X

فیکٹ چیک: مذہب کی بنیاد پر نہیں بلکہ نشے میں ایک بائیک کو نقصان پہنچانے کے سبب ہوئی تھی شخص کی پٹائی، ویڈیو فرقہ وارانہ زاویہ سے وائرل

وشواس نیوز نے اپنی پرتال میں وائرل دعوی فرضی پایا۔ مہاراشٹرا امراوتی کے تیوسا میں یہ معاملہ پیش آیا تھا۔ مار کھا رہا شخ نشے کی حالت میں چار ویلر گاڑی چلا رہا تھا اور ایک ٹو ویلر گاڑی کو نقصان پہنچایا تھا۔ جس کے بعد وہاں کے مقامی لوگوں نے شخص کی پٹائی کی تھی۔

  • By Vishvas News
  • Updated: July 3, 2021

نئی دہلی (وشواس نیوز)۔ سوشل میڈیا میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہو رہا ہے جس میں ایک شخص کو لوگوں کا ہجوب پیٹ رہا ہے۔ ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے صارفین دعوی کر رہے ہیں کہ مہاراشٹرا میں انتہا پنسد لوگوں نے اس شخص کو اس کی مذہبی شناخت کی بنیاد پر پٹائی کی ہے۔ وشواس نیوز نے اپنی پرتال میں وائرل دعوی فرضی پایا۔ مہاراشٹرا امراوتی کے تیوسا میں یہ معاملہ پیش آیا تھا۔ مار کھا رہا شخ نشے کی حالت میں چار ویلر گاڑی چلا رہا تھا اور ایک ٹو ویلر گاڑی کو نقصان پہنچایا تھا۔ جس کے بعد وہاں کے مقامی لوگوں نے شخص کی پٹائی کی تھی۔ وشواس نیوز سے بات کرتے ہوئے تیوسا پولیس اسٹیشن کی انچارج ریتا توئکے نے معاملہ کے فرقہ وارانہ ہونے کی بات کو مسترد کیا ہے۔

کیا ہے وائرل پوسٹ میں؟

فیس بک صارف چوہدری شاہداقبال نے ویڈیو کو اپ لوڈ کرتے ہوئے لکھا، ’کرتا قمیض پہنننا مسلم نوجوان کا جرم بن گیامہاراشٹرا میں انتہاپسند ہجوم کا کرتا قمیض پہنے مسلمان پر بہیمانہ تشدد‘‘۔

پوسٹ کے آرکائیو ورژن کو یہاں دیکھیں۔

پڑتال

اپنی پڑتال کا آغاز کرتے ہوئے ہم نے ویڈیو کو ان ویڈ ٹول میں ڈالا اور متعدد کی فریمس نکالے اور انہیں گوگل رورس امیج پر سرچ کیا۔ سرچ میں ہمارے ہاتھ کسی بھی قابل اعتماد ادارہ پر یہ ویڈیو نہیں ملا۔ مزید سرچ میں ہم نے متعلقہ کی ورڈ کی مدد