X

فیکٹ چیک: ایمس کی ڈاکٹر اما کمار نے امیونٹی کو لے کر نہیں دیا ہے انٹرویو، وائرل پوسٹ فرضی ہے

  • By Vishvas News
  • Updated: June 5, 2020

نئی دہلی (وشواس نیوز)۔ فیس بک سے لے کر واٹس ایپ تک، ایمس اسپتال کی سینئر ڈاکٹر، اما کمار کا جعلی انٹرویو وائرل ہو رہا ہے۔ یہ دعوی کیا جارہا ہے کہ ڈاکٹر نے کورونا وائرس سے متعلق ایک انٹرویو دیا تھا۔

وشواس نیوز نے اس انٹرویو کی تفتیش کی۔ ہماری تحقیقات میں یہ انٹرویو فرضی نکلا۔ ڈاکٹر اما نے ایسا کوئی انٹرویو نہیں دیا۔

کیا ہے وائرل پوسٹ میں؟

فیس بک پیج ’منسونگ‘ لی جانب سے 3 جون کو ایک فرضی انٹرویو شیئر کیا گیا۔ انٹرویو میں ایمس کی سینئر ڈاکٹر اما کمار کے حوالے سے یہ دعوی کیا گیا تھا کہ کورونا وائرس کی دوا جسم میں ہی ہے۔

پڑتال

وشواس نیوز نے سب سے پہلے ڈاکٹر اما کمار کے بارے میں معلومات اکٹھا کیں، جیسا کہ ان کا ذکر وائرل انٹرویو میں کیا گیا تھا۔ اس کے لئے، ہم نے گوگل سرچ میں ڈاکٹر اما کمار کو ٹائپ کرکے تلاش کیا۔ ہمیں معلوم ہوا کہ ڈاکٹر اما کمار ایمس کے شعبہ ریمیٹولوجی کے ایچ او ڈی ہیں۔

اس کے بعد ، اب ہمیں یہ جاننا تھا کہ کیا ڈاکٹر اما نے کورونا وائرس سے متعلق کوئی انٹرویو دیا ہے؟ ہمیں یہ ثابت کرنے کے لئے گوگل سرچ میں کوئی خبر یا انٹرویو نہیں ملا کہ ڈاکٹر اما نے یہ انٹرویو دیا تھا۔

تفتیش کے دوران ہم نے ڈاکٹر اوما کمار کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ کی جانچ کی۔ ہمیں ان کے فیس بک اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ ملی۔ 31 مئی کو، ڈاکٹر اوما کمار نے اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر لکھا ہے کہ کچھ لوگ ان کی تصاویر اور پیشہ ورانہ معلومات کا استعمال کرتے ہوئے کچھ کنٹینٹ سوشل میڈیا پر وائرل کررہے ہیں۔ آپ ان کی مکمل پوسٹ نیچے دیکھ سکتے ہیں۔

تفتیش کے اگلے مرحلے میں ، ہم نے ڈاکٹر اما کمار سے رابطہ کیا۔ انہوں نے ہمیں بتایا کہ میں نے اس مخصوص موضوع سے منسلک ایسا کوئی انٹرویو نہیں دیا ہے۔

اب باری تھی اس فرضی انٹرویو کو شیئر کرنے والے فیس بک پیج منسونگ کی سوشل اسکیننگ کرنے کی۔ ہم نے پایا کہ اس پیج کو 1420 صارفین فالوو کرتے ہیں۔

نتیجہ: وشواس نیوز کی تحقیقات کے دوران ڈاکٹر اما کمار کے نام پر وائرل انٹرویو فرضی نکلا۔ انہوں نے ایسا کوئی انٹرویو نہیں دیا ہے۔

مکمل حقیقت جانیں... کسی معلومات یا افواہ پر شک ہو تو ہمیں بتائیں

سب کو بتائیں، سچ جاننا آپ کا حق ہے۔ اگر آپ کو ایسے کسی بھی میسج یا افواہ پر شبہ ہے جس کا اثر معاشرے، ملک یا آپ پر ہو سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ آپ نیچے دئے گئے کسی بھی ذرائع ابلاغ کے ذریعہ معلومات بھیج سکتے ہیں۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Post saved! You can read it later