X

فیکٹ چیک: راجستھان کے گنگاپور میں مسلمانوں کو نہیں مارنے آئی بھیڑ، غلط دعویٰ کے ساتھ ویڈیو ہو رہا وائرل

نئی دہلی (وشواس ٹیم)۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہو رہا ہے، جس میں بھیڑ نظر آرہی ہے۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ گنگا پور میں مبینہ طور سے ہندو یووا واہنی کے لوگ مسلمانوں کو مارنے آئے تھے، لیکن مسلمانوں کو ایک ساتھ دیکھ کر وہاں سے چلے گئے۔ جس ویڈیو کو ہندو یووا واہینی کے کارکنان کا بتا کر وائرل کیا جا رہا ہے، وہ وشو ہندو پریشد کی ریلی تھی، جسے طے شدہ تقریب کے تحت نکالا جا رہا تھا۔ نہ کہ ویسی بھیڑ، جو مسلمانوں کو مارنے کے لئے نکلی تھی۔

کیا ہے وائرل پوسٹ میں

فیس بک پر وائرل ہو رہے پوسٹ میں ویڈیو کو شیئر کیا گیا ہے۔ ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا گیا ہے، ’’گنگا پور کا ماحول خراب ہو گیا ہندو یووا واہنی کے لوگ مسلم علاقہ میں مسلمانوں کو مارنے کے لئے آئے تھے۔ مسلمانوں کو ایک ساتھ دیکھ کر بھاگ گئے ہیں۔ حفاظت سے رہے اور ایکتا بنائے رکھیں اب وقت آگیا ہے مسلمانوں کو ایک ہونے کا…ایک دوسرے کی مدد کریں اکیلا چھوڑ کر نہ بھاگیں…!‘‘۔

فیس بک پر اس ویڈیو کو آفتاب عالم خان نام کے صارف نے 2 ستمبر کو شیئر کیا ہے جسے اب تک ایک ہزار سے زیادہ لوگ شیئر کر چکے ہیں، وہیں اس ویڈیو کو 40,141 لوگوں نے دیکھا ہے۔

پڑتال

سوشل میڈیا سرچ میں ہمیں پتہ چلا کہ یہ ویڈیو متعدد صارفین نے ملتے جلتے دعویٰ کے ساتھ شیئر کیا ہے۔

پڑتال کی شروعات میں ہمیں پتہ چلا کہ سوشل میڈیا پر غلط دعویٰ کے ساتھ وائرل ہو رہا ویڈیو راجستھان کے سوائی مادھپور ضلع کے شہر گنگاپور کا ہے۔ ویڈیو سے ملے کی فریمس کو ان سبھی کی ورڈس کے ساتھ رورس امیج سرچ کرنے پر ’راجسھتان پتریکا‘ کے یو ٹیوب چینل پر 27 اگست 2019 کو اپ لوڈ کیا گیا بولیٹن ملا۔ بولیٹن کو ’گنگا پور سٹی‘ میں ہنگامہ میں پتھربازوں کا پوری سرچ، اس ویڈیو میں دیکھیں‘ کی سرخی سے اپ لوڈ کیا گیا ہے۔

پتریکا کی اس ویڈیو رپورٹنگ میں اسی ویڈیو کا استعمال کیا گیا ہے، جو وائرل پوسٹ میں ہے۔ ویڈیو رپورٹ کے مطابق، متعلقہ ریلی وشو ہندو پریشد کی تھی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے، ’’وشو ہندو پریشد کی ریلی پر اتوار کو ہوئے پتھربازی کے بعد ہوئے ہنگامہ پر پولیس اہلکاروں کی نظر ہے۔ موبائل فون کی ریکارڈنگ کے بعد اب پولیس ان لوگوں کو حراست میں لیا گیا ہے جو اس ہنگامہ کی اہم وجہ ہیں۔ اس ہنگامہ کے پیچھے کون لوگ ہیں اور انہوں نے پولیس کے سامنے ہی اس دن کیا کیا، یہ بتانے کے لئے ویڈیو کافی ہے‘‘۔

نیوز سرچ میں اسکرول ڈاٹ ان کے ویب پورٹل پر 26 اگست 2019 کو شائع کی گئی رپورٹ ملی، جس میں بتایا گیا کہ گنگاپور میں ہوئی وی ایچ پی کی ریلی پر پتھربازی کرنے کے معاملہ میں پولیس نے 45 لوگوں کی حراست میں لیا ہے۔

خبر کے مطابق، ’راجستھان کے سوائی مادھوپور ضلع کے گنگاپور سٹی قصبہ میں اتوار کو وشو ہندو پریشد کی جانب سے نکالی جا رہی ایک ریلی پر پھوایا چوک کے پاس ایک مسجد اور آس پاس کے گھروں سے پتھربازی کئے جانے کے بعد قصبہ میں ماحول کشیدہ ہو گیا تھا۔ گنگا پور کے سرکل آفیسر پراتاپ مل نے بتایا کہ قصبہ میں قانونی نظام برقرار رکھنے کے لئے پولیس فوسز تعینات کی گئی ہیں۔ حالات پوری طرح قابو میں ہیں اور قصبہ میں امن ہیں‘‘۔

