X

فیکٹ چیک: ترکی کے 2011 کے زلزلہ کے ویڈیو کو کیا جا رہا حال کا بتاتے ہوئے شیئر

وشواس نیوز نے وائرل پوسٹ کی پڑتال کی تو ہم نے پایا کہ یہ دعوی گمراہ کن ہے۔ زلزلہ کا یہ ویڈیو حال کا نہیں بلکہ 2011 کا ترکی کا ہے۔

  • By Vishvas News
  • Updated: November 14, 2021

نئی دہلی (وشواس نیوز)۔ سوشل میڈیا پر زلزلہ کا ایک ویڈویو وائرل ہو رہا ہے جس میں ایک سڑک پر ایک گاڑی کو چلتے ہوئے اچانک سے زبردست زلزلہ آتے دکھا جا سکتا ہے۔ اب اسی ویڈیو کو ترکی میں حال میں آئے زلزلہ سے جوڑ کر وائرل کیا جا رہا ہے۔ جب وشواس نیوز نے وائرل پوسٹ کی پڑتال کی تو ہم نے پایا کہ یہ دعوی گمراہ کن ہے۔ زلزلہ کا یہ ویڈیو حال کا نہیں بلکہ 2011 کا ترکی کا ہے۔

کیا ہے وائرل پوسٹ میں؟

فیس بک صارف نے وائرل پوسٹ کو اپ لوڈ کرتے ہوئے لکھا، ’ترکی: قونیہ اور ادانا میں کل آنے والے زلزلے کے بعد، جس کی شدت 5.3 تھی، آفٹر شاکس کم نہیں ہو رہے اور ماہرین کی جانب ے شدید خوف پایا جا رہا ہے۔اے اللہ رحم کر‘‘۔

پوسٹ کے آرکائیو ورژن کو یہاں دیکھیں۔

پڑتال

پڑتال کا آغاز کرتے ہوئے سب سے پہلے ہمنے گوگل اوپن سرچ کے ذریعہ یہ جاننے کی کوشش کی کہ کیا ترکی میں حال کے روز کوئی زلزلہ آیا ہے۔ سرچ میں ہمیں ڈیلی صباح نام کی ایک نیوز ویب سائٹ ملی۔ یہاں 8نومبر 2021 کو شائع ہوئی خبر کے مطابق، ترکی کے وسطی صوبہ قونیہ میں 5.1 شدت کا زلزلہ آیا۔ زلزلے نے صوبہ قونیہ کے ضلع میرام کو رات 8.43 بجے ہلا کر رکھ دیا۔ مکمل خبر یہاں دیکھیں۔

اب تک کی پڑتال سے یہ تو واضح تھا کہ ترکی مںی حال کے ایک صوبہ میں حال کے روز زلزلہ آیا ہے۔ حالاںکہ مزید تفتیش کرتے ہوئے ہم نے ویڈیو کو سرچ کرنا شروع کیا۔ ویڈیو کی پڑتال کے لئے سب سے پہلے ہمنے ویڈیو کو ان ویڈ ٹول میں اپ لوڈ کیا اور اس کے کیفیرمس نکلا پھر انہیں گوگل رورس امیج کے ذریعہ سرچ کا۔ سرچ میں ہمیں یہ ویڈیو این ڈی ٹی وی کی ویب سائٹ پر 11 نومبر 2011 کو ویب سائٹ پر اپ لوڈ ہوا ملا۔ یہاں ویڈیو کے ساتھ دی گئی معلومات کے مطابق، ’ترکی کے شہر وان میں آئے 5.7شدت کے زلزلہ کا سی سی ٹی وی فیٹیج۔ مکمل خبر یہاں دیکھیں۔

ہمیں یہ ویڈیو آرٹی نام کے ایک ویری فائڈ یوٹیوب چینل پر بھی ملا جہاں اسے نومبر 2011میں اپ لوڈ کرتے ہوئے ترکی کا بتایاگیا ہے۔

پڑتال کے آخری مرحلہ میں ہم نے تصدیق کے لئے ترکی کے نیوز ویب سائٹ ڈیلی صباح کی ڈپلومیٹک اور صدراتی کارسپانیڈنٹ دلارا اسلن سے رابطہ کیا اور وائرل ویڈیو ان کے ساتھ شیئر کیا ۔ انہو نے ہمیں بتایا کہ، ’اس وائرل ویڈیو میں جو زلزلہ نظر آرہا ہے اس کی شدت بہت زیادہ ہے جبکہ ترکی میں حال کے روز زلزلہ آیا اس کی شدت محض پانچ تھی، اور وہ اتنا اسٹرانگ نہیں تھا۔

گمراہ کن پوسٹ کو شیئر کرنے والے فیس بک صارف کی سوشل اسکیننگ میں ہم نے پایا کہ البعو آمینہ کا تعلق ادلب سے ہے۔ اور اس صارف کو دو ہزار سے زیادہ لوگ فالوو کرتے ہیں۔

نتیجہ: وشواس نیوز نے وائرل پوسٹ کی پڑتال کی تو ہم نے پایا کہ یہ دعوی گمراہ کن ہے۔ زلزلہ کا یہ ویڈیو حال کا نہیں بلکہ 2011 کا ترکی کا ہے۔

  • Claim Review : ترکی: قونیہ اور ادانا میں کل آنے والے زلزلے کے بعد، جس کی شدت 5.3 تھی، آفٹر شاکس کم نہیں ہو رہے اور ماہرین کی جانب ے شدید خوف پایا جا رہا ہے۔
  • Claimed By : العبو أمينة
  • Fact Check : گمراہ کن
گمراہ کن
فرضی خبروں کی نوعیت کو بتانے والے علامت
  • سچ
  • گمراہ کن
  • جھوٹ‎

مکمل حقیقت جانیں... کسی معلومات یا افواہ پر شک ہو تو ہمیں بتائیں

سب کو بتائیں، سچ جاننا آپ کا حق ہے۔ اگر آپ کو ایسے کسی بھی میسج یا افواہ پر شبہ ہے جس کا اثر معاشرے، ملک یا آپ پر ہو سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ آپ نیچے دئے گئے کسی بھی ذرائع ابلاغ کے ذریعہ معلومات بھیج سکتے ہیں۔

ٹیگز

اپنی راے دیں
مزید پڑھ

No more pages to load

متعلقہ مضامین

Next pageNext pageNext page

Post saved! You can read it later