X

فیکٹ چیک: کرکٹ اسٹیڈیم میں قابل اعتراض حرکت کرتا شخص پاکستانی نہیں، ہندوستانی ہے

  • By Vishvas News
  • Updated: June 26, 2019

نئی دہلی (وشواس ٹیم)۔ لندن میں چل رہے کرکٹ ورلڈ کپ 2019 کے بیچ سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ وائرل ہو رہی ہے، جس میں متعدد تصاویر نظر آرہی ہیں۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ فرید خان نام کا ایک شخص، پاکستان کا رہنے والا ہے، ترنگا پہنے اوول اسٹیڈیم میں ہندوستانی کرکٹ مداح بن کر پیشاب کرتے ہوئے پکڑا گیا۔ وائرل پوسٹ کے مطابق، ہندوستان اور آسٹریلیا کے میچ کے دوران وہ ایسا کرتے ہوئے پکڑا گیا اور لندن پولیس اسے اس کے دو بھائیوں کے ساتھ پکڑ کر لے گئی۔

وشوس نیوز کی پڑتال میں یہ دعویٰ غلط ثابت ہوتا ہے۔ جس شخص کی تصویر فرید خان کے نام پر وائرل ہو رہی ہے، وہ دراصل ہندوستانی کرکٹ مداح ہے اور جس شخص کو گرفتار کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے، وہ ایک پرانی تصویر ہے۔

کیا ہے وائرل پوسٹ میں

فیس بک پر اس پوسٹ کو شیئر کرتے ہوئے لکھا گیا ہے، ’’ہندوستان اور ہندوستانیوں کو بدنام کرنے کے مقصد سے پاکستانی کی بے حد واہیات حرکت! یہاں کے امن کے فرشتوں سے بھی سوال بنتا ہے کہ کیا ان گھٹیا لوگوں سے بھائی چارے کی امید لگائے بیٹھے ہو؟‘‘۔

پوسٹ کے ساتھ کئی تصاویر والے ایک فریم کو شیئر کیا گیا ہے، جس میں چار الگ الگ تصاویر نظر آرہی ہیں۔

پڑتال

پڑتال کی شروعات ہم نے گوگل رورس امیج کے ساتھ کی اور ہمیں پتہ چلا کہ جو شخص ترنگا پہنے ہوئے اسٹیڈیم میں پیشاب کر رہا ہے، وہ کوئی پاکستانی شہری نہیں، بلکی ہندوستانی کرکٹ مداح نریندر بھوجانی ہے۔ بھوجانی، ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے تقریبا سبھی میچ میں نظر آتے ہیں۔ سرچ میں فیس بک پروفائل کے علاوہ ہمیں ان کی انسٹاگرام پروفائل بھی ملی، جس میں وہ اپنے دو بھائیوں کے ساتھ نظر آرہے ہیں اور انہوں نے خود کو ’’بھوجانی بردرس‘ بتا رکھا ہے۔

بھوجانی  کرکٹ میڈ نام سے بنائی گئی انسٹاگرام پروفائل پر 5 جون 2019 کے روز اس تصویر کو اپ لوڈ کیا گیا ہے۔ اس پروفائل کو کھنگالنے پر ہمیں ان کی کئی دیگر تصاویر ملیں۔ ایسی ہی ایک تصویر 13 جولائی 2018 کو اپ لوڈ کی گئی ہے، جس میں وہ سچن تندولکر کے بڑے مداح اور بہار کے مظفر پور ضلع کے باشندہ سدھیر کمار کے ساتھ نظر آرہے ہیں۔

بھوجانی بردرس کے نام سے ہمیں ایک  اور تصویر ملی، جس میں دونوں بھائی ترنگا تھامے ہوئے نظر آرہے ہیں۔

سرچ میں ہمیں ایک گجراتی پیپر کی کٹنگ ملی، جس میں تینوں بھائی ایک ساتھ نظر آرہے ہیں۔ خبر میں لگی تصویر میں تینوں بھائیوں کا نام بھی گجراتی میں لکھا ہوا نظر آرہا ہے۔

اردو میں ان ناموں کو ایسے پڑھا جا سکتا ہے۔ بھوجانی بردرس، سریش اور ہری وردھن، یعنی پوسٹ میں ترنگا پہنے ہوئے جس کرکٹ مداح کی تصویر وائرل ہو رہی ہے، وہ ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے گجراتی مداح ہیں اور لندن میں اپنا کاروبار کرتے ہیں۔

