X

فیکٹ چیک: اٹلی کے خزانے کی پرانی تصاویر مدھیہ پردیش کے بیتول کے نام پر ہو رہی ہیں وائرل

نئی دہلی (وشواس نیوز)۔ سوشل میڈیا پر خزانے کے نام پر سونے کے سکوں کی کچھ تصاویر وائرل ہو رہی ہیں۔ اس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ سکے مدھیہ پردیش کے بیتول کے ایک ڈیم کی کھدائی کے وقت ملے۔ اتنا ہی نہیں، خزانے کے بارے میں یہاں تک دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ خزانہ انگریزوں کا ہے۔ وشواس ٹیم کی پڑتال میں یہ دعویٰ فرضی ثابت ہوا۔ بیتول سے کوئی خزانہ نہیں ملا ہے۔ جس تصویر کو بیتول کی بتایا جا رہا ہے، وہ دراصل اٹلی کے کومو شہر میں گزشتہ سال ملے خزا نے کی ہے۔

کیا ہے وائرل پوسٹ میں

دیویندر سونی نام کے فیس بک صارف نے 4 جون کو پانچ تصاویر کو اپ لوڈ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ گرام پنچایت کھیڑلی گاؤں باڑھی بیتول میں ڈیم کھدائی کرتے وقت انگریزوں کے زمانے کا خزانہ!!!‘‘۔
@devendra.sony.7

اس پوسٹ کو 125 لوگ اب تک شیئر کر چکے ہیں۔ دیویندر سونی کے علاوہ بھی متعدد صارفین اس فرضی پوسٹ کو سوشل میڈیا میں وائرل کر رہے ہیں۔

پڑتال

وشواس ٹیم نے سب سے پہلے وائرل ہو رہی پوسٹ کی تصاویر کو غور سے دیکھا۔ اس پوسٹ میں پانچ تصاویر کا استعمال کیا گیا۔ چار تصاویر سونے کے سکوں کی تھیں تو ایک تصویر میں مقامی لوگ نظر آرہے تھے۔ سب سے پہلے وشواس ٹیم نے گوگل رورس امیج ٹول کی مدد سے سونے کے سکوں کی حقیقت جاننی چاہی۔ گوگل رورس امیج ٹول کی مدد سے ہمیں کئی ایسی ویب سائٹ کے لنک ملے، جہاں ان سکوں کی سچائی بتائی گئی تھی۔

ایک ایسا ہی لنک ہمیں انڈین ایکسپریس کی ویب سائٹ پر بھی ملا۔ 11 ستمبر 2018 کو شائع ہوئی اس خبر کی سرخی تھی
Amphora filled with hundreds of Roman gold coins found during archaeological dig in Italy.

خبر میں بتایا گیا کہ اٹلی کے کومو شہر میں ایک تھیئٹر کے بیسمنٹ میں کھدائی کے دوران ہزاروں سونے کے سکے ملے۔ یہ سکے ہزاروں سال پرانے ہیں۔

ان ویڈ (نیچے انگریزی میں دیکھیں) ٹول کی مدد سے اب ہمیں یہ جاننا تھا کہ ’خرانے‘ کی اصل تصویر کیا ٹویٹر پر بھی موجود ہے۔ ہمیں اٹلی حکومت کے منسٹری آف کلچرل ہیریٹیج اینڈ اکٹیویٹیز (نیچے انگریزی میں دیکھیں) کے ٹویٹر ہینڈل پر وائرل ہو رہی تصاویر ملیں۔ یہ ٹویٹ 7 ستمبر 2018 کو کیا گیا تھا۔
InVID , Ministry of Cultural Heritage and Activities (@_MiBAC)  

اتالوی زبان میں کئے گئے اس ٹویٹ کو ہم نے گوگل ٹرانسلیٹ کی مدد سے انگریزی میں ترجمہ کیا۔ اس کے مطابق، کومو شہر کے وسط میں پرانے سونے کے سکے ملے۔ کومو اٹلی کا ایک  مشہور شہر ہے۔

اس کے بعد ہم  نے مدھیہ پردیش واقع بیتول کے نئی دنیا اخبار کے بیورو چیف ونے ورما سے رابطہ کیا۔ انہوں نے وشواس ٹیم کو بتایا کہ مدھیہ پردیش کے بیتول ضلع کے کھیڑلی راول باڑی میں ڈیم کی کھدائی میں انگریزوں کے زمانے کا خزانہ ملنے کی بات فرضی ہے۔

ڈی ایس پی موتی لال کشواہا کا کہنا ہے کہ خزانہ کی تصویر وائرل ہونے کے بعد گنج تھانا پولیس کھیڑلی گاؤں پہنچی اور وہاں گاؤں والوں سے پوچھ گچھ کی تو پتہ چلا کہ وہاں طالاب کی گہرائی کا کام جاری ہے، وہاں کوئی خزانہ نہیں نکلا ہے۔

بالآخر میں ہم نے فرضی پوسٹ کرنے والے صارف دیویندر سونی کے فیس بک اکاؤنٹ کی سوشل اسکیننگ کی۔ اس میں ہم اسٹاک اسکین (نیچے انگریزی میں دیکھیں) ٹول کی مدد لی۔ اس سے ہمیں پتہ چلا کہ دیویندر بھوپال سے گریجوئیٹ ہیں۔
Stalkscan 

 نتیجہ: وشواس ٹیم کی پڑتال میں پتہ چلا کہ وائرل تصاویر بیتول کی نہیں ہیں۔ خزانہ کی تصویر ستمبر 2018 کو اٹلی کے کومو شہر کی ہے۔

مکمل سچ جانیں…سب کو بتائیں

اگر آپ کو ایسی کسی بھی خبر پر شک ہے جس کا اثر آپ کے معاشرے اور ملک پر پڑ سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ ہمیں یہاں جانکاری بھیج سکتے ہیں۔ آپ ہم سے ای میل کے ذریعہ رابطہ کر سکتے ہیں
contact@vishvasnews.com 
اس کے ساتھ ہی واٹس ایپ (نمبر9205270923 ) کے ذریعہ بھی اطلاع دے سکتے ہیں۔

  • Claim Review : مدھیہ پردیش کے بیتول میں ایک ڈیم کی کھدائی کے وقت خزانہ ملا۔
  • Claimed By : FB User- Devendra Sony
  • Fact Check : False
False
    Symbols that define nature of fake news
  • True
  • Misleading
  • False
جانیں سچی اور فرضی خبروں کی حقیقت کوئز کھیلیں اور خبروں کی حقیقت چیک کرنے کا طریقہ سیکھیں کوئز کھیلے

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Post saved! You can read it later