر 26 مئی کو اس پوسٹ کو شیئر کیا گیا ہے، ’الگ الگ لوک سبھا امیدواروں کی ایک جیسی ووٹوں کی تعداد کیوں؟‘۔
Delhi Goverment Viral News 2.1

اگر ہمارا انتخابی سسٹم ہیکڈ / مینوپولیٹیڈ ہے تو اپوزیشن کے لئے اس کو صحیح کرنا ملک اور سبھی کے لئے ضروری، شری رادھے‘۔

پڑتال کئے جانے تک اس پوسٹ کو 237 بار شیئر کیا جا چکا ہے۔ فیس بک پر یہ پوسٹ لوک سبھا انتخابات کے نتائج (23 مئی) کے بعد وائرل ہوئی۔

پوسٹ میں ایک اسکرین شاٹ کا استعمال کیا گیا ہے، جس میں لکھا گیا ہے کہ ’بغیر ای وی ایم سیٹنگ یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے‘۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ بی جے پی اور کانگریس کے سات امیدواروں کی جیت اور ہار کا فرق ایک جیسا رہا ہے۔ ووٹوں کی گنتی کے بعد فیس بک کے علاوہ ٹویٹر پر بھی یہ پوسٹ وائرل ہوئی۔

پہلا دعویٰ بھولا سنگھ کو لے کر کیا گیا ہے۔ دعویٰ کے مطابق بھولا سنگھ کو کل 211,820 ووٹ ملے ہیں، جبکہ کانگریس امیدوار کو 140,295 ووٹ ملے۔

الیکشن کمیشن کے عداد و شمار کے مطابق، بھولا سنگھ اترپردیش کے بلند شہر لوک سبھا سیٹ سے بھارتی جنتا پارٹی کے امیدوار تھے اور انہوں نے اس سیٹ پر مہاگٹھ بندھن کے امیدوار یوگیش ورما کو ہرایا۔ کمیشن کے مطابق بھولا سنگھ کو کل 681,321 ووٹ ملے، جبکہ بہوجن سماج پارٹی کے امیدوار کو کل 391,264  ووٹ ملے۔

وہیں، کانگریس امیدوار بنشی سنگھ کو کل 29,465 ووٹ ملے، جو کل ووٹوں کا محض 2.2 فیصدی تھا۔

دوسرا دعوی مینکا گاندھی کو لے کر ہے۔ الیکشن کمیشن پر موجود معلومات کے مطابق مینکا گاندھی اترپردیش کے سلطان پور سیٹ سے الیکشن لڑی تھیں۔

مینکا گاندھی نے مہاگٹھ بندھن کے امیدوار چندر بھدر سنگھ ’سونو‘ کو ہرایا۔ کمیشن کے عداد و شمار کے مطابق مینکا کو کل 45.91 فیصدی یعنی 458,281 ووٹ ملے، جبکہ مہاگٹھ بندھن کے امیدوار چندر بھدر سنگھ کو 44.45 فیصدی یعنی 444,422 ووٹ ملے۔ وہیں اس سیٹ پر کانگریس  کے امیدوار سنجے کو محض 41,681 ووٹ ملے۔

تیسرا دعوی اپیندر نرسنگ کو لے کر کیا گیا ہے۔ پوسٹ کے مطابق نرسنگ کو جہاں 211,820 ووٹ ملے، وہیں کانگریس کو 140,295 ووٹ ملے۔

الیکنش کمیشن کے عداد و شمار کے مطابق، اترپردیش کی بارہ بنکی لوک سبھا سیٹ سے بی جے پی امیدوار اپیندر سنگھ راوت نے مہاگٹھ بندھن امیدوار رام ساگر راوت کو ہرا کر جیت درج کی۔

الیکشن کمیشن کے آفیشیل ڈیٹا کے مطابق بی جے پی امیدوار اپیندر سنگھ راوت کو اس سیٹ پر جہاں کل ووٹوں کا 46.39 فیصدی یعنی 535,917 ووٹ ملے، وہیں مہاگٹھ بندھن(سماجوادی پارٹی) کے امیدوار رام ساگر سنگھ راوت کو کل ووٹوں کا 36.85 فیصدی یعنی 425,777 ووٹ ملے۔ وہیں کانگریس امیدوار تنوج پنیا کو محض 13.82 فیصدی ووٹ یعنی 159,611 ووٹ ملے۔

چوتھا دعوی ہریش دریویدی کا ہے۔ دعوی کے مطابق، دریودی کو بھی 211,820 ووٹ ملے، جبکہ کانگریسی کو 140,295 ووٹ ملے۔

الیکشن کمیشن پر مہیا معلومات کے مطابق، ہریش دریودی اتر پردیش کی بستی لوک سبھا سیٹ سے جیت کر لوک سبھا پہنچنے میں کامیاب رہے ہیں۔

