X

فیکٹ چیک: 2011 میں سکھ نوجوان کے ساتھ ہوئی بدسلوکی کا ویڈیو سی اے اے کے مظاہرے کے نام پر اب وائرل

  • By Vishvas News
  • Updated: February 6, 2020

نئی دہلی (وشواس نیوز)۔ سوشل میڈیا پر ایک پرانے ویڈیو کو کچھ لوگ جھوٹے اور متنازعہ دعوے کے ساتھ وائرل کر رہے ہیں۔ اس ویڈیو میں پولیس اہلکار کو ایک سکھ نوجوان کے ساتھ بدسلوکی کرتے ہوئے دیکھ سکتےہیں۔ صارفین کا دعویٰ ہے کہ سی اے اے کے احتجاج میں مسلمان پگڑی پہن کر مظاہرہ کر رہے ہیں۔

وشواس نیوز کی پڑتال میں وائرل پوسٹ کا دعویٰ جھوٹ نکلا۔ 28 مارچ 2011 میں پنجاب کے موہالی میں ہوئے ایک معاملہ کو کچھ لوگ شہریت ترمیمی قانون کی مخالفت سے جوڑ کر وائرل کر رہے ہیں۔

کیا ہے وائرل پوسٹ میں؟

فیس بک صارف ’رشیکیش پاٹل‘ نے ایک ویڈیو شیئر کیا جس کے ساتھ کیپشن میں لکھا، ’’ سی اے اے کی مخالفت مسلمان پگڑی پہن کر کر رہیں ہیں جس سے لگے کہ سکھ ان کی مخالفت میں ہیں، آگاہ رہیں‘‘۔

پڑتال

وشواس نیوز نے سب سے پہلے 13 سیکنڈ کے ویڈیو کو دیکھا۔ اس میں کچھ پولیس اہلکاروں کو ایک سکھ نوجوان کے ساتھ بدسلوکی کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ وشواس نیوز نے ویڈیو گریب نکال کر گوگل رورس امیج میں سرچ کیا۔ ہمیں سکھ نیٹ ڈاٹ کام پر ایک خبر ملی۔ اس میں بتایا گیا کہ 28 مارچ 2011 کو موہالی کے سی پی اے اسٹیڈیم کے پاس رورل ویٹنری فارماسسٹ سے منسلک لوگ پر امن مظاہرہ کر رہے تھے۔ تبھی کچھ پولیس اہلکار ایک سکھ نوجوان کے ساتھ بدتمیزی کی۔

سرچ کے دوران ہمیں ٹائمس آف انڈیا کی ویب سائٹ پر ایک خبر ملی۔ 31 مارچ 2011 کو شائع اس خبر میں بتایا گیا کہ 28 مارچ 2011 کو موہالی کے پی سی اے اسٹیڈیم کے پاس رورل ویٹنری فارماسسٹ کے احتجاج کے وقت ایک سکھ نوجوان کے ساتھ بدتمیزی کے الزام میں ایس پی پریتم سنگھ اور فیز 8 پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ او کلبھوشن سنگھ کو معطل کر دیا گیا۔ علاوہ ازیں پورے معاملہ کی حقیقت معلوم کرنے کے لئے مسجسٹریئل جانچ کے حکم بھی دئے گئے۔

اب وشواس نیوز نے اس معاملہ کی تصدیق کے لئے ہمارے ساتھی پنجابی جاگرن کے موہالی ضلع انچارج رپورٹر ستوندر ڈدھاک سے رابطہ کیا۔ آپ کو بتا دیں کہ ستوندر سنگھ اس مظاہرے کو کوور کر رہے تھے اور اس جگہ پر ہی موجود تھے۔ ستوندر نے وشواس نیوز کےساتھ بات کرتے ہوئے بتایا، ’’اس معاملہ کا ہندو اور مسلم اور سی اے اے کے خلاف ہو رہے مظاہروں سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ اصل میں مارچ 2011 میں پنجاب میں فارماسسٹ پی سی اے اسٹیڈیم کے باہر مظاہرہ کر رہے تھے اور اس دوران ہی ایک سکھ مظاہر کے ساتھ پولیس افسر نے بدتمیزی کر دی۔ پولیس افسروں کو معطل بھی کر دیا گیا تھا۔ اس معاملہ میں موہالی کے ایس پی پریتم سنگھ اور موہالی فیز 8 ایس ایچ او کلبھوشن سنگھ معطل کئے گئے تھے‘‘۔

اب باری تھی اس پوسٹ کو فرضی حوالے کے ساتھ وائرل کرنے والے فیس بک صارف کی سوشل اسکیننگ کرنے کی۔ ہم نے پایا کہ اس صارف کی جانب سے اس سے قبل بھی فرضی پوسٹ شیئر کی جا چکی ہیں۔ علاوہ ازیں اس صارف کو11,303 لوگ فالوو کرتے ہیں۔

نتیجہ: وشواس نیوز کی پڑتال میں پتہ چلا کہ وائرل پوسٹ کا دعویٰ جھوٹا ہے۔ ویڈیو میں نظر آرہا شخص مسلم نہیں، سکھ تطا۔ ویڈیو کا شہریت ترمیمی قانون کی مخالفت میں ہو رہے مظاہروں سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ ویڈیو 28 مارچ 2011 میں پنجاب کے موہالی میں ہوئے فارماسسٹ کے احتجاج کا ہے۔

مکمل حقیقت جانیں... کسی معلومات یا افواہ پر شک ہو تو ہمیں بتائیں

سب کو بتائیں، سچ جاننا آپ کا حق ہے۔ اگر آپ کو ایسے کسی بھی میسج یا افواہ پر شبہ ہے جس کا اثر معاشرے، ملک یا آپ پر ہو سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ آپ نیچے دئے گئے کسی بھی ذرائع ابلاغ کے ذریعہ معلومات بھیج سکتے ہیں۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Post saved! You can read it later