X

فیکٹ چیک: رافیل معاملہ میں نریندر مودی پر کیس درج ہونے کی خبر جھوٹی ہے

نئی دہلی (وشواس نیوز)۔ رافیل اسکیم معاملہ میں سپریم کورٹ نے وزیر اعظم نریندر مودی پر کیس درج کرنے کا کوئی حکم نہیں دیا ہے۔ وشواس ٹیم کی پڑتال میں پی ایم مودی کے خلاف سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک پر وائرل ہو رہی پوسٹ پوری طرح فرضی ثابت ہوتی ہے۔

کیا ہے وائرل پوسٹ میں؟

فیس بک پر وائرل ہو رہی پوسٹ میں نیوز ایکسپریس نام کی ویب سائٹ کی خبر کا لنک دیا گیا ہے۔ وائرل ہو رہی خبر کی تصویر میں اے بی پی کے نام کے لوگو کے ساتھ بریکنگ نیوز کا ایک اسکرین شاٹ لگایا گیا ہے۔ اس میں لکھا ہے۔ سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، رافیل اسکیم میں نریندر مودی پر کیس درج کرنے کا حکم، بی جے پی میں ہنگامہ۔ اس خبر کے فرضی ہونے کا سب سے پہلے ایسے پتہ چلتا ہے کہ خبر کی ہیڈ لائین اور اسکرین شاٹ میں کہی گئی بات پوری خبر میں کہیں نہیں لکھی گئی ہے۔ یہ بھی نہیں بتایا گیا ہے کہ آخر ویب سائٹ دعوی کیا کرنا چاہ رہی ہے۔

اس خبر کے لنک کے ساتھ اسے بی جے پی مکت بھارت نام کے فیس بک پیج پر پوسٹ کیا گیا۔ اس پوسٹ کو اب تک 620 بار شیئر کیا جا چکا ہے۔ اس پر ایک ہزار سے زیادہ ردعمل آچکے ہیں۔ اس پیج کو تقریبا تین لاکھ لوگ فالو کرتے ہیں۔ اس پوسٹ کو 26 فروری 2019 کو ہی ڈالا گیا ہے۔

سوشل میڈیا  اسکیننگ کر کے ہمیں پتہ چلا کہ یہ پوسٹ آج سے نہیں بلکہ سال 2018 سے پھیلائی جا رہی ہے۔ اسے سماجوادی ڈیجیٹل فورس: مشن 2019 (نیچے انگریزی میں دیکھیں) نام کے فیس بک پیج پر 3 نومبر 2018 کو پوسٹ کیا گیا تھا۔ اس پوسٹ کو بھی 250 شیئر ملے تھے۔
Samajwadi Digital Force: Mission 2019

فیکٹ چیک

سب سے پہلے ہم نے نیوز ایکسپریس ویب سائٹ کی اسکیننگ کی۔ ویب سائٹ کو دیکھنے سے ہی پتہ چلتا ہے کہ یہ کوئی مشہور ویب سائٹ نہیں ہے۔ اسے کھولتے ہی متعدد فحش ایڈ اور مواد دیکھنے کو ملےگا۔ علاوہ ازیں نہ ہی ویب سائٹ کا منیو کام کرتا ہے نہ ہی ویب سائٹ کے بارے میں کوئی  تفصیلات دی گئی ہے۔

اس کے علاوہ متعلقہ کنٹینٹ میں بھی آپ کو فیک یا فحش نیوز ملیں گی۔ اس سے یہ صاف ہو جاتا ہے کہ یہ کوئی نیوز ویب سائٹ نہیں بلکہ اسی طرح کی فرضی خبروں کو پوسٹ کرنے والی ویب سائٹ ہے۔

فیس بک پیج بی جے پی مکت بھارت زیادہ تر اسی ویب سائٹ کی خبریں پوسٹ کرتا ہے۔ اس کے علاوہ پوسٹ میں اے بی پی نیوز کا دیا اسکرین شاٹ بھی فرضی ہے۔ اس سے متعلق تصدیق کے لئے ہم نے اے بی پی نیوز کے ایڈیٹر پنکج جھا سے بات کی۔ انہوں نے ہمیں بتایا کہ اسکرین شاٹ میں دیا گیا لوگو فیک ہے اور ہمارے میڈیا ادارے کے لوگو کا ایسا فانٹ نہیں ہے۔

ہم نے ویب سائٹ کے بارے میں اور جاننے کے لئے ’ہوایز‘ (نیچے انگریزی میں دیکھیں) کا سہارا لیا۔ ہمیں یہ پتہ چلا کہ اس سائٹ کا رجسٹریشن 26 اگست 2018 کو کیا گیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی یہ بہار سے اوپریٹ کی جاتی ہے۔
whois 

اس کے بعد ہم نے بی جے پی مکت بھارت (نیچے گروپ کا نام دیکھیں) نام کے پیج کا اسٹاک اسکین (نیچے انگریزی میں دکھیں) کیا۔ اس پیج کی زیادہ تر پوسٹ بی جے پی کے خلاف ہوتی ہیں۔
Stalkscan, BJP मुक्त भारत 

نتیجہ: وشواس نیوز کی پڑتال میں یہ پتہ چلا ہے کہ یہ خبر پوری طرح سے فیک ہے۔ اس خبر کا وزیر اعظم نریندر مودی سے کوئی لینا- دینا نہیں ہے۔

مکمل سچ جانیں…سب کو بتائیں

اگر آپ کو ایسی کسی بھی خبر پر شک ہے جس کا اثر آپ کے معاشرے اور ملک پر پڑ سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ ہمیں یہاں جانکاری بھیج سکتے ہیں۔ آپ ہم سے ای میل کے ذریعہ رابطہ کر سکتے ہیں
contact@vishvasnews.com 
اس کے ساتھ ہی واٹس ایپ (نمبر9205270923 ) کے ذریعہ بھی اطلاع دے سکتے ہیں۔

  • Claim Review : رافیل معاملہ پر نریندر مودی پر کیس درج کیا گیا ہے
  • Claimed By : BJP मुक्त भारत
  • Fact Check : False
False
    Symbols that define nature of fake news
  • True
  • Misleading
  • False
جانیں سچی اور فرضی خبروں کی حقیقت کوئز کھیلیں اور خبروں کی حقیقت چیک کرنے کا طریقہ سیکھیں کوئز کھیلے

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Post saved! You can read it later