X

فیکٹ چیک: راہل گاندھی کی جیت کے جشن کے نام پر وائرل ہوئی ملاپورم کی 2017 کی پرانی تصویر

نئی دہلی (وشواس نیوز)۔ لوک سبھا انتخابات 2019 تو ختم ہو چکے ہیں لیکن فرضی خبروں کے وائرل ہونے کا سلسلہ ابھی جاری ہے۔ سوشل میڈیا پر ایک ایسی تصویر وائرل ہو رہی ہے، جس کے بارے میں کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ تصویر وائناڈ میں راہل گاندھی کی جیت کے جشن کی ہے۔ وائرل تصویر کی جانچ کی تو پتہ چلا کہ پوری پوسٹ ہی فرضی ہے۔ جس تصویر کو لوک سبھا انتخابات 2019 کی بتایا جا رہا ہے، دراصل وہ 2017 کی ہے۔

کیا ہے وائرل پوسٹ میں

وائرل تصویر میں پوسٹ کرتے ہوئے فیس بک صارف دیپک کمار نے دعویٰ کیا: ’’وائناڈ میں راہل کے جشن کی تصویر۔ فوٹو میں ترنگا ڈھونڈیئے…..اگر پورے ہندوستان میں جیت  جاتا تو کیا حال ہوتا‘‘۔

فیس بک صارف دیپک کمار نے اس تصویر کو ’مودی لکشیا 2024‘ کے نام کے گروپ میں پوسٹ کیا ہے۔ اسے اب تک 250 سے زیادہ لوگوں نے شیئر کیا ہے۔

پڑتال

وشواس ٹیم نے سب سے پہلے وائرل ہو رہی تصویر کو غور سے دیکھا۔ تصویر کی کوالیٹی دیکھ کر ہمارے کامن سینس نے کہا کہ یہ حالیہ تصویر تو نہیں ہو سکتی ہے۔ اس کے بعد ہم نے وائرل ہو رہی تصویر کو گوگل رورس امیج میں سرچ کیا۔ ہمیں ’دا ہندو‘ کی ویب سائٹ پر موجود ایک خبر کا لنک ملا۔ یہاں وائرل تصویر کا پہلی بار استعمال کیا گیا ہے۔ 17 اپریل 2017 کو اپ لوڈ اس خبر کی ہیڈنگ ہے
Kunhalikutty moves on to national stage

وائرل ہو رہی تصویر دراصل 2017 میں ہوئے ضمنی انتخابات میں ملی جیت کے بعد انڈین یونین مسلم لیگ کے کارکنان کی ہے۔ جیت کا یہ جشن ملاپورم کا تھا۔

وشواس ٹیم نے اپنی جانچ کو آگے بڑھاتے ہوئے ان ویڈ ٹول (نیچے انگریزی میں دیکھیں) کا استعمال کیا۔ یہاں ہم نے ہیش ٹیگ ملاپورم (نیچے انگریزی میں دیکھیں) کی ورڈ ڈال کر اے این آئی (نیچے انگریزی میں دیکھیں) کے کچھ ٹویٹس سرچ کرنے شروع کئے۔ ہمیں 16 اپریل 2017 کا اے این آئی کا ایک ٹویٹ ملا۔
InVID , #Malappuram , ANI 

سرچ کے دوران ہی ہمیں کانگریس صدر راہل گاندھی کا ایک پرانا ٹویٹ بھی ملا۔ اس میں راہل پی کے کنہالکوٹی کو مبارک باد دے رہے تھے۔

اس کے بعد ہم نے انڈین یونین مسلم لیگ کے ملاپورم کے لیڈر پی عدب الحمید سے رابطہ کیا۔ ان کا نمبر ہمیں آئی یو ایم ایل کی ویب سائٹ سے ملا۔ انہوں نے بتایا کہ جس تصویر کو وائرل کیا جا رہا ہے، وہ وائناڈ نہیں، ملاپورم میں دو سال پہلے ہوئے لوک سبھا کے ضمنی انتخابات کی ہے۔

اب ہمیں یہ جاننا تھا کہ وائناڈ میں راہل گاندھی کی جیت کے بعد کیسے جشن منایا گیا تھا۔ گوگل سرچ کے دوران ہمیں ڈیکن ہیرالڈ (نیچے انگریزی میں دیکھیں) کی ویب سائٹ کا ایک لنک ملا۔ اس میں آخر کار ہمیں فوٹو مل ہی گئی۔ تصویر میں آپ مسلم لیگ اور کانگریس کے جھنڈوں کو دیکھ سکتے ہیں۔
Deccan Herald 

غور طلب ہے کہ راہل گاندھی نے یو پی کی امیٹھی سیٹ سے علاوہ کیرالہ کی وائناڈ سیٹ سے بھی میدان میں اترے تھے۔ امیٹھی میں ہار کا سامنا کرنے والے رہل کو وائناڈ میں زبردشت جیت ملی۔ انہیں کل 7,06,367 ووٹ ملے۔ جبکہ دوسرے نمبر سی پی آئی کے پی پی سنیر رہے۔ ان کو 2,74,597 ووٹ ملے۔

اب باری تھی فرضی پوسٹ کو فیس بک پر پھیلانے والے صارف دیپک کمار کی سوشل اسکیننگ کرنے کی۔ اسٹاک اسکین (نیچے انگریزی میں دیکھیں) کی مدد سے پتہ چلا کہ اس اکاؤنٹ کو مارچ 2018 کو بنایا گیا ہے۔ اکاؤنٹ میں کوئی خاص سرگرمیاں نہیں ہیں۔ لیک اس اکاؤنٹ کے ذریعہ دوسرے گروپ میں کنٹینٹ پوسٹ کیا جاتا ہے۔
Stalkscan

نتیجہ: وشواس ٹیم کی جانچ میں پتہ چلا کہ راہل گاندھی کی وائناڈ کی جیت کے جشن کے نام پر دو سال پرانی تصویر کو وائرل کیا جا رہا ہے۔

مکمل سچ جانیں…سب کو بتائیں

اگر آپ کو ایسی کسی بھی خبر پر شک ہے جس کا اثر آپ کے معاشرے اور ملک پر پڑ سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ ہمیں یہاں جانکاری بھیج سکتے ہیں۔ آپ ہم سے ای میل کے ذریعہ رابطہ کر سکتے ہیں
contact@vishvasnews.com 
اس کے ساتھ ہی واٹس ایپ (نمبر9205270923 ) کے ذریعہ بھی اطلاع دے سکتے ہیں۔

  • Claim Review : وائناڈ میں راہل کی جیت کے جشن کی تصویر
  • Claimed By : Fb User- Deepakkumar Kumar
  • Fact Check : False
False
    Symbols that define nature of fake news
  • True
  • Misleading
  • False
جانیں سچی اور فرضی خبروں کی حقیقت کوئز کھیلیں اور خبروں کی حقیقت چیک کرنے کا طریقہ سیکھیں کوئز کھیلے

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Post saved! You can read it later