X

فیکٹ چیک: سنجے دت کی تصویر چھیڑ چھاڑ کر کے وائرل کی جا رہی ہے

  • By Vishvas News
  • Updated: May 21, 2019

نئی دہلی (وشواس ٹیم)۔ سوشل میڈیا پر ایک تصویر وائرل ہو رہی ہے جس میں بالی ووڈ اداکار سنجے دت کو ٹوپی پہنے دیکھا جا سکتا ہے۔ فوٹو میں سنجے دت کے سامنے طرح طرح کے کھانے رکھے ہیں۔ اس پوسٹ میں دعوی کیا جا رہا ہے کہ یہ سنجے دت کے روزہ کھولتے وقت کی تصویر ہے۔ ہماری پڑتال میں ہم نے پایا کہ یہ تصویر صحیح نہیں ہے۔ اصل تصویر میں نہ ہی سنجے دت نے ٹوپی پہنی ہے اور نہ ہی ان کے سامنے افطاری رکھا ہے۔ چھیڑ چھاڑ کر کے تصویر وائرل کی جا رہی ہے۔

دعوی

وائرل پوسٹ میں دعوی جا رہا ہے کہ ’رمضان کے موقع پر سنجو پورے روزے رکھتے ہیں۔ روزہ افطار کرتے ہوئے سنجے دت‘‘۔

فیکٹ چیک

اپنی پڑتال کو شروع کرنے کے لئے ہم نے سب سے پہلے اس تصویر کا اسکرین شاٹ لیا اور پھر اسے گوگل رورس امیج پر سرچ کیا۔ تھوڑی سی جدوجہد کے بعد ہماےر ہاتھ 28 اپریل کو سنجے دت کے ایک فین کلب کے ذریعہ شیئر کی گئی ایک تصویر لگی جو ہوبہو وائرل تصویر جیسی تھی۔ بس فرق اتنا تھا کہ اس تصویر میں سنجے دت نے ٹوپی نہیں پہنی ہے اور ان کے سامنے کھانا بھی نہیں رکھا ہے۔

اس سلسلہ میں ہم نے سنجے دت کے مینیجر سے بات کی جنہوں نے ہمیں بتایا کہ یہ تصویر فرضی ہے۔ حالاںکہ، سنجے دت کئی افطار پارٹیوں میں جاتے رہتے ہیں مگر اس تصویر سے چھیڑ چھاڑ کی گئی ہے۔

اس تصویر کو ’رنگریز کی آواز نیوز‘ نام کے ایک فیس بک پیج کے ذریعہ شیئر کیا گیا تھا۔ اس پیج کے کل 22,608 فالوورس ہیں۔

پڑتال: ہماری پڑتال میں ہم نے پایا کہ یہ تصویر صحیح نہیں ہے۔ اصل تصویر میں نہ ہی سنجے دت نے ٹوپی پہنی ہے اور نہ ہی ان کے سامنے افطاری رکھی ہے۔ چھیڑ چھاڑ کر کے اس تصویر کو وائرل کیا جا رہا ہے۔

مکمل سچ جانیں…سب کو بتائیں

اگر آپ کو ایسی کسی بھی خبر پر شک ہے جس کا اثر آپ کے معاشرے اور ملک پر پڑ سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ ہمیں یہاں جانکاری بھیج سکتے ہیں۔ آپ ہم سے ای میل کے ذریعہ رابطہ کر سکتے ہیں
contact@vishvasnews.com 
اس کے ساتھ ہی واٹس ایپ (نمبر9205270923) کے ذریعہ بھی اطلاع دے سکتے ہیں۔

  • Claim Review : روزہ افطار کرتے ہوئے سنجے دت کی تصویر
  • Claimed By : Rangrez Ki Awaz news
  • Fact Check : جھوٹ‎
جھوٹ‎
    فرضی خبروں کی نوعیت کو بتانے والے علامت
  • سچ
  • گمراہ کن
  • جھوٹ‎

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Post saved! You can read it later