X

فیکٹ چیک: رہنگیا مہاجرین کے نام سے وائرل کیا جا رہا دعویٰ اور تصاویر دونوں ہی فرضی ہیں

نئی دہلی (وشواس ٹیم)۔ سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ وائرل ہو رہی ہے جس میں ایک اخبار کی کٹنگ کو دیکھا جا سکتا ہے۔ وائرل پوسٹ کے ذریعہ صارفین دعویٰ کر رہے ہیں کہ ہریانہ کے میوات میں رہنگیا مسلمان انسانوں کا گوشت کھا رہے ہیں ہماری پڑتال میں یہ دعویٰ فرضی ثابت ہوتا ہے۔ میوات کے اے ڈی سی وویک پدم سنگھ نے بتایا کہ روہنگیا مہاجرین سے متعلق ایسا کوئی معاملہ نہ ابھی اور نہ ہی گزشتہ روز پیش آیا۔ علاوہ ازیں وشواس ٹیم نے پایا کہ جن تصاویر کو اسی معاملہ سے منسلک وائرل کیا جا رہا ہے وہ تبت کے ’اسکائی بریل‘ کی ہیں۔

کیا ہے وائرل پوسٹ میں؟

فیس بک صارف بھٹناگر اونچل نے 8 اکتوبر کو ایک پوسٹ شیئر کی جس میں لکھا ہے، ’’میوات میں انسان کا گوشت کھاتے پکڑے گئے روہنگیا مسلمان، حکومت نہیں سنبھلی تو ہو سکتا ہے بڑا ہنگامہ‘‘۔ اس پوسٹ کے ساتھ ہریانہ کے مقامی اخبار ’’آج تک گرگاوں‘ کی کٹنگ کا بھی استعمال کیا گیا ہے۔ جس کی سرخی میں لکھا ہے، ’’انسانوں کا گوشت کھاتے ہیں اور ہندوستان میں رہتے ہیں‘‘۔

ہم نے پایا کہ یہ پوسٹ فیس بک پر گزشتہ سال سے وائرل ہو رہی ہے۔

پڑتال

سب پہلے ہم نے وائرل پوسٹ میں نظر آرہی آخبار کی خبر کو گوگل پر سرخی ڈال کر سرچ کیا اور ہم آج تک گرگاؤں کے پیج پر سیدھے اسی خبر پر پہنچے۔ وائرل خبر کے ساتھ ہمیں وہی تصاویر بھی دیکھنے کو ملی جنہیں روہنگیا مہاجرین سے جوڑ کر پھیلایا جا رہا ہے۔ خبر میں بتایا گیا کہ، ’’انسانوں کا گوشت کھانے والوں کو ملی میوات میں پناہ۔ منی پاکستان بنتا جا رہا میوات‘‘۔

خبر اس قدر بڑی تھی کہ ہم نے اس دعویٰ کا نیوز سرچ کیا، حالاںکہ تمام جدوجہد کے بعد بھی ہمارے ہاتھ کسی قابل اعتماد ویب سائٹ یا خبر رساں ایجنسی میں اس موضوع سے متعلق کوئی خبر بھی نہیں ملی۔

اب ہم نے وائرل تصاویر کی پڑتال کا آغاز کیا اور انہیں رورس امیج پر سرچ کیا۔ سرچ کرتے ہی ہمارے ہاتھ متعدد لنک ایسے لنک لگے جن میں وائرل تصاویر کو ملتے جلتے فرضی دعووں کے ساتھ شیئر کیا گیا تھا۔ دئے گئے انہیں لنک میں ہمیں کچھ ایسے بلاگس ملے جن میں ان تصاویر کا استعمال کیا گیا تھا۔

مائے نٹورک 1988 بلاگ اسپاٹ پر ہم گئے اور پیج کا ترجمہ کیا جس کی سرخی انگریزی میں کچھ اس طرح آئی
‘Sky Burial’, The World’s Worst Cemetery!
کیلی فوریہ کے اس بلاگ میں تبت کے ’اسلائی بریل‘ روایت کے بارے میں بتایا گیا ہے۔

