X

فیکٹ چیک: 2005 میں فوٹوگرافی کے مقصد سے کھینچی گئی تصویر کو بنگلہ دیش میں آئے سیلاب سے جوڑ کر کیا جا رہا وائرل

جب ہم نے اس پوسٹ کی پڑتال کی تو پایا کہ یہ تصویر 2005 میں ’دا لوٹس پونڈ‘ میں فیچر ہوئی فوٹو ہے جسے ویتنام کے فوٹوگرافر پیپو گوین ڈے نے کھینچا تھا۔

  • By Vishvas News
  • Updated: June 25, 2022

نئی دہلی (وشواس نیوز)۔ سوشل میڈیا پر ایک تصویر وائرل ہو رہی ہے جس میں ایک شخص کو تالاب میں ایک لڑکی کو لئے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ تصویر کو شیئر کرتے ہوئے صارفین یہ دعوی کر رہے ہیں کہ یہ تصویر بنگلہ دیش میں اس وقت آئے ہوئے سیلاب کی ہے۔ جب ہم نے اس پوسٹ کی پڑتال کی تو پایا کہ یہ تصویر 2005 میں ’دا لوٹس پونڈ‘ میں فیچر ہوئی فوٹو ہے جسے ویتنام کے فوٹوگرافر پیپو گوین ڈے نے کھینچا تھا۔

کیا ہے وائرل پوسٹ میں؟

وائرل تصویر کو شیئر کرتے ہوئے صارف نے لکھا، ’آج کی افسوسناک تصویر، #پرے فار سلہٹ‘۔

پوسٹ کے آرکائیو ورژن کو یہاں دیکھیں۔

پڑتال

اپنی پڑتال کو شروع کرتے ہوئے سب سے پہلے ہم نے گوگل رورس امیج کے ذریعہ وائرل تصویر کو سرچ کیا۔ سرچ میں ہمیں یہ تصویر 2 مئی 2011 کے ایک بلاگ میں اپ لوڈ ہوئی ملی۔ حالاںکہ یہاں ہمیں تصویر سے متعلق کوئی معلومات نہیں ملی لیکن یہ واضح ہو گیا کہ یہ تصویر پرانی ہے۔

اسی بنیاد پر ہم نے اپنی پڑتال کو آگے بڑھایا اور سرچ کرنا شروع کیا۔ سرچ میں ہمیں یہ تصویر ایک نیوز ویب سائٹ سیراکیوس ڈاٹ کام پر شائع ہوئے ایک آرٹیکل میں ملی۔ یہ آرٹیکل ویب نام کے فوٹو گرافر نیونگ ڈے کا سیراکیوس ینی ورسٹی میں ہونے والےل لکچر کے موقع پر لکھا گیا ہے۔ یہاں فوٹوگرافر سے متعلق دی گئی معلومات کے مطابق، ’پیپو نیوگن ڈے نے ویت نام کی جنگ میں ملک اور اس کے لوگوں کو کس طرح متاثر کیا اس کی تصاویر کھینچیں-، ان کی تصاویر (اوپر کی تصویر کا عنوان دا لوٹس پانڈ ، 2005 ہے) لائٹ ورک گیلری میں دکھایا جا رہا ہے۔ یہاں پر وائلرل تصویر کے ساتھ بھی دی گئی معلومات کے مطابق اس فوٹو کا ٹائٹل ’دا لوٹس پانڈ ‘ ہے اور نیوگ ڈے نے ہی کھینچا ہے۔ مکمل آرٹیکل یہاں پڑھیں۔

مزید سرچ کئے جانے پر ہمیں یہ فوٹو فروخت کرنے والی ویب سائٹ پر ملی۔ یہاں تصویر کے دائیں جانب ایڈن پیونگ یونگ ڈے ڈاٹ کام لکھا ہوا نظر آیا۔

