X

فیکٹ چیک: فوج نے نہیں کیا ’کشمیری‘ خاتون کے ساتھ تشدد، پشتو گلوکارہ اور اداکارہ نیلم گل کی تصاویر ہو رہیں وائرل

  • By Vishvas News
  • Updated: October 4, 2019

نئی دہلی (وشواس ٹیم)۔ سوشل میڈیا پر ایک زخمی خاتون کی تین تصاویر وائرل ہو رہی ہیں۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ خاتون کی پٹائی ہندوستانی فوج کے جوانوں نے کی۔ وشواس نیوز کی پڑتال میں یہ دعویٰ فرضی نکلا۔ جس خاتون کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے، وہ ہندوستان کی رہنے والی نہیں بلکہ پاکستانی پشتو گلوکارہ اور اداکارہ نیلم گل ہیں جنہوں نے گزشتہ سال اپنے شوہر پر جنسی حراسانی کا الزام لگایا تھا۔

کیا ہے وائرل پوسٹ میں

فیس بک پر وائرل ہو رہے پوسٹ میں لکھا ہوا ہے، ’’فوج نے ہمارے جسم کے ہر حصہ پر مارا۔ ہمیں لات ماری، ڈنڈوں سے پیٹا، بجلی کے جھٹکے دئے، کیبل سے ہمیں پیٹا۔ ہمیں پیروں کے پیچھے مارا۔ جب ہم بےہوش ہو گئے تو انہوں نے ہوش میں لانے کے لئے بجلی کے جھٹکے دئے۔ جب انہوں نے ہمیں ڈنڈوں سے پیٹا اور ہم چیخ اٹھے تو انہوں نے ہمارا منہ کیچڑ میں بھر دیا۔ ہم نے انہیں بتایا کہ ہم بےقصور ہیں۔ ہم نے پوچھا کہ وہ ایسا کیوں کر رہے ہیں؟ لیکن انہوں نے ہماری ایک نہیں سنی۔ میں نے ان سے کہا کہ ہمیں مارو مت۔ ہمیں گولی مار دو۔ میں خودا سے کہہ رہا تھا کہ وہ ہمیں اپنے باس بلا لے کیوں کہ یہ تشدد قابل برداشت نہیں تھا‘‘۔ ہیش ٹیگ بی بی سی ہندی‘‘۔

اس پوسٹ کو اب تک 9 ہزار سے بھی زیادہ لوگ شیئر کر چکے ہیں۔ وہیں تقریبا 2 ہزار لوگوں نے اس پوسٹ پر اپنا ردعمل دیا ہے۔

پڑتال

سب سے پہلے ہم نے تصویر کا رورس امیج سرچ کیا اور ہمارے ہاتھ پاکستانی ویب سائٹ اردو پوائینٹ کی جانب سے 3 اگست 2018 کو شائع ہوئی ایک خبر کا لنک لگا۔ خبر کی سرخی ہے، ’’معروف اداکارہ شوہر کے برترین تشدد کا نشانہ بن گئیں، زخمی اداکارہ کی ویڈیو وائرل

خبر میں بتایا گیا کہ،’’ خیبر پختونخوا میں پشتو کی معروف اداکارہ نیلم گل شوہر کے تشدد کا نشانہ بن گئیں۔ نیلم گل کو شوہر نے مبینہ طور پر تشدد کر کے شدید زخمی کر دیا۔ نیلم گل کی زخمی حالت میں فوٹیج سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی‘‘۔ خبر میں بتایا گیا کہ، ’’نیلم گل کا کہنا ہے کہ ساری عمر شوہر کو پیسہ کما کر دیا۔ اب وہ مجھے غلط کاموں پر مجبور کرتا ہے۔ وہ مجھے 7 سال سے تشدد کا نشانہ بنا رہا ہے۔ آج میری جو بھی حالت ہے وہ میرے شوہر کی وجہ سے ہے‘‘۔