کمیشن کے مطابق بی جے پی امیدوار ہریش چندر عرف ہریش دریویدی کو کل ووٹوں کا 44.68 فیصدی یعنی 471,162 ووٹ ملے، جبکہ مہاگٹھ بندھن کے امیدوار رام پرساد چودھری کو کل ووٹوں کا 41.8 فیصدی یعنی 440,808 ووٹ ملے۔ وہیں کانگریس کے امیدوار راج کشور سنگھ کو کل ووٹوں کا 8.24 فیصدی یعنی 86.920 ووٹ ملے۔

پانچواں دعوی ستیہ پال سنگھ کو لے کر کیا گیا ہے۔ انہیں بھی ایک جیسے ووٹ ملنے کا دعوی کیا گیا ہے۔ الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر مہیا اطلاع کے مطابق ستیہ پال سنگھ اترپردیش کی باغپت لوک سبھا سیٹ سے الیکشن لڑے اور انہوں نے مہاگٹھ بندھن کے امیدوار جینت چودھری کو ہرایا۔

عداد و شمار کے مطابق جینت چودھری کو اس سیٹ پر جہاں 48.07 فیصدی یعنی 502,287 ووٹ ملے، وہیں ستیہ پال سنگھ کو 50.32 فیصدی یعنی 525,789 ووٹ ملے۔ اس سیٹ پر کانگریس نے امیدوار کھڑے نہیں کئے تھے۔

چھٹا دعوی سنگ متر موریہ کو لے کر کیا گیا ہے۔ الیکشن کمیشن پر مہیا معلومات کے مطابق موریا اترپردیش کی بدایوں لوک سبھا سیٹ سے الیکشن جیت کر پارلیمنٹ پہنچے ہیں۔

کمیشن کی ویب کے مطابق، موریا کو اس سیٹ پر کل ووٹوں کا 47.73 فیصدی یعنی 511,352 سیٹیں ملیں، تاہم مہاگٹھ بندھن کے امیدوار دھرمیندر یادو کو 492,898 ووٹ ملے۔ وہیں کانگریس امیدوار سلیم اقبال شیروانی کو 4.8 فیصدی یعنی 51947 ووٹ ملے۔

ساتواں دعوی کنور بھارتیندر سنگھ کو لے کر کیا گیا ہے۔ دعوی کے مطابق سنگھ کو بھی 211,820 ووٹ ملے ہیں، جبکہ کانگریس کے امیدوار کو 140,295 ووٹ ملے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق بھارتیندر سنگھ اترپردیش کی بجنور لوک سبھا سیٹ سے بی جے پی کے امیدوار تھے، جب مہاگٹھ بندھن کے امیدوار کے ہاتھوں الیکشن ہار گئے۔

کمیشن کی سائٹ کے مطابق بی جے پی امیدوار راجا بھارتیندر سنگھ کو کل ووٹوں کا 44.61 یعنی 491,104 ووٹ ملے، تاہم مہاگٹھ بندھن کے امیدوار ملوک ناگر کو کل ووٹوں کا 50.97 فیصدی یعنی 561,045 ووٹ ملے۔ وہیں، کانگریس کے امیدوار نسیم الدین صدیقی کو محض 2.35 فیصدی یعنی 25833 ووٹ ملے۔

نتیجہ: وشواس نیوز کی پڑتال میں اترپردیش کی سات لوک سبھا سیٹ پر بی جے پی اور کانگریس امیدوار کو ملے ایک جیسے ووٹوں کا دعویٰ غلط ہے۔

مکمل سچ جانیں…سب کو بتائیں

اگر آپ کو ایسی کسی بھی خبر پر شک ہے جس کا اثر آپ کے معاشرے اور ملک پر پڑ سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ ہمیں یہاں جانکاری بھیج سکتے ہیں۔ آپ ہم سے ای میل کے ذریعہ رابطہ کر سکتے ہیں
contact@vishvasnews.com 
اس کے ساتھ ہی واٹس ایپ (نمبر9205270923 ) کے ذریعہ بھی اطلاع دے سکتے ہیں۔

  • Claim Review : اترپردیش کی متعدد لوک سبھا سیٹوں پر بی جے پی- کانگریس امیدواروں کو ملے ایک جیسے ووٹ
  • Claimed By : FB User-Delhi Government Viral News 2.1
  • Fact Check : False
False
    Symbols that define nature of fake news
  • True
  • Misleading
  • False
جانیں سچی اور فرضی خبروں کی حقیقت کوئز کھیلیں اور خبروں کی حقیقت چیک کرنے کا طریقہ سیکھیں کوئز کھیلے

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Post saved! You can read it later