X

فیکٹ چیک: 17 سالوں تک جے این یو میں نہیں پڑھے ہیں کنہیا کمار

  • By Vishvas News
  • Updated: November 27, 2019

نئی دہلی (وشواس ٹیم)۔ اضافی فیس کے بعد جواہر لال نہرو یونی ورسٹی (جے این یو) کے طلباء کے احتجاج کو لے کر سوشل میڈیا پر مسلسل فرضی تصاویر اور ویڈیو وائرل ہو رہے ہیں۔ ایسی ہی ایک تصویر جے این یو ایس یو کے سابق صدر اور طلباء یونیئن لیڈر کنہیا کمار سے متعلق سوشل میڈیا پر پھیلائی جا رہی ہے، جس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ 2002 میں جے این یو آنے کے بعد سے کنہیا اب تک وہاں پڑھائی کر رہے ہیں۔

وشواس نیوز کی پڑتال میں یہ دعویٰ غلط اور کنہیا کمار کے خلاف کی جا رہی فرضی تشہیر ثابت ہوئی۔

کیا ہے وائرل پوسٹ میں

فیس بک صارف کے پی سنگھ نے کنہیا کمار کی تصویر کو شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے، ’’جے این یو میں ایسی کون سی پڑھائی ہوتی ہے جو 17 سال تک چلتی ہے‘‘۔ پوسٹ میں کہا گیا ہے، ’’جے این یو میں کنہیا 2002 میں 12ویں پاس کر کے پہنچا تھا، وہاں ایسی کون سے پڑھائی ہے جو 17 سال تک چلتی ہے؟‘‘۔

कन्हैया कुमार के खिलाफ सोशल मीडिया पर फैलाया जा रहा दुष्प्रचार

پڑتال کئے جانے تک اس پوسٹ کو 1000 لوگوں نے شیئر کیا ہے اور تقریبا 200 صارفین نے پسند کیا ہے۔

پڑتال

جے این یو میں فیس کے اضافہ کو لے کر مسلسل طلباء مظاہرہ کر رہے ہیں۔ نیوز سرچ میں ہمیں ایسی متعدد خبریں ملی، جس میں طلباء کے احتجاج اور ان کے مطالبات کا ذکر کیا گیا ہے۔

سرچ میں ہمیں ایسی متعدد خبریں ملیں، جس میں کنہیا کمار نے جے این یو مظاہرے کو لے کر سرکار پر نشانہ سادھا ہے۔ نیوز رپورٹس کے مطابق، ’’اضافی فیس کے تحت کنہیا کمار نے کہا کہ جے این یو کو لے کر ایک ماحول بنایا جا رہا ہے کہ اس کے طلباء بغیر کسی وجہ کے احتجاجی مظاہرہ کر رہے ہیں، سیاست کر رہے ہیں، جو بالکل جھوٹ ہے۔ جے این یو میں جس طرح کی فیس بڑھائی گئی ہے، اسے 100 میں سے 40 فیصد طلباء نہیں ادا کر پائیں گے‘‘۔

وائرل پوسٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کنہیا کمار سال 2002 میں جے این یو پہنچے اور ابھی تک یعنی 17 سالوں تک پڑھائی ہی کر رہے ہیں۔ اس دعویٰ کی حقیقت جاننے کے لئے ہم نے کنہیا کمار سے بات کی۔ انہوں نے وشواس نیوز کے ساتھ اپنی ڈگری اور اب تک کی پڑھائی کی تمام معلومات شیئر کیا۔

دی گئی جانکاری کے مطابق، ’کنہیا کمار نے 2002 میں میٹریک بہار اسکول ایگزامینشن بورڈ (بی ایس ای بی) سے پاس کی اور 2004 میں انٹرمیڈیئٹ کی پڑھائی (بی آئی ای ایس) سے پاس کی‘‘۔

