X

فیکٹ چیک: لیوک مونٹیگنر نے نہیں کہا کہ کووڈ ویکسین لگوانے والوں کی ہی جائےگی دو سال کے اندر موت، وائرل ہو رہی یہ پوسٹ فرضی ہے

  • By Vishvas News
  • Updated: May 31, 2021

نئی دہلی(وشواس نیوز)۔ فرینچ نوبلسٹ لیوک مونٹیگنیئر کے نام سے ایک پوسٹ وائرل ہورہی ہے ۔ پوسٹ میں دعوی کیا گیا ہے کہ ریئر فاونڈیشن یو ایس کے ذریعہ شائع کردہ ایک انٹرویو میں مونٹیگنئیر نے کہا ہے کہ جن لوگوں نے بھی کورونا وائرس کی ویکسین لگوائی ہے ان کے بچنے کے کوئی امکان نہیں ہیں اور وہ دوسالوں میں ہی فوت ہو جائں گے ۔ پوسٹ کے ساتھ ایک خبر اور لیوک مونٹیگنیئر کے ویکی پیڈیا پیج کا بھی لک دیکھا جا سکتا ہے۔ وشواس نیوز نے انٹرویومیں کے ذریعہ انٹرویو میں کیے گئے دعووں کی بھی جانچ کی ۔ انہوں نے دعوی کیا کہ کورونا کے نئے ویرینٹس ویکسین کے سبب آئے ہیں،جبکہ یہ وائرس کے ذریعہ بنائی گئی انٹی باڈیز ہے ،جوانفکشن کی مضبوط بنانے میں کاگربناتے ہیں‘۔ وشواس نیوز نے اپنی جانچ میں پایا کہ یہ تمام دعوے بے بنیاد ہیں۔

نوبیلسٹ لیوک مونٹی گریئرنے نا یہ کہاکہ ٹیکہ لگوانے والوں کی دوسال میں موت ہوجائے گی اورنا ہی یہ دعوی صحیح ہے ۔ وائرل پوسٹ کے ساتھ جس خبرکا لنک دیا گیا ہے وہاں بھی ہمیں مذکورہ بیان نہیں ملا۔ علاوہ ازیں لیوک مونٹیگنیئرکے انٹرویو میں کیا گیا دعوی بھی بے بنیاد ہی ہے ۔جسم کے انٹی باڈیز کے سبب وائرس اپنی شکل تبدیل کرسکتا ہے ،مگرجسم میں انٹی باڈیز محض ویکسین سے نہیں بنتی ہے ۔عالمی صحت ادارہ نے بھی وائرل دعوے کو غلط کہتے ہوئے مسترد کیا ہے ۔

کیا ہے وائرل پوسٹ میں؟

یوزر سوبرتا چیٹرجی نے اسی پوسٹ کوشیئرکیا ،جس میں لکھاتھا،مذکورہ تمام ٹیکہ لگانے والے دوسال میں فپوت ہوجائیں گے ۔نوبیل اعزاز سے سرفراز لیوک مونٹی گریئرنے تصدیق کرتے ہوئے عوام کو آگاہ کیا ہے کہ جن لوگوں کوئی بھی شکل میں ویکسین ملی ہے ،ان کے بچنے کے امکان نہیں ہیں۔حیرت انگیز انٹرویو میں دنیا کے اعلی ترین ماہرین وایئرولوجسٹ نے واضح طورپرکہا ہے کہ ان لوگوں کے لئے کوئی معالجہ کے امکان نہیں ہیں اوان کے لئے مردہ جسموں کو تباہ کرنے کے لئے تیاررہنا چایئے ۔ ویکسین کے ویرینس کے تجربہ کرنے کے بعد ماہر پرتیبھا نے دیگراہم وائرولوجسٹ کے دعووں کی حمایت کی ۔ وہ تمام ایٹی باڈی پرمنحصر ہوکر فوت ہوجائیں گے اورمزید کچھ نہیں کہا جاسکتاہے۔یہ ایک بہت بڑی غلطی ہے ، مانٹی گریئر نے کل ریئر فاونڈیشن یوایس اے کے ذریعہ شائع کردہ ایک انٹرویو مدیں کہا ۔تاریخ کی کتب اسے دکھائیں گی ،کیونکہ یہ ٹیکہ سازی ہے ،جوویرینٹ بنا رہا ہے ۔ متعدد وبائوں کے ماہرین اسے جانتے ہیں اورانٹی باڈیز منحصراضافی کے طورپرجانی جانے والے مسئلہ پر خاموش ہیں۔

