X

فیکٹ چیک: 2017 میں ٹرک ڈرائیور کو پیٹنے کا ہریانہ کا ویڈیو اب ہو رہا ہے وائرل

نئی دہلی (وشواس ٹیم)۔ سوشل میڈیا پر ہریانہ کا ایک پرانا ویڈیو وائرل ہو رہا ہے۔ اس ویڈیو میں پولیس اہلکار ایک ڈرائیور کو پیٹ رہا ہے۔ وشواس ٹیم کی پڑتال میں یہ ویڈیو 11 نومبر 2017 کا نکلا۔ اس حادثہ کا دہلی میں ہوئے مکھرجی نگر معاملہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ کچھ دن پہلے مکھرجی نگر میں سکھ ڈرائیور سرب جیت سنگھ کی کچھ پولیس اہلکاروں نے پٹائی کر دی تھی۔ اس حادثہ سے جڑا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا تھا۔ اس کے بعد دہلی میں کافی ہنگامہ بھی ہوا تھا۔

کیا ہے وائرل پوسٹ میں

فیس بک صارف سردار جسوندر سنگھ (نیچے انگریزی میں دیکھیں) نے کرنال کا پرانا ویڈیو اپ لوڈ کرتے ہوئے لکھا: اب اس غریب نہتے ڈرائیور نے کون سی تلوار دکھا دی جو اسے بغیر قصور کے بےرحمی سے پیٹا جا رہا ہے…سردار نہ جرم سہتا ہے نہ جرم کرنے دیتے ہیں۔
Sardar JasVinder Singh 

رواں ماہ 19 تاریخ کو اپ لوڈ کئے گئے اس ویڈیو کو اب تک آٹھ ہزار سے زیادہ بار شیئر کیا جا چکا ہے۔ جسوندر سنگھ کے علاوہ بھی متعدد صارفین اس ویڈیو کو اپنے اپنے اکاؤنٹ سے وائرل کر رہے ہیں۔

پڑتال

سب سے پہلے ہم نے وائرل ہو رہے ویڈیو کو غور سے دیکھا اور سنا۔ ویڈیو میں ہمیں کچھ لوگ سویٹر پہنے ہوئے دکھے، جبکہ اس وقت گرمی کا موسم ہے۔ اس سے ایک بات تو واضح ہو گئی تھی کہ یہ ویڈیو ابھی کا نہیں ہے۔ یہ سردی کا ویڈیو ہے۔ تاہم، ویڈیو کے اوپر کرنال لکھا ہوا ہے تو ہمیں یہ جاننا تھا کہ کیا واقعی کرنال میں کوئی ایسا معاملہ ہوا تھا؟۔

اس کے لئے گوگل پر ہم نے الگ الگ کی ورڈس ڈال کر متعلقہ ویڈیو سے جڑی خبروں کو سرچ کرنا شروع کیا۔ ملک کے متعدد میڈیا اداروں نے اس سے جڑی خبر کو کور کیا تھا۔ ایسے میں ہمیں دینک جاگرن کی ویب سائٹ کا ایک لنک ملا۔ 12 نومبر 2017 کو شائع اس خبر میں ایک تصویر کا استعمال کیا گا تھا۔ اس میں وہ پولیس اہلکار دکھ رہا تھا،  جس نے ٹرک ڈرائیور کی پٹائی کی تھی۔ زمین پر پڑے ہوئے ٹرک ڈرائیور کو بھی آپ تصویر میں دیکھ سکتے ہیں۔

پوری خبر پڑھنے سے ہمیں پتہ چلا کہ حادثہ حال کا نہیں، بلکہ نومبر 2017 کا ہے۔ کرنال کے کیتھل روڈ پر ایک ٹرک خراب ہونے کی وجہ سے جام لگ گیا تھا۔ اس کے بعد اے ایس آئی رویندر  راوت نے ٹرک ڈرائیور کی سرعام پٹائی کر دی۔ وہاں موجود لوگوں نے اس پورے معاملہ کا ویڈیو بھی بنا لیا۔ حادثہ سٹی پولیس اسٹیشن علاقہ کا تھا۔

اس کے بعد ہم نے گوگل پر کرنال پولیس کی ویب سائٹ سے پولیس اسٹیشن کا نمبر سرچ کیا۔ یہاں سے نمبر ملنے کے بعد ہم نے سٹی پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ او انسپیکٹر ہرندر سنگھ سے رابطہ کیا۔ انہوں نے ہمیں بتایا کہ ٹرک ڈرائیور کو پیٹنے کا کوئی بھی حادثہ گزشتہ روز پیش نہیں آیا، اور جو وائرل ویڈیو ہے وہ پرانا ہے‘‘۔

اب باری تھی پرانے ویڈیو کو غلط حوالے کے ساتھ وائرل کرنے والے فیس بک صارف سردرا جسوندر سنگھ کے اکاؤنٹ کی سوشل اسکیننگ کرنے کی۔ اس سے ہمیں پتہ چلا کہ یہ صارف پانی پت کا رہنے والا ہے۔

نتیجہ: وشواس ٹیم کی پڑتال میں پتہ چلا کہ وائرل ہو رہا ویڈیو 11 نومبر 2017 کا ہے۔ یہ حادثہ ہرایانہ کے کرنال میں ہوا تھا۔ حادثہ کے ویڈیو کو اب دہلی میں سکھ کی پٹائی کے بعد غلط حوالے کے ساتھ وائرل کیا جا رہا ہے۔

مکمل سچ جانیں…سب کو بتائیں

اگر آپ کو ایسی کسی بھی خبر پر شک ہے جس کا اثر آپ کے معاشرے اور ملک پر پڑ سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ ہمیں یہاں جانکاری بھیج سکتے ہیں۔ آپ ہم سے ای میل کے ذریعہ رابطہ کر سکتے ہیں
contact@vishvasnews.com 
اس کے ساتھ ہی واٹس ایپ (نمبر9205270923 ) کے ذریعہ بھی اطلاع دے سکتے ہیں۔

  • Claim Review : اب اس غریب نہتے ڈرئیور نے کون سی تلوار دکھا دی جو اسے بنا قصور کے بے رحمی سے پیٹا جا رہا ہے
  • Claimed By : Sardar JasVinder Singh
  • Fact Check : False
False
    Symbols that define nature of fake news
  • True
  • Misleading
  • False
جانیں سچی اور فرضی خبروں کی حقیقت کوئز کھیلیں اور خبروں کی حقیقت چیک کرنے کا طریقہ سیکھیں کوئز کھیلے

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Post saved! You can read it later