X

فیکٹ چیک: کشمیر کی پرانی تصاویر کو شوشل میڈیا پر پھر سے کیا جا رہا ہے وائرل

نئی دہلی (وشواس ٹیم)۔ آرٹیکل 370 کے منسوخ ہو جانے کے بعد سوشل میڈیا پر فرضی خبروں کا سیلاب دیکھنے کو ملا۔ کشمیر کے نام سے فرضی پوسٹ مسلسل شیئر کئے گئے۔ اسی ضمن میں وشواس نیوز کے ہاتھ ایک وائرل ہو رہی پوسٹ لگی۔ اس پوسٹ میں تین تصاویر کا کالاج ہے اور ان کے ساتھ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ حال کشمیر میں جمہوریت کا ہے۔ اپنی پڑتال میں ہم نے پایا کہ یہ تصاویر پرانی ہیں۔ پہلی دو تصاویر 2017 کی ہیں اور آخری تصویر 2010 کے ایک بلاگ پر ہمیں اپ ڈیٹ ملی۔

کیا ہے وائرل پوسٹ میں

فیس بک صارف جسویر سنگھ کی جانب سے 19 اکتوبر کوایک پوسٹ شیئر کی گئی، جس میں تین تصاویر کا کولاج ہے اور ان کے ساتھ دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ گزشتہ روز کشمیر میں جمہویت ہے۔ اس پوسٹ کو اپ لوڈ کرتے ہوئے پنجابی میں کیپشن لکھا گیا جس کا اردو میں ترجمہ کچھ اس طرح ہوتا ہے، ’’کشمیر میں جمہوریت…ہم کشمیریوں کے ساتھ ہیں‘‘۔

پڑتال

اس پوسٹ کو دیکھتے ہی وشواس ٹیم نے اس کی پڑتال کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس پوسٹ میں گئے گئے کولاج تصاویر کو ہم نے گوگل رورس امیج ٹول میں اپ لوڈ کر کے سرچ کیا۔ سرچ کے نتائج میں ہمیں کئی جگہ یہ تصاویر اپ لوڈ ہوئی ملیں۔

پہلی تصویر

پہلی تصویر ہمیں انڈیا ٹائمس کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ ملی۔ اس ویب سائٹ پر شائع خبر میں اس تصویر کا استعمال کیا گیا تھا۔ یہ خبر 26 اپریل 2017 کو شائع کی گئی تھی۔ اس خبر کی سرخی تھی
21-Year-Old KashmirI Girl Who Pelted Stones At Police Wants To Play Football For India, Shows Not All Is Lost.

اس خبر میں پہلی تصویر کا استعمال کیا گیا تھا۔

دوسری تصویر

یہ تصویر ہمیں ’گریٹ کشمیر‘ نام کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ ملی۔ یہ خبر 21 اپریل 2017 کو شائع کی گئی تھی۔ اس خبر کو 21 اپریل 2017 کو شائع کی گئی تھی۔ خبر کی سرخی تھی
Student PROTESTS spread

اس خبر میں 2017 میں ہوئے کشمیری لڑکیوں کے احتجاج کے بارے میں بتایا گیا تھا۔ اس تصویر کے اسکرین شاٹ کو آپ نیچے دیکھ سکتے ہیں۔

آپ کو بتا دیں کہ پہلی دو تصاویر ایک ہی احتجاج کی ہیں۔

تیسری تصویر

یہ تصویر ہمیں ’دا پیپل آف پاکستان ڈاٹ ورڈ پریس ڈاٹ کام‘ نام کی ویب سائٹ بلاگ پر اپ لوڈ ملی۔ یہ تصویر 2010 میں بلاگ پر اپ لوڈ کی گئی تھی۔ اس تصویر کا اسکرین شاٹ نیچے دیکھ سکتے ہیں۔

آخر میں وشواس ٹیم نے اب تصاویر کی تصدیق کرنے کے لئے دینک جاگرن چیف رپورٹر وکاس ابرول سے بات کی۔ وکاس نے بتایا کہ تصاویر پرانی ہیں۔ کچھ تصاویر 2017 میں ہوئے ایک احتجاج کی ہیں۔ یہ تصاویر گّزشتہ روز کی نہیں ہیں‘‘۔

اب باری تھی اس پوسٹ کو فرضی حوالے کے ساتھ وائرل کرنے والے فیس بک صارف جسویر سنگھ کی سوشل اسکیننگ کرنے کی۔ ہم نے پایا کہ اس پروفائل سے پنجابی زبان کی وائرل پوسٹ کو شیئر کیا جاتا ہے۔

نتیجہ: اپنی پڑتال میں ہم نے پایا کہ یہ تصاویر پرانی ہیں۔ پہلی دو تصاویر 2017 کی ہیں اور آخر تصویر 2010 کے ایک بلاگ پر ہمیں اپ ڈیٹ ملی۔

  • Claim Review : ਕਸ਼ਮੀਰ ਚ ਲੋਕਤੰਤਰ ਲਾਹਨਤਾ ਥੋਨੂੰ ਲੀਡਰੋ ਲਾਹਨਤਾ....ਤੁਹਾਡੇ ਲਿਆਦੇ ਹੜਾ ਤੋ ਬਾਅਦ ਵੀ ਅਸੀ ਕਸ਼ਮੀਰੀ ਲੋਕਾ ਦੇ ਨਾਲ ਹਾ
  • Claimed By : FB User- Jasveer Singh
  • Fact Check : False
False
    Symbols that define nature of fake news
  • True
  • Misleading
  • False
جانیں سچی اور فرضی خبروں کی حقیقت کوئز کھیلیں اور خبروں کی حقیقت چیک کرنے کا طریقہ سیکھیں کوئز کھیلے

مکمل سچ جانیں...

اگر آپ کو ایسی کسی بھی خبر پر شک ہے جس کا اثر آپ کے معاشرے اور ملک پر پڑ سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ ہمیں یہاں جانکاری بھیج سکتے ہیں۔ آپ ہم سے ای میل کے ذریعہ رابطہ کر سکتے ہیں contact@vishvasnews.com
اس کے ساتھ ہی واٹس ایپ (نمبر9205270923 ) کے ذریعہ بھی اطلاع دے سکتے ہیں

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Post saved! You can read it later