پوسٹ کے آرکائو ورژن کو یہاں دیکھیں۔

پڑتال

وائرل کی جا رہی پوسٹ کی پڑاتال کے لئے وشواس نیوز نے دو حصوں میں تفتیش کی۔ پہلے حصہ میں وائرل پوسٹ کی پڑتال کی ہے، جس میں فرنچ نوبلسٹ لیوک مونٹیگنیئر کے حوالے سے دعوی کیا جا رہا ہے کہ ویکسین لگوانے والے تمام لوگ دو سال کے اندر انتقال کر جائیں گے۔ وہیں، پڑتال کے دوسرے حصہ میں ہم نے لیوک مونٹیگنیئر کے اس انٹرویوی کے حصہ کی پڑتال کی ہے جسے اب وائرل کیا جا رہا ہے۔

پہلا دعوی

پوسٹ کے ساتھ لائف سائٹ نیوز ڈاٹ کام کا لنک ہے اور پوسٹ میں لکھا گیا ہے کہ لیوک مونٹیگیئر نے اپنے انٹرویو میں کہا، ’جن لوگوں نے کووڈ ویکسین لگوائے ہے ان کے بچنے کی کوئی امید نہیں ہے، ویکسین لگوانے والوں کی دو سال کے اندر انتقال ہو جائےگ‘‘۔

فیکٹ

فرنچ زبان میں ہوئے لیوک مونٹیگنیئر کے انٹرویوی کے ایک حصہ کو یو ایس کی ریئر فاؤنڈیشن نے ترجمہ کیا تھا اور 18 مئی 2021 کو آرٹیکل شائع کیا تھا۔ اسی انٹرویو کی بنیاد پر یہ دعوی کیا جا رہا ہے، لیکن ہمیں پورے انٹرویو میں وائرل دعوی جیسا کوئی بیان نہیں ملا۔ انٹرویو میں نوبیلسٹ نے کہا تھا، ’ویکسین سے ویریئنٹ بن رہا ہے اور اسی وجہ سے جن ممالک میں ویکسین لگائی گئی ہے، وہاں زیادہ انتقال ہوئے ہیں‘‘۔ اسی بیان کو فرضی شکل دی گئی ہے۔ ریئر فاؤنڈیشن کے پورے آرٹیکل کو یہاں پڑھ سکتے ہیں۔

وائرل پوسٹ کے ساتھ لائف سائٹ نیوز ڈاٹ کام کا نیوز لنک دیا گیا ہے۔ حالاںکہ، ہمیں یہاں پر بھی ’ دو سال کے اندر موت ہو جانے‘ جیسا وائرل بیان نہیں ملا۔ 25 مئی کو ریئر فاؤنڈیشن نے آرٹیکل شائع کرتے ہوئے اس بات کی تردید کی کہ نوبیلسٹ مونٹیگنیئر نے دو سال میں موت ہو جانے سے جڑا یہ بیان نہیں دیا ہے۔

وشواس نیوز نے تصدیق کے لئے ریئر فاؤنڈیشن کی بانی ایمی میک سے ٹویٹر کے ذریعہ رابطہ کیا اور انہوں نے ہمیں بتایا کہ لیوک مونٹیگنیئر کے نام سے جس بیان کو وائرل کیا جا رہا ہے وہ غلط ہے۔ انہوں نے ہمارے ساتھی ریئر فاؤنڈیشن کے اسی معاملہ پر تردید کا ٹریٹ اور آرٹیکل بھی شیئر کیا۔

وہیں، عالمی صحت ادارہ نے بھی اس بارے میں وشواس نیوز کو بتایا کہ یہ بالکل غلط ہے اور اس وقت موجود سانئٹیفک ثبوتوں پر مبنی نہیں ہے۔ ویکسین نے 25 سے زائد بیماریوں کو روک کر لاکھوں لوگوں کی جان بچائی ہے۔

