X

فیکٹ چیک: افغانستان سیفر کی غائب ہوئی بیٹی کی نہیں ہے یہ وائرل تصویر

وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ وائرل دعوی گمراہ کن ہے۔ یہ تصویر افغانستان کے سفیر نجیب اللہ علی خیل کی بیٹی کی نہیں ہے۔

  • By Vishvas News
  • Updated: July 20, 2021

نئی دہلی (وشواس نیوز)۔ افغانستان اور پاکستان کے مابین چل رہی کشیدگی کے درمیان ہی گزشتہ روز پاکستان کے اسلام آباد میں افغانستان کے سفیر نجیب اللہ علی خیل کی بیٹی کو مبینہ طور پر اغوا کرنے کا معاملہ پیش آیا۔ اب اسی طرز میں سوشل میڈیا پر ایک خاتون کی تصویر وائرل ہو رہی ہے۔ تصویر میں خاتون کے چہرہ پر چوٹ نے نشان ہیں اور یہ دعوی کیا جا رہا ہے کہ یہ افغان سفیر کی بیٹی ہیں جن کا اغوا ہوا تھا۔ وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ وائرل دعوی گمراہ کن ہے۔ یہ تصویر افغانستان کے سفیر نجیب اللہ علی خیل کی بیٹی کی نہیں ہے۔

کیا ہے وائرل پوسٹ میں؟

فیس بک صارف اخطاری نے وائرل تصویر کو شیئر کرتے ہوئے لکھا، ’افغانستان کے سفیر نجیب اللہ علیخیل اللھ کی بیٹی سلسلہ علی اسلام آباد جناح سپر سے دوپہر کے وقت اغواء اور شام کو زخمی حالت میں پھینک دینا ثابت کرتا ہے کے اس ملک میں کوئی عورت محفوظ نہیں ابھی تک نہ ملزم گرفتار ہوئے نہ ہی کسی نمائندے نے کوئی اسٹیٹمنٹ دی مدینے کی ریاست والے سو رہے ہیں‘‘۔

پوسٹ کے آرکائیو ورژن کو یہاں دیکھیں۔

پڑتال

اپنی پرتال کو شروع کرتے ہوئے سب سے پہلے ہم نے گوگل نیوز سرچ کیا۔ 18 جولائی 2021 کو نجیب اللہ خیل کی جانب سے اسی معاملہ پر کیا گیا ایک ٹویٹ ملا۔ ٹویٹ میں انہوں نے لکھا، ’کل میری بیٹی کو اسلام آباد سے اغوا کیا گیا ہے اور اس پر تشدد ہوا۔ لیکن وہ اللہ کے کرم سے بچ گئی۔ اب وہ بہتر ہے۔ اس بربریت والے حملہ کا دونوں ممالک پر اثر پڑےگا‘‘۔

ٹربیون ڈاٹ پی کے، دا ٹائمس آف انڈیا، ہیڈ لائنس ٹوڈے پر 19جولائی کو پاکستان میں اس معاملہ پر تفتیش کر رہی پولیس کے حوالے سے لکھا گیا کہ افغانستان ابیسڈر کی بیٹی اغوا ہونے کا کوئی بھی ثبوت حاصل نہیں ہوا ہے۔ حالاںکہ معاملہ ابھی زیر تفتیش ہے۔ خبر کو یہاں پڑھیں۔

اپنی تفتیش کو آگے بڑھاتے ہوئے ہم نےیہ جاننے کی کوشش کی کہ جس خاتون کی تصویر وائرل ہو رہی ہے وہ کون ہیں۔ سرچ میں ہمیں گل چاہت نام کا ایک فیس بک اکاؤنٹ ملا جس میں وائرل تصویر کو دیکھا جا سکتا ہے۔ اس تصویر سے جڑا ہوا ہمیں ایک ویڈیو بھی ملا۔ ویڈیو میں ان کے چہرہ پر خون کے نشان اور چوٹ کے دھبے ہیں وہ روتے ہوئے پشتو زنان میں عمران خان سے مدد کی گہار لگا رہی ہیں۔

مزید سرچ میں ہم نے گوگل پر گل چاہت پاکستان ٹائپ کر کے سرچ کیا۔ سرچ میں ہمیں دا سن ڈاٹ پی کے کی ایک خبر لگی جس میں دی گئی معلومات کے مطابق گل چاہت پاکستان کی ایک ٹرانسجینڈر ٹاک ٹاک اسٹار ہیں۔اور خیبر پختنخوا سے تلعق رکھتی ہیں۔

اب تک کی تفتیش سے یہ تو واضح ہو گیا تھا کہ جس خاتون کی تصویر کو وائرل کرتے ہوئے افغانستان امبیسڈر کی بیٹی ہونے کا دعوی کیا جا رہا ہے وہ غلط ہے۔ مزید سرچ میں ہم ہمارے ہاتھ 18جولائی کو افغانستانی امبیسڈر نجیب علی خیل کا ایک ٹویٹ لگا جس میں انہوں نے اپنی بیٹی کی اصل تصویر کو شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے، میں یہاں اپنی بیٹی سیریز علی خیل کی تصویر پوسٹ کرنے پر مجبور ہوں، کیونکہ کسی اور کی تصویر سوشل میڈیا پر میری بیٹی کے نام سے پھیلائی جا رہی ہے۔ حالانکہ میں اسے بالکل بھی نہیں جانتا ہوں‘‘۔

اگر وائرل تصویر کو افغان کے سفیر کی بیٹی کی تصویر کا موازنہ کیا جائے تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ دونوں ہی الگ خواتین ہیں۔

مزید تصدیق حاصل کرنے کے لئے ہم نے پاکستان کے بول نیوز کے ڈجیٹل ایڈیٹر دانیال سے رابطہ کیا اور وائرل پوسٹ سے متعلق معلومات حاصل کرنی چاہی۔ انہوں نے ہمارے ساتھ امبیسڈر نجیب علی خیل کی بیٹی کی اصل تصویر شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ یہ جو دعوی وائرل ہو رہا ہے وہ غلط ہے۔

گمراہ کن پوسٹ کو شیئر کرنے والے فیس بک صارف اختری کی سوشل اسکیننگ میں ہم نے پایا کہ صارف کو 2100لوگ فالوو کرتے ہیں۔

نتیجہ: وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ وائرل دعوی گمراہ کن ہے۔ یہ تصویر افغانستان کے سفیر نجیب اللہ علی خیل کی بیٹی کی نہیں ہے۔

  • Claim Review : دعوی کیا جا رہا ہے کہ یہ افغان سفیر کی بیٹی ہیں جن کا اغوا ہوا تھا۔
  • Claimed By : Akhtari Akhtari
  • Fact Check : گمراہ کن
گمراہ کن
فرضی خبروں کی نوعیت کو بتانے والے علامت
  • سچ
  • گمراہ کن
  • جھوٹ‎

مکمل حقیقت جانیں... کسی معلومات یا افواہ پر شک ہو تو ہمیں بتائیں

سب کو بتائیں، سچ جاننا آپ کا حق ہے۔ اگر آپ کو ایسے کسی بھی میسج یا افواہ پر شبہ ہے جس کا اثر معاشرے، ملک یا آپ پر ہو سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ آپ نیچے دئے گئے کسی بھی ذرائع ابلاغ کے ذریعہ معلومات بھیج سکتے ہیں۔

ٹیگز

اپنی راے دیں
مزید پڑھ

No more pages to load

متعلقہ مضامین

Next pageNext pageNext page

Post saved! You can read it later