کچھ خبر ڈاٹ کام (نیچے ویب سائٹ کا لنک دیکھیں) کی خبر سے بھی اس کی تصدیق ہوتی ہے۔ خبر کے مطابق، نریندر بھوجانی، سریش بھوجانی اور ہری وردھن بھوجانی، گجرات کے بھوج ضلع واقع بھوج کے بھرسار گاوں کے رہنے والے ہیں، جو اب لندن میں بس چکے ہیں۔ مڈ ڈے میں 9 مارچ 2015 کو شائع خبر کے مطابق، نریندر بھوجانی لندن کے مینچسٹر میں رہتے ہیں۔
kutchkhabar.com

گیٹی امیجز کی اس تصویر میں بھی ان تین بھائیوں کو ہندوستانی کرکٹ مداح کے طور پر بتایا گیا ہے۔ یہ تصویر 4 جون 2017 کو برمنگھم میں ہوئے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ہوئے میچ کی ہے۔

اب آتے ہیں وائرل پوسٹ میں شامل دیگر تصاویر کو لے کر کئے جا رہے ہیں دعویٰ پر۔ تصویر میں ایک شخص کو لندن پولیس کی گرفت میں ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ گوگل رورس امیج سے ہمیں پتہ چلا کہ جس شخص کے فرید خان ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے لندن پولیس کے ہاتھوں گرفتار ہونے کا ذکر کیا جا رہا ہے، وہ تصویر تقریبا 6 سال پرانی ایک دیگر حادثہ کی ہے۔

میٹرو ڈاٹ کو ڈاٹ یو کے (نیچے ویب سائٹ کا لنک دیکھیں) نام کی لندن کی نیوز ویب سائٹ پر 11 جون 2013 کو شائع خبر میں اس تصویر کا استعمال کیا گیا ہے۔
Metro.co.uk

خبر کے مطابق، گرفتار شخص کی وائرل ہو رہی تصویر دراصل لندن میں ہوئے جی 8 سمٹ کے دوران ہوئے احتجاج کی ہے اور اس تصویر کو نیوز ایجنسی ای پی نے جاری کیا تھا۔

دونوں تصاویر کی حقیقت کی تصدیق ہونے کے بعد ہم نے تیسری تصویر کے دعویٰ کو جانچا۔

تیسری تصویر میں ہمیں ایک پاس پورٹ کا اسکرین شاٹ نظر آرہا ہے، جسے غور سے دیکھنے پر پتہ چلتاہے کہ اس میں نام کے آگے فرید محمد لکھا ہوا ہے اور پاس پورٹ میں ملک کوڈ ’آئی آر این‘ (نیچے انگریزی میں دیکھیں) درج ہے۔ طریقہ کار کے مطابق، یہ کوڈ ایران کا ہے یعنی جس شخص کے پاس پورٹ کی تصویر کو شیئر کرتے ہوئے اس کے گرفتار ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، وہ پاکستان کا نہیں، بلکہ ایران کا ہے۔
IRN

وشواس نیوز گرفتار ہوئے شخص اور ایران کے پاس پورٹ میں نطر آرہے شخص کے درمیان تعلقات کی آزاد طریقہ سے تصدیق نہیں کرتا ہے۔

نتیجہ: ترنگا پہنے جس شخص کے پاکستانی شہری ہونے  کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، وہ ہندوستانی کرکٹ مداح نریندر بھوجانی ہیں۔ گجرات کے رہنے والے بھوجانی، لندن میں کام کرتے ہیں۔ نریندر کے ساتھ ان کے دونوں بھائی بھی کرکٹ کے زبردست مداح ہیں اور انہوں نے اپنا نام بھی بھوجانی بردرس رکھا ہوا ہے۔ وہیں، جس شخص کے گرفتار ہونے کی تصویر وائرل ہو رہی ہے، وہ 2013 میں لندن میں ہوئے جی 8 سمٹ کے دوران ہوئے مظارہ کی ہے، تقریبا 6 سال پرانی ہے۔

مکمل سچ جانیں…سب کو بتائیں

اگر آپ کو ایسی کسی بھی خبر پر شک ہے جس کا اثر آپ کے معاشرے اور ملک پر پڑ سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ ہمیں یہاں جانکاری بھیج سکتے ہیں۔ آپ ہم سے ای میل کے ذریعہ رابطہ کر سکتے ہیں
contact@vishvasnews.com 
اس کے ساتھ ہی واٹس ایپ (نمبر9205270923 ) کے ذریعہ بھی اطلاع دے سکتے ہیں۔

  • Claim Review : ترنگا پہن کر ہندوستانی کرکٹ مداحوں کو بدنام کرتا پاکستانی شہری
  • Claimed By : FB User-Chakrapani Sharma‎
  • Fact Check : جھوٹ‎
جھوٹ‎
    فرضی خبروں کی نوعیت کو بتانے والے علامت
  • سچ
  • گمراہ کن
  • جھوٹ‎

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Post saved! You can read it later