دوسرا دعوی

پرتال کے دوسرے حصہ میں ہم نے لیوک مونٹیگنیئر کے ذریعہ انٹرویو میں کئے گئے دعووں کی پڑتال کی۔ انہوں نےپہلا دعوی کیا کہ، ’’کورونا وائرس کے نئے ویرینٹس ویکسین کی وجہ سے آئے ہیں اور یہ ویریئنٹس ویکسین کے لئے مزاحم ہیں‘‘۔

فیکٹ

ہندوستان میں پہلے ویکسین 16 جنوری 2021 کو لگی، جبکہ منسٹری آف بائیوٹکنولاجی کی ویب سائٹ پر دی گئی معلومات کے مطابق، ’ہندوستان میں میوٹیٹ ہوئے اس وائرل کے بی.1.617 کا پہلا معاملہ مہاراشٹار میں 7دسمبر 2020 کو رجسٹر کیا گیا۔

اس دعوی کی تصدیق کے لئے ہم نے اشوکا یونی ورسٹی، تریویدی اسکول آف بایوسائنسیز کے ڈائریکٹر، وائرولاجسٹ ڈاٹر شاہد جمیل سے رابطہ کیا۔ انہوں نے ہمیں بتایا کہ لیوک مونٹیگنیئر کے اسی انٹرویو پر دا وائر ڈاٹ ان کے لئے ایک آرٹیکل لکھا ہے اور وہاں سے تمام معلومات حاصل کی جا سکتی ہے۔ 27 مئی 2021 کو شائع ہوئی اس آرٹیکل میں صاف طور پر لکھا گیا ہے، ’وائرل سمیت تمام آرگینسم میں میوٹیشنس ہونتے ہیں۔ یہ آر این اے وائرل جیسا کورونا وائرس، انفلواینزا وائرل جیسے کے لئے خصوص طور پر سچ ہے۔ اسلئے میوٹیشن کے ہر دور کے ساتھ رپلیکیشن جمع ہوتے ہیں۔ امیون عمل ایک مضبوط سلیکشن فورس ہے، جو صرف سارس کوو 2 ہی نہیں بلکہ تمام وائرس کے ڈولپمینٹ کو اوالیوئٹ کرتا ہے‘‘۔ وہیں بی.1.617 ویریئنٹ کی ٹائم لائن کو بتاتے ہوئے لکھا گیا ہے، ’یہ ٹائم لائن اس اپروچ کو مسترد کرتی ہے کہ ویکسین کے سبب نئے ویریئنٹس بنے ہیں‘‘۔ ممکمل آرٹیکل یہاں پڑھیں۔

تیسرا دعوی

تیسرا دعوی ہے کہ ’’یہ وائرس کے ذریعہ بنائی گئی اینٹی باڈیز ہیں، جو انفیکشن کو مضبوط بننے میں کارگار بناتی ہیں۔ اے ڈی آئی ویکسن لگائے گئے لوگوں میں ویریئنٹ کے ذریعہ مزید مضبوط انفیکشن کا سبب بنےگا‘‘۔