ہم نے اس خبر کو مزید سرچ کیا اور ہمیں ہمیں فیس بک پر نیلم گل کی پروفائل سے اپ لوڈ کیا گیا ایک ویڈیو ملا، جس میں تصویر میں نظر آرہی خاتون کسی دیگر زبان میں روتے ان پر ہوئے تشدد کے بارے میں بتا رہی ہیں۔ فیس بک پر یہ ویڈیو 2 اگست 2018 میں اپ لوڈ کیا گیا تھا۔

انہیں تصاویر کو فیس بک پر نیلم گل کے نام سے بنے ایک اور پروفائل پر بھی دیکھا جا سکتا ہے، جسے 3 اگست 2019 کو اپ لوڈ کیا گیا ہے۔

نیلم گل کی ورڈ کے ساتھ سرچ کرنے پر پاکستنی اخبار ایکسپریس ٹربیون کی ویب سائٹ پر 27 اگست 2018 کو شائع ہوئی ایک خبر ملی، جس میں نیلم گل کے ساتھ ہوئی زیادتی کا ذکر کیا گیا تھا۔ نیلم گل پشتون اداکارہ اور گلوکارہ ہیں۔

جموں ڈیویژن کی پی آر میناکشی وید نے اسے پروپیگینڈا قرار دیتے ہوئے کہا، ’’ہم ایسی کسی بھی افواہ اور فرضی تشہیر کی مخالفت کرتے ہیں۔ اس میں بالکل بھی حقیقت نہیں ہے‘‘۔

اب باری تھی اس پوسٹ کو فرضی حوالے کے ساتھ وائرل کرنے والے فیس بک صارف امجد علی کی سوشل اسکیننگ کرنے کی۔ ہم نے پایا کہ اس صارف کا تعلق علی گڑھ سے ہے اور وہ اکثر خبروں کو شیئر کرتے ہیں۔

نتیجہ: جموں و کشمیر میں فوج کی پٹائی پر وائرل ہو رہی خاتون کشمیر کی نہیں، بلکہ پشتو اداکارہ اور گلوکارہ نیلم گل ہیں۔ گل پر ان کے شوہر نے تشدد کیا تھا، جس کے بعد انہوں نے لائو ویڈیو کے ذریعہ اپنی ان پر ان ہوئے تمام تشدد کیا ذکر کیا تھا۔

  • Claim Review : فوج نے ہمارے جسم کے ہر حصہ پر مارا۔ ہمیں لات ماری، ڈنڈوں سے پیٹا، بجلی کے جھٹکے دئے، کیبل سے ہمیں پیٹا۔ ہمیں پیروں کے پیچھے مارا۔ جب ہم بےہوش ہو گئے تو انہوں نے ہوش میں لانے کے لئے بجلی کے جھٹکے دئے۔ جب انہوں نے ہمیں ڈنڈوں سے پیٹا اور ہم چیخ اٹھے تو انہوں نے ہمارا منہ کیچڑ میں بھر دیا۔ ہم نے انہیں بتایا کہ ہم بےقصور ہیں۔ ہم نے پوچھا کہ وہ ایسا کیوں کر رہے ہیں؟ لیکن انہوں نے ہماری ایک نہیں سنی۔ میں نے ان سے کہا کہ ہمیں مارو مت۔ ہمیں گولی مار دو۔ میں خودا سے کہہ رہا تھا کہ وہ ہمیں اپنے باس بلا لے کیوں کہ یہ تشدد قابل برداشت نہیں تھا
  • Claimed By : FB User- Amjad Ali
  • Fact Check : جھوٹ‎
جھوٹ‎
    فرضی خبروں کی نوعیت کو بتانے والے علامت
  • سچ
  • گمراہ کن
  • جھوٹ‎

مکمل حقیقت جانیں... کسی معلومات یا افواہ پر شک ہو تو ہمیں بتائیں

سب کو بتائیں، سچ جاننا آپ کا حق ہے۔ اگر آپ کو ایسے کسی بھی میسج یا افواہ پر شبہ ہے جس کا اثر معاشرے، ملک یا آپ پر ہو سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ آپ نیچے دئے گئے کسی بھی ذرائع ابلاغ کے ذریعہ معلومات بھیج سکتے ہیں۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Post saved! You can read it later