سرچ کئے جانے پر ہمیں یہ تصویر کلیم پارٹ نام کی ایک ویب سائٹ پر بھی ملی۔ یہاں ویب سائٹ پر تصویر سے جڑی جانکاری کے مطابق ’دا لوٹس پانڈ‘ ٹائٹل کی اس تصویر کو پیپو گیون ڈے نے 2005 میں کھینچا تھا۔ ہمارے سرچ میں ویب نام کے فوٹو گرافر پیپو گیون ڈے سے متعلق ایک دیگر آرٹیکل بھی ملا جس میں وائرل تصویر دکھی جا سکتی ہے۔ آرٹیکل میں فوٹو گرافر اور ان کی جانب سے کھیچی گئی تصاویر کو فیچر کیا گیا ہے۔ آرٹیکل یہاں پڑھا جا سکتا ہے۔

پڑتال کو آگے بڑھاتے ہوئے ہم نے پیونگ یونگ ڈے سرچ کیا اور ہم ایک ویب سائٹ پر پہنچے۔ یہاں ہمیں ’ایسٹ آف ایڈن 2002-2006 کی تصاویر ملیں اور یہیں ہمیں وائرل تصویر بھی دیکھنے کو ملی۔ ان تصاویر کے ساتھ دی گئی معلومات کے، ’ایسٹ آف ایڈن کی شروعات امریکہ میں سٹیجڈ، رنگین، داستانی تصاویر کی ایک سیریز کے طور پر شروع ہوا جو امریکی منظر نامے کی تاریخی عکاسی پر گارڈن آف ایڈن کے طور پر سوال اٹھاتا ہے۔ ایسٹ آف ایڈن میں ان تصاویر نے انسانیت کے ساتھ بعد از زمینی منظر نامے کے تناظر میں پیش کیا۔ 2005 سے ، میں نے اپنے بصری مقالے پر کام جاری رکھنے کے لیے پورے ویتنام کا سفر شروع کیا تاکہ دونوں ایسے منظر نامے پر کام کریں جو جنگ کے جسمانی داغوں کو برداشت کرتے ہیں ، اور ان لوگوں کے ساتھ جو اس کی ہولناکیوں میں زندہ اور زندہ ہیں‘۔ مکمل تفصیل یہاں پڑھی جا سکتی ہے۔

اب تک کی پڑتال سے یہ تو واضح تھا کہ اس تصویر کا بنگلہ دیش میں اس وقت آئے ہوئے سیلاب سے کوئی تعلق نہیں ہے حالاکہ ہم نے بنگلہ دیش کے فوٹوگرافر صادر الرحمان سے رابطہ کیا اور وائرل پوسٹ ان کے ساتھ شیئر کی۔ انہوں نے ہمیں بتایا کہ یہ فوٹو فیچر کی ہوئی فوٹو ہے اس کا بنگلہ دیش سیلاب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

فرضی پوسٹ کو شیئر کرنے والے فیس بک صارف کی سوشل اسکیننگ میں ہم نے پایا کہ صارف نبیہا چودھری کو 1,644  لوگ فالوو کرتے ہیں۔

نتیجہ: جب ہم نے اس پوسٹ کی پڑتال کی تو پایا کہ یہ تصویر 2005 میں ’دا لوٹس پونڈ‘ میں فیچر ہوئی فوٹو ہے جسے ویتنام کے فوٹوگرافر پیپو گوین ڈے نے کھینچا تھا۔

  • Claim Review : آج کی افسوسناک تصویر، #پرے فار سلہٹ
  • Claimed By : Nabiha Chowdhury
  • Fact Check : جھوٹ‎
جھوٹ‎
فرضی خبروں کی نوعیت کو بتانے والے علامت
  • سچ
  • گمراہ کن
  • جھوٹ‎

مکمل حقیقت جانیں... کسی معلومات یا افواہ پر شک ہو تو ہمیں بتائیں

سب کو بتائیں، سچ جاننا آپ کا حق ہے۔ اگر آپ کو ایسے کسی بھی میسج یا افواہ پر شبہ ہے جس کا اثر معاشرے، ملک یا آپ پر ہو سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ آپ نیچے دئے گئے کسی بھی ذرائع ابلاغ کے ذریعہ معلومات بھیج سکتے ہیں۔

ٹیگز

اپنی راے دیں
مزید پڑھ

No more pages to load

متعلقہ مضامین

Next pageNext pageNext page

Post saved! You can read it later