فیکٹ

ہندوستان وائرولاجسٹ اور ویکسینیشن پر پر قومی تکنیکی مشوارت گروپ کی رکن ڈاکٹر گگن دیپ کانگ نے لیوک مونٹیگنیئر کے دعووں سے جڑا ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا، ’جب ہم انفیکٹڈ ہوتے ہیں یا ویکسین لگائی جاتی ہیں تو ہم پورے وائرس یا وائرس کے حصہ کے جواب میں اینٹی باڈی بناتے ہیں۔ وائرس انفیکشن میں، اینٹی باڈی سمیت جسم کے امیون درعمل وائرل رپلیکشین کو بند کر دیتی ہیں اور ہم انفیکشن سے ابھر جاتے ہیں۔ کچھ لوگوں میں خصوصی، کیوں کہ وہ امیونو کومپرومائزڈ )(یعنی جنکا امیون کمزور ہو اور ان کے ذریعہ وائرس پھیلنے کی زیادہ امید ہو) معاملوں میں ممکن ہے کہ وائرس کے ویریئنٹ کا ڈولپمینٹ ہو سکتی جو امیون رسپانس سے بچ جاتے ہیں۔ ویریئنٹ کئی ہیں، لیکن ویرئنٹ جو امیونٹی سے بچتے ہیں وہ کم ہیں۔ جیسے جیسے وائرس آبادی میں پھیلتا ہے اور بڑے پیمانے پر بڑھتا ہے، کچھ ایسی اقسام جو ویکسین سے متاثرہ استثنیٰ سے بچنے کی زیادہ اہلیت رکھتے ہیں وہ ویکسینوں کو کچھ حد تک موثر بنائیں گی۔ مختلف حالتوں کو کم کرنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ ویکسین لگانا بند نہ کریں۔ بلکہ وائرس کے ویریئنٹ اور ریپلیکشن کو روکنے کے لئے اسے بڑھانا ہے‘‘۔

جاگرن نیو میڈیا کے سینئر ایڈیٹر پرتیوش رنجن نے لیوک مونٹیگنیئر کے ذریعہ کئے گئے دعووں پر آئی سی ایم آر کے ڈاکٹر ارون شرما سے بات کی۔ ڈاکٹر ارون شرما آئی سی ایم آر کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار امپلیکیشن ریسرچ آن نان کمیونیکیبل ڈزیز (جودھ پور) کے ڈائریکٹر ہیں۔ وہ کمیونٹی میڈیسن ماہر بھی ہیں۔ وائرل پوسٹ میں کئے گئے دعوے پر ڈاکٹر شرما نے جواب دیا۔

سوال: ویکسین ہی ویریئنٹ تیار کر رہی ہے۔ نئے طرح کے ویریئنٹ کے وجہ کی بنتے ہیں۔

جواب: یہ ایک بےبنیاد دعوی ہے۔ اس دعوی کی حمایت کرنے کے لئے کوئی سائنٹفک ثبوت موجود نہیں ہے۔

سوال: وائرس ویریئنٹ بنا سکتے ہیں، جو ویکسین مزاحم ہو سکتے ہیں۔

جواب: یہ ممکن ہے اور وائرس اپنا ویریئنٹ بناتا ہے۔ حالاںکہ، یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ ویکسین یا ویکسینیشن کے سبب ہوتا ہے۔

سوال: یہ وائرس، ویکسین کے ذریعہ بنائی گئی اینٹی باڈیز ہیں جو انفیکشن کو بڑھاتی ہے۔ اگر ہم کووڈ 19 ویکسین کی بات کریں تو یہ کتنا صحیح ہے؟

جواب: یہ بالکل بےبنیاد دعوی ہے اور یہ ابھی تک کووڈ 19 ویکسینیشن کے معاملہ میں ایسا کچھ دیکھا نہیں گیا ہے۔ کووڈ اور اس کے ویریئٹس سے لڑنے کے لئے اور خود کو محفوظ رکھنے کے لئے ویکسینیشن سب سے اہم قدم ہے۔ سبھی کو بغیر کسی ہچکچاہٹ کے ویکسینیشن کے لئے جانا چاہئے اور دونوں ڈوسیز کو ضرورت کے مطابق پورا کرنا چاہئے اور ویکسینیشن کے عمل پوری ہونے کے بعد بھی کووڈ کی تمام گائڈ لائنس کو فالوو کرتے رہنا چاہئے۔

آپ ڈاکٹر شرما کے ساتھ کووڈ اور ویکسین کے اوپر جاگرن ڈائلاگ کی ایک ایکسکلوسیو انٹرویو یہاں سکتے ہیں۔