انڈیا ٹوڈے کے ویب پورٹل میں بھی اس معاملہ کے بارے میں تفصیل سے اطلاع دی گئی ہے۔

یعنی وائرل پوسٹ کا دعویٰ غلط ہے کہ ہندو یووا واہنی کے لوگ گنگا پور میں مسلمانوں کو مارنے پیٹنے آئے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ 25 اگست 2019 کو راستھان کے سوائی مودھاپور ضلع کے گنگا پور میں وشو ہندو پریشد کی ریلی نکالی گئی تھی، جس پر پتھربازی کے بعد علاقہ کا ماحول کشیدہ ہو گیا تھا۔

اس کے بعد وشواس نیوز نے سوائی مادھوپور ضلع کے پولیس ایس پی سدھیر چودھری سے بات کی۔ انہوں نے ویڈیو کی تصدیق کرتے ہوئے وائرل دعویٰ کو خارج کیا۔ چودھری نے کہا، ’’معاملہ گزشتہ ماہ کا ہے، جب گنگا پور میں منظوری کے بعد وشو ہندو پریشد کی ایک ریلی نکلی تھی، جس پر پتھربازی کے بعد کشیدہ حالات ہو گئے تھے، لیکن پولیس نے اسے فورا قابو کر لیا‘۔ انہوں نے کہا، ’’اس معاملہ میں شروعات طور پر 45 لوگوں کو گرفتار کیا گیا تھا۔ بعد میں 25 لوگوں کے خلاف مختلف دفعات میں مقدمہ درج کیا گیا‘‘۔

پتھربازی میں ہوئے زخمیوں کے بارے میں پوچھے جانے پر چودھری نے کہا، ’’بھیڑ میں شامل کچھ لوگوں کو معامولی چوٹیں آئی تھیں، جنہیں علاج کے بعد گھر بھیج دیا گیا‘‘۔

چودھری نے بتایا کہ اس معاملہ میں پولیس نے فوری کاروائی کی اور حکمِ امتناعی نافذ کیا۔ اس کے بعد دونوں گروپوں کے لوگوں کو ساتھ بیٹھا کر پر امن طریقہ سے ثالثی کرائی گئی۔ موجودہ حالات کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے کہا، ’’علاقہ میں حالات پر امن ہیں اور معمول کی زندگی مکمل طور پر صحیح ہے‘‘۔

اب باری تھی اس ویڈیو کو فرضی حوالے کے ساتھ وائرل کرنے والے فیس بک صارف آفتاب عالم خان کی سوشل اسکیننگ کرنے کی۔ ہم نے پایا کہ انہیں 616 صارفین فالوو کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں ان کی جانب سے زیادہ تر خبریں پوسٹ کی جاتی ہیں۔

نتیجہ: راجستھان کے سوائی مادھوپور ضلع کے گنگا پور میں ہندو یووا واہنی کے کارکنان کا ایک ساتھ ہو کر مسلمانوں کو پیٹے جانے کے ساتھ وائرل ہو رہا ویڈیو غلط ہے۔ گنگا پور میں وشو ہندو پریشد کی ریلی ہوئی تھی، نہ ہی ہندو یووا واہینی کی، جس کا دعویٰ وائرل ویڈیو میں کیا جا رہا ہے۔ اس ریلی پر پتھربازی کے بعد ماحول کشیدہ ہو گیا تھا، لیکن معاملہ پر جلد ہی قابو پا لیا گیا۔ یہ ریلی پولیس کی منضوری کے بعد نکلی تھی، نہ کی کوئی ویسی بھیڑ تھی، جو مسلمانوں کو پیٹنے کے مقصد سے نکالی گئی ہو۔

  • Claim Review : گنگا پور کا ماحول خراب ہو گیا ہندو یووا واہنی کے لوگ مسلم علاقہ میں مسلمانوں کو مارنے کے لئے آئے تھے۔ مسلمانوں کی ایکتا کو دیکھ کر بھاگ گئے ہیں۔ حفاظت سے رہے اور ایکتا بنائے رکھیں اب وقت آگیا ہے مسلمانوں کو ایک ہونے کا...ایک دوسرے کی مدد کریں اکیلا چھوڑ کر نہ بھاگیں
  • Claimed By : Fb User- Aaftab Aalam Khan
  • Fact Check : False
False
    Symbols that define nature of fake news
  • True
  • Misleading
  • False
جانیں سچی اور فرضی خبروں کی حقیقت کوئز کھیلیں اور خبروں کی حقیقت چیک کرنے کا طریقہ سیکھیں کوئز کھیلے

مکمل سچ جانیں...

اگر آپ کو ایسی کسی بھی خبر پر شک ہے جس کا اثر آپ کے معاشرے اور ملک پر پڑ سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ ہمیں یہاں جانکاری بھیج سکتے ہیں۔ آپ ہم سے ای میل کے ذریعہ رابطہ کر سکتے ہیں contact@vishvasnews.com
اس کے ساتھ ہی واٹس ایپ (نمبر9205270923 ) کے ذریعہ بھی اطلاع دے سکتے ہیں

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Post saved! You can read it later