X

فیکٹ چیک: نماز ادا کرتے لوگوں کی یہ تصویر 2018 کی ہے، لاک ڈاؤن سے نہیں ہے کوئی تعلق

  • By Vishvas News
  • Updated: May 5, 2020

نئی دہلی (وشواس نیوز)۔ سوشل میڈیا پر آج کل ایک تصویر وائرل ہو رہی ہے، جس میں کچھ لوگوں کو نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ پوسٹ کے ساتھ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ تصویر فی الحال چل رہے لاک ڈاؤن کے وقت کی ہے، جب تلم ناڈو کے ویلور ضلع میں لاک ڈاؤن کے درمیان 700 لوگوں نے سوشل ڈسٹینسنگ کو فالوو نہ کرتےہوئے ساتھ بیٹھ کر نماز ادا کی۔

وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ یہ دعویٰ غلط ہے۔ اصل میں یہ تصویر 2018 کی ہے، جب اترپردیش کے الہ آباد (اب پریاگراج) میں رمضان کے دوران ان لوگوں نے عشاء اور تراویح کی نماز ادا کی تھی۔

کیا ہو رہا ہے وائرل

وائرل تصویر میں کچھ لوگوں کو نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ پوسٹ کے ساتھ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ’’گزشتہ دو دنوں سے ویلور ضلع کے تروم تھور ٹاؤن میں جمعہ مسجد گلی میں آدھی رات کو تقربا 700 لوگ سڑک کے بیچ میں نماز پڑھرہے ہیں۔ پولیس کو اعلی حکام کنٹرول کرتے ہیں، ان کو کوئی تکلیف نہیں !!! اور رات میں کسی بھی گارڈ کو اپنے فون پر ایک فوٹو یا ویڈیو لینے کی بھی اجازت نہیں ہے‘‘۔

اس پوسٹ کا آرکائیو ورژن یہاں دیکھیں۔

پڑتال

وائرل تصویر کے اوپر انگریزی میں ’آلامی اسٹوک امیج‘ لکھا ہو دیکھا جا سکتا ہے۔ پوسٹ کے اوپر بھی واٹر مارٹ آلامی لکھا ہے۔ آلامی ایک برطانوی نجی سوویت وال اسٹور فوٹوگرافی ایجنسی ہے۔

اب اس پوسٹ کی پڑتال کرنے کے لئے ہم نے اس تصثیر کا اسکرین شاٹ لیا اور اسے گوگل رورس امیج پر ’آلامی اسٹاک امیج‘ کی ورڈ کے ساتھ سرچ کیا۔ ہمیں تصویر آلامی ڈاٹ کام پر ملی۔ ویب سائٹ پر اس تصویر کے ساتھ لکھا تھا، ’’الہ آباد، اترپردیش، ہندوستان۔ 17 مئی 2018: الہ آباد میں ماہ رمضان کے دوران مسلمان تراویح کی نماز ادا کرتے ہیں۔ رمضان اسلامی کیلنڈر کا نواں مہینہ ہوتا ہے، جس مہینہ میں قرآبا نازل ہوا تھا۔اس ماہ میں مسلمانوں کو صبح سے غروب سورج تک روزہ رکھنا ہوتا ہے۔ سورس: پربھات کمار ورما/زوما وائر / عالمی لائو نیوز۔ امیج آئڈی: ایم این ایچ سی 6 ایکس‘‘۔

ہم نے مذکورہ مضوع میں مزید تصدیق حاصل کرنے کے لئے تصویر کو کھینچنے والے فوٹو صحافی پربھات کمار ورما سے ٹویٹر کے ذریعہ رابطہ کیا۔ انہوں نے ہمارے ساتھ اپنا فون نمبر شیئر کیا اور فون پر بات کرتے ہوئے ہمیں بتایا ’’یہ تصویر میں نے ہی کھینچی تھی۔ 17 مئی 2018 کی ہے۔ تصویر پریاگ راج کے کمپنی گارڈن/ آزاد گارڈن کے اندر واقع ایک درگاہ میں تراویح کی نماز کے دوران کھینچی گئی تھی‘‘۔

اب ہمیں پتہ کرنا تھا کہ کیا تمل ناڈو کے ویلور میں ایسے کوئی معاملہ ہوا ہے؟ پڑتال میں ہمیں تمل ناڈو کے ترپتھور ضلع کی پولیس کے آفیشیئل ہینڈل سے کیا گیا ایک ٹویٹ ملا۔ اس ٹویٹ میں اس خبر کو فرضی بتایا گیا تھا۔

اب باری تھی پوسٹ کو فرضی دعوی ٰکے ساتھ وائرل کرنے والے فیس بک صارف کی سوشل اسکیننگ کرنے کی۔ ہم نے پایا کہ اس صارف کاس تعلق احمد آباد سے ہے۔ علاوہ ازیں اس صارف کو ساڑھے تین ہزار سے زیادہ لوگ فالوو کرتے ہیں۔

نتیجہ: وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ یہ دعویٰ غلط ہے۔ اصل میں یہ تصویر 2018 کی ہے، جب اترپردیش کے الہ آباد (اب پریاگ راج) میں رمضان کے دوران ان لوگوں نے تراویح کی نماز پڑھی تھی۔ اس تصویر کا لاک ڈاؤن سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔

مکمل حقیقت جانیں... کسی معلومات یا افواہ پر شک ہو تو ہمیں بتائیں

سب کو بتائیں، سچ جاننا آپ کا حق ہے۔ اگر آپ کو ایسے کسی بھی میسج یا افواہ پر شبہ ہے جس کا اثر معاشرے، ملک یا آپ پر ہو سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ آپ نیچے دئے گئے کسی بھی ذرائع ابلاغ کے ذریعہ معلومات بھیج سکتے ہیں۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Post saved! You can read it later