اس کے بعد انہوں نے مگدھ یونی ورسٹی سے گریجویشن کیا۔ انہوں نے بتایا، ’’میں نے 2008 میں گریجویشن کیا اور اس میں چار سال اسلئے لگے کیوں کہ بہار میں ایس سال دیری سے سیشن چلتا ہے‘‘۔ انہوں نے بتایا، ’’ اس کے بعد 2010 میں نالاندا اووپن یونی وسٹی سے ایم اے کیا۔ وہاں سیشن 2008۔10 کا تھا لیکن دسمبر میں نتائج آنے کی وجہ سے ایک سال کی دیری ہوئی اور میں نے 2011۔13 میں جواہر لال نہرو یونی وسٹی سے ایم فل کیا۔ یہ جے این کے ساتھ میری شروعات تھی۔ اس کے بعد 2013۔18 تک پی ایچ ڈی کیا اور 2018 کے جولائی ماہ میں جے این یو چھوڑ دیا‘‘۔

کنہیا نے بتایا، ’’12 فروری 2019 کو ان کا پی ایچ ڈی ایوارڈ بھی ہو گیا‘‘۔ یعنی کنہیا 2011 میں جے این یو آئے اور 2018 میں آئے اور پی ایچ ڈی کے بعد یونی ورسٹی چھوڑ دی۔ جب کہ وائرل پوسٹ میں یہ فرضی تشہیر کی جا رہی ہے کہ وہ 2002 میں جے این یو آئیے اور ابھی تک وہاں پڑھائی کر رہے ہیں۔

رواں سال 15 فروری کو ٹائمس آف انڈیا میں شائع ہمیں ایک خبر ملی، جس میں کنہیا کمار کے پی ایچ ڈی پورے کئے جانے کی معلومات بھی ملی ہے۔

خبر کے مطابق، ’’کنہیا نے جولائی 2018 میں اپنا تھیسس جمع کرایا تھا اور اب وہ پڑھانا چاہتے ہیں‘‘۔ رپورٹ کے مطابق، ’’2011 میں کنہیا کو جے این یو کے سنٹر فار افریکن اسٹڈیز میں ایم فل/ پی ایچ ڈی کے جوائنٹ کورس میں داخلہ ملا تھا‘‘۔

اب باری تھی اس پوسٹ کو فرضی حوالے کے ساتھ وائرل کرنے والے فیس بک صارف کے پی سنگھ کی سوشل اسکیننگ کرنے کی۔ ہم نے پایا کہ اس پروفائل سے متعدد فرضی خبروں کو اس سے قبل بھی شیئر کیا گیا ہے۔

نتیجہ: جے این یو میں کنہیا کمار کے 17 سالوں تک پرھائی کرنے کے دعویٰ کے ساتھ وائرل ہو رہا پوسٹ فرضی ہے۔ جے این یو سے کنہیا نے ایم فل اور پی ایچ ڈی کی تعلیم حاصل کی ہے، جو 2011۔18 کے درمیان مکمل ہو چکی تھی۔

  • Claim Review : ‘JNU में कन्हैया 2002 में 12वीं पास करके पहुंचा था, वहां ऐसी कौन सी पढ़ाई है जो 17 वर्ष तक चलती है?’
  • Claimed By : FB User- Kp Singh
  • Fact Check : False
False
    Symbols that define nature of fake news
  • True
  • Misleading
  • False
جانیں سچی اور فرضی خبروں کی حقیقت کوئز کھیلیں اور خبروں کی حقیقت چیک کرنے کا طریقہ سیکھیں کوئز کھیلے

مکمل سچ جانیں...

اگر آپ کو ایسی کسی بھی خبر پر شک ہے جس کا اثر آپ کے معاشرے اور ملک پر پڑ سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ ہمیں یہاں جانکاری بھیج سکتے ہیں۔ آپ ہم سے ای میل کے ذریعہ رابطہ کر سکتے ہیں contact@vishvasnews.com
اس کے ساتھ ہی واٹس ایپ (نمبر9205270923 ) کے ذریعہ بھی اطلاع دے سکتے ہیں

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Post saved! You can read it later