پڑتال کے اگلے مرحلہ میں ہم نے زیادہ جانکاری حاصل کرنے کے لئے نیوز سرچ کیا اور ہمیں 16 مارچ 2021 کو میڈ پیج ٹوڈے کی ویب سائکٹ پر شائع ہوا ایک آرٹیکل ملا۔ اس میں ڈیریے لوو، پی ایچ ڈی ہولڈر کے سانئس ٹرانسلیشن میڈیسن بلاگ ’ان دا پائپ لائن: میں لکھی گئی جانکاری کا حوالا دیتے ہوئے لکھا گیا، ’کووڈ ویکسین کی ڈولپمینٹ کے شروعاتی مراحل سے ہی سائنس دانوں نے سارس کوو 2 پروٹین کو ٹارگیٹ کرنے کا مطالبہ کیا تھا، جس سے اے ڈی ای ہونے کی امید کم تھی۔ مثال کے طور پر، جب انہیں پتہ چلا تو انہوں نے فورا اس اپروچ کو چھوڑ دیا۔ سب سے محفوظ طریقہ اسپائک پروٹین کے ایس ٹو سب یونٹ کو ٹارگیٹ کرنا نظر آرہا تھا اور انہوں نے اسی اپروچ کو آگے بڑھایا۔ سانئنس دانوں نے اے ای ڈی کی تلاش کے لئے جانوروں پر مطالعہ کیا۔ انہوں نے اس کی تلاش ہیومن ٹریلس کے ذریعہ بھی کی اور وہ امرجنسی آتھررائزیشن کے ساتھ کووڈ ویکسین کے ریئل ورلڈ کے ڈیٹا کی تلاش کر رہے ہیں۔ حالاںکہ، انہیں ابھی تک اس کے علامات نظر نہیں آئے ہیں۔ بلکہ اس کے الٹا ہو رہا ہے‘‘۔ مکمل آرٹیکل یہاں پڑھیں۔

لیوک مونٹیگنئر کو فرانکوائس بیری سینائسی اور ہیرالڈ زور ہاوسن کے ساتھ سال 2008 میں ہیومن امیونو ڈفیشیئنسی وائرس (ایچ آئی وی) کی تلاش کے لئے فزیئولاجی میڈیسن میں نوبل انعام ملا تھا۔ مونٹیگنیئر اکثر سرخیوں میں ہوتے ہیں۔ اپریل 2020 میں انہوں ے یہ کہا تھا کہ چین کی وہان لیب میں کورونا وائرس تیار کیا گیا ہے۔ خبر یہاں پڑھیں۔

نتیجہ: وشواس نیوز نے اپنی جانچ میں پایا کہ یہ تمام دعوے بے بنیاد ہیں۔ نوبیلسٹ لیوک مونٹی گریئرنے نا یہ کہاکہ ٹیکہ لگوانے والوں کی دوسال میں موت ہوجائے گی اورنا ہی یہ دعوی صحیح ہے ۔ وائرل پوسٹ کے ساتھ کی جس خبرکا لنک دیا گیا ہے ’،وہاں بھی ہمیں مذکورہ بیان ندارد ملا۔ علاوہ ازیں لیوک مونٹی گریئرکے انٹرویو میں کیا گیا دعوی بھی بے بنیاد ہی ہے ۔جسم کے انٹی باڈیز کے سبب وائرس اپنی شکل تبدیل کرسکتا ہے ،مگرجسم میں انٹی باڈیز محض ویکسین سے نہیں بنتی ہے ۔’نے بھی وائرل دعوے کو غلط کہتے ہوئے مسترد کیا ہے ۔’’’

  • Claim Review : ویکسین لگوانے والوں کی ہی جائےگی دو سال کے اندر موت
  • Claimed By : Raima Joy Piang Bandala
  • Fact Check : جھوٹ‎
جھوٹ‎
    فرضی خبروں کی نوعیت کو بتانے والے علامت
  • سچ
  • گمراہ کن
  • جھوٹ‎

مکمل حقیقت جانیں... کسی معلومات یا افواہ پر شک ہو تو ہمیں بتائیں

سب کو بتائیں، سچ جاننا آپ کا حق ہے۔ اگر آپ کو ایسے کسی بھی میسج یا افواہ پر شبہ ہے جس کا اثر معاشرے، ملک یا آپ پر ہو سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ آپ نیچے دئے گئے کسی بھی ذرائع ابلاغ کے ذریعہ معلومات بھیج سکتے ہیں۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Post saved! You can read it later