تبت کی اس روایت کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کے لئے ہم نے گوگل سرچ کیا اور ہمارے ہاتھ ’شنہوا نیٹ‘ نام کی خبر رساں ایجنسی پر 22 نومبر 2017 کو شائع ہوئی ایک خبر لگی۔ بتا دیں کہ شنہوا نیٹ چین کی آفیشیئل پریس ایجنسی ہے۔ علاوہ ازیں چین کی سب سے بڑی اور بااثر میڈیا ادارہ بھی ہے۔ ویب سائٹ پر اسکائی بریل سے متعلق موجود معلومات کے مطاابق، ’’یہ تبت کی ایک پرانی رسم ہے جس کے مطابق لاشوں کو بلند پہاڑی پر کھلے اسمان تلے رکھا جاتا ہے اور مذہبی راہنماووں کے طرف سے وضع کردہ ہدایات کے مطابق لاش کو کاٹ کر ٹکڑوں میں تقسیم کیا جاتا ہے جس کو بعد میں مردارخور جانور جیسے گدھ وغیرہ کھا لے تھے ہیں۔ سکائی بریل کا عمل تبت میں تقریبا 80 فیصد ہوتا ہے۔ یہ بدمت کے مذہبی کتابوں کے مطابق یہ رواج باریوں صدی سے چلتا آرہا ہے‘‘۔

مزید سرچ میں ہم نے پایا کہ یہ تصویر سب سے پہلے 2009 میں ترکی کے بلاگ پینٹ ایڈر میں شائع ہوئی تھی۔ بلاگ کے پیج کا ہم نے ترجمہ کیا اور پایا کہ اس بلاگ میں آخری رسومات کی ادائیگی کے دنیا بھر میں اپنائے جا رہے تعدد طریقہ بتائے گئے ہیں۔ اس بلاگ میں ہمیں تمام موضوعات کی تفصیلات کے ساتھ ان کی تاریخ بھی ملی۔

اسی بلاگ میں ہمیں تبت کے بدھسٹ کی جانب سے کئے جاتے اسکائی بریل کی تصاویر تفصیل کے ساتھ ملیں۔

نیشنل جاگریفیک کے آفیشیئل یوٹیوب چینل پر بھی ہمیں اسی روایت سے متعلق ایک ویڈیو ملا۔

اب باری تھی اس خبر کی تصدیق کی۔ تو ہم نے میوات کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ کمیشنر وویکٹ پدم سنگھ سے رابطہ کیا اور وائرل پوسٹ سے متعلق معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے ہمیں بتایا کہ ’’ایسا کوئی بھی معاملہ پیش نہیں آیا ہے۔ رہنگیاؤں کے بارے میں یہ افواہ پھیلائی جا رہی ہے۔ وائرل دعویٰ پورے طرح سے فرضی ہے، لوگوں کو ایسی افواہوں پر غور نہیں کرنا چاہئے‘‘۔

اس پوسٹ کو فرضی دعویٰ کے ساتھ وائرل کرنے والے فیس بک صارف بھٹناگر اوینچل کی سوشل اسکیننگ کرنے پر ہم نے پایا کہ ان کا تعلق مدھیہ پردیش کے مندرسور سے ہے اور اس پروفائل سے ایک مخصوص برادری کی مخالفت میں پوسٹ کی جاتی ہیں۔

نتیجہ: ہم نے وشواس ٹیم کی پڑتال میں پایا کہ روہنگیا مہاجرین کے نام سے وائرل کیا جا رہا دعویٰ اور تمام تصاویر فرضی ہیں۔ وائرل تصاویر تبت کے ’اسکائی بریل کی ہیں‘۔

  • Claim Review : میوات میں ہندو شخص کی لاش کا گوشت کھاتے پکڑے گئے روہنگیا مسلمان، حکومت نہیں سنبھلی تو ہو سکتا ہے بڑا ہنگامہ
  • Claimed By : Fb User- भटनागर अविंचल
  • Fact Check : False
False
    Symbols that define nature of fake news
  • True
  • Misleading
  • False
جانیں سچی اور فرضی خبروں کی حقیقت کوئز کھیلیں اور خبروں کی حقیقت چیک کرنے کا طریقہ سیکھیں کوئز کھیلے

مکمل سچ جانیں...

اگر آپ کو ایسی کسی بھی خبر پر شک ہے جس کا اثر آپ کے معاشرے اور ملک پر پڑ سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ ہمیں یہاں جانکاری بھیج سکتے ہیں۔ آپ ہم سے ای میل کے ذریعہ رابطہ کر سکتے ہیں contact@vishvasnews.com
اس کے ساتھ ہی واٹس ایپ (نمبر9205270923 ) کے ذریعہ بھی اطلاع دے سکتے ہیں

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Post saved! You can read it later