X

فیکٹ چیک: مصر کی جانب سے ہندوستان کو بھیجی گئی طبی امداد کو کیا جا ترکی کی بتا کر وائرل

  • By Vishvas News
  • Updated: May 11, 2021

نئی دہلی (وشواس نیوز)۔ سوشل میڈیا پر ترکی کے صدر طیب اردوگان کی تصویر کے ساتھ ایک کولاج وائرل ہو رہا ہے جس میں دیگر دی گئی تصاویر میں ایک ٹرک پر آکسیجن سیلنڈر دیکھے جا سکتے ہیں اور تیسری تصویر میں کچھ طبی ڈبوں کو دیکھا جا سکتا ہے۔ تصویر کے ساتھ سوشل میڈیا صارفین دعوی کر رہے ہیں کہ یہ امداد ترکی کے صدر طیب اردوگان کی جاب سے ہندوستان کو کورونا بحران سے راحت کے لئے بھیجی گئی ہے۔ وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ وائرل دعوی گمراہ کن ہے۔ تصاویر میں نظر آرہی امداد ترکی سے نہیں بلکہ مصر سے ہندوستان کو بھیجی گئی تھی۔ علاوہ ازیں خبر لکھے جانے تک کی موصولہ معلومات کے مطابق اب تک ترکی کی طرف سے ہندوستان کو طبی امداد نہیں بھیجی گئی ہے، حالاںکہ آنے والے کچھ روز میں بھیجنے کے امکان ہیں۔ لیکن وائرل کی جا رہی تصاویر کا ترکی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

کیا ہے وائرل پوسٹ میں؟

وائرل پوسٹ کو شیئر کرتے ہوئے فیس بک صارف ’سمیع اللہ ندوی‘ نے وائرل پوسٹ کو شیئر کرتے ہوئے لکھا، ’’عالمی رہمنا ملت کا ہمدرد ثانی سلطان صلاح الدین ایوبی۔ جناب رجب طیب اردگان نے بھارت کو تیس ٹن آکسیجن اور امدادی سازوسامان بھیجا ہے۔ بہت بہت شکریہ سر‘‘۔

پوسٹ کے آرکائیو ورژن کو یہاں دیکھیں۔

پڑتال

اپنی پڑتال کا آغاز کرتے ہوئے سب سے پہلے ہم نے وائرل کی جا رہی پہلی تصویر جس میں ایک ٹرک میں آکسیجن نظر آرہے ہیں کو گوگل رورس امیج کے ذریعہ سرچ کیا۔ سرچ میں ہمیں انڈیا ٹائمس کی ویب سائٹ پر 4 مئی 2021 کو شائع ہوئی ایک خبر میں وائرل تصویر ملی۔ تصویر کے ساتھ دی گئی معلومات کے مطابق یہ امداد مصر سے ہندوستان بھیجی گئی ہے۔ مکمل خبر یہاں پڑھیں۔

وائرل کی جا رہی دوسری تصویر ترکی کے صدر طیب اردوگان کی ہے۔ وہیں تیسری تصویر جس میں طبی ڈبے نظر آرہے ہیں کو گوگل رورس امیج سرچ کرنے پر ہمارے ہاتھ وزارت مصر کا آفیشیئل ٹویٹر ہینڈل لگا جہاں وائرل کی جا رہی تصاویر کو دیکھا جا سکتا ہے۔ 1 مئی 2021 کو کئے گئے اس ٹویٹ میں لکھا ہے، ’صدر عبد الفتاح السیسی کی ہدایت کے مطابق فوری امداد۔ کرونا وائرس سے نمٹنے کے لئے ہندوستان کو 30 ٹن طبی آلات اور سپلائی بھیجنا‘‘۔

اب یہ تو واضح ہو گیا تھا کہ وائرل کی جا رہی طبی امداد کی تصاویر کا ترکی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ حالاںکہ اب ہم نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ کیا ترکی کی جانب سے ہندوستان کو کورونا کے اس بحران میں کسی قسم کی امداد دی گئی ہے۔ سرچ میں ہمیں 28 اپریل کو شائع ہوئی ایک خبر ملی جس میں بتایا گیا کہ،’ترکی اپنے کوویڈ بحران میں ہندوستان کو مدد فراہم کرنے والا تازہ ترین ملک بن گیا ہے۔ منگل کو ترکی کے صدارتی ترجمان ابراہیم کلن نے بھارت کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈووال سے کوویڈ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ حالاںکہ خبر میں ہمیں طبی امداد کی مقدار یا اس سے منسلک کوئی معلومات حاصل نہیں ہوئی۔

مزید سرچ میں ہم نے ہندوستان میں ترکی سفارتخانہ کے آفیشیئل ٹویٹر ہینڈل کو بھی چیک کیا۔ وہاں بھی ہمیں ایسی کوئی معلومات نہیں ملی۔

مزید تصدیق کے لئے ہم نے ہمارے ساتھی دینک جاگرن میں وزارت خارجہ کو کوور کرنے والے سینئر صحافی جے پراکاش رنجن سے رابطہ کیا اور ان کے ساتھ وائرل پوسٹ شیئر کی۔ انہوں نے وزارت خارجہ سے بات کی اور ان کے حوالے سے بتایا کہ ترکی کی جانب سے کچھ امداد آنے والی ہے لیکن وہ کس شکل میں ہوگی اس وضاحت ابھی نہیں ہو پائی ہے۔ حالاںک وائرل تصویر کا ترکی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

گمراہ کن پوسٹ کو شیئر کرنے والے فیس بک صارف سمیع اللہ نودی کی سوشل اسکیننگ میں ہم نے پایا کہ صارف کا تعلق دربھنگا سے ہے۔ وہیں صارف فیس بک بک پر کافی سرگرم رہتا ہے۔

نتیجہ: وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ وائرل دعوی گمراہ کن ہے۔ تصاویر میں نظر آرہی امداد ترکی سے نہیں بلکہ مصر سے ہندوستان کو بھیجی گئی تھی۔ علاوہ ازیں خبر لکھے جانے تک کی موصولہ معلومات کے مطابق اب تک ترکی کی طرف سے ہندوستان کو طبی امداد نہیں بھیجی گئی ہے، حالاںکہ آنے والے کچھ روز میں بھیجنے کے امکان ہیں۔ لیکن وائرل کی جا رہی تصاویر کا ترکی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

  • Claim Review : جناب رجب طیب اردگان نے بھارت کو تیس ٹن آکسیجن اور امدادی سازوسامان بھیجا ہے۔
  • Claimed By : Samiullah Nadwi
  • Fact Check : گمراہ کن
گمراہ کن
    فرضی خبروں کی نوعیت کو بتانے والے علامت
  • سچ
  • گمراہ کن
  • جھوٹ‎

مکمل حقیقت جانیں... کسی معلومات یا افواہ پر شک ہو تو ہمیں بتائیں

سب کو بتائیں، سچ جاننا آپ کا حق ہے۔ اگر آپ کو ایسے کسی بھی میسج یا افواہ پر شبہ ہے جس کا اثر معاشرے، ملک یا آپ پر ہو سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ آپ نیچے دئے گئے کسی بھی ذرائع ابلاغ کے ذریعہ معلومات بھیج سکتے ہیں۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Post saved! You can read it later