X

فیکٹ چیک کسانوں کے ساتھ پولیس کی بدسلوکی کی یہ تصویر ایک کامیڈی ویڈیو کا منظر ہے

وشواس نیوز کی پڑتال میں یہ پوسٹ فرضی نکلی۔ وائرل پوسٹ میں نظر آرہی تصویر میں ایک کامیڈی ویڈیو کا سین ہے۔ اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

  • By Vishvas News
  • Updated: April 18, 2020

نئی دہلی (وشواس نیوز)۔ سوشل میڈیا میں ایک پوسٹ وائرل ہو رہی ہے۔ اس میں دو مبینہ پولیس اہلکار کھیت میں ایک شخص اور خاتون کو لاٹھی سے پیٹتے ہوئے دکھ رہے ہیں۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ کسان اپنے کھیت میں کام کر رہے تھے تو پولیس نے ان کے ساتھ دسلوکی کی۔

وشواس نیوز کی پڑتال میں یہ پوسٹ فرضی نکلی۔ وائرل پوسٹ میں نظر آرہی تصویر میں ایک کامیڈی ویڈیو کا سین ہے۔ اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

کیا ہو رہا ہے وائرل

فیس بک صارف ’ونود بابو‘ نے 15 اپریل کو ایک تصویر کو اپ لوڈ کرتے ہوئے دعویٰ کیا‘ ’’کوئی سمجھائےگا، یہ کون سا ’کستان منصوبہ ہے‘‘،جس سے کسانوں کو سیدھے فائدہ ملتا ہے‘‘۔

پوسٹ کا آرکائیو ورژن یہاں دیکھیں۔

پڑتال

وشواس نیوز نے سب سے پہلے وائرل تصویر کو گوگل رورس امیج پر سرچ کیا۔ سرچ کے دوران ہمیں اصل ویڈیو بنداس فلمس نام کے ایک یوٹیوب چینل پر ملا۔ اسی ویڈیو سے تصویر لے کر فرضی پوسٹ وائرل کی گئی۔ 13 اپریل 2020 کو اپ لوڈ ویڈیو کی سرخی ہے
 #लॉक-डॉन में गेहूं काटते समय खेत में पहुंच कर पुलिस ने किया जमकर पिटाई फिर देखिए क्या हुआ।

اس کے بعد ڈسکرپشن میں فنکار کا نام نہیں بتایا گیا۔ اس ویڈیو میں نینکا خان، ببوا گنیش کیسری، منا یادو اور بھولا ہیں۔ ویڈیو کا ڈائریکشن اور اسٹوری منا سنگھ کی ہے۔ ویڈیو میں صاف طور پر بتایا گیا کہ یہ ایک کامیڈی ویڈیو ہے۔

پڑتال کے اگلے مرحلہ میں ہم نے بنداس فلمس کے یوٹیوب چینل کے اونر گنیش کمار کیشری سے رابطہ کیا۔ انہوں نے وشواس نیوز کو بتایا، ’’وائرل پوسٹ والی تصویر ہمارے ہی ویڈیو سے لی گئی ہے۔ ہم لوگوں نے لاک ڈاؤن کو لے کر کامیڈی ویڈیو بنائے گئے تھے۔ یہ خوب وائرل ہو گیا ہے۔ اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

اب باری تھی اس پوسٹ کو فرضی پوسٹ کو وائرل کرنے والے فیس بک صارف کی سوشل اسکیننگ کرنے کی۔ ہم نے پایا کہ اس صارف کا تعلق مرادآباد سے ہے۔


نتیجہ: وشواس نیوز کی پڑتال میں یہ پوسٹ فرضی نکلی۔ وائرل پوسٹ میں نظر آرہی تصویر میں ایک کامیڈی ویڈیو کا سین ہے۔ اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

مکمل حقیقت جانیں... کسی معلومات یا افواہ پر شک ہو تو ہمیں بتائیں

سب کو بتائیں، سچ جاننا آپ کا حق ہے۔ اگر آپ کو ایسے کسی بھی میسج یا افواہ پر شبہ ہے جس کا اثر معاشرے، ملک یا آپ پر ہو سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ آپ نیچے دئے گئے کسی بھی ذرائع ابلاغ کے ذریعہ معلومات بھیج سکتے ہیں۔

ٹیگز

اپنی راے دیں

No more pages to load

متعلقہ مضامین

Next pageNext pageNext page

Post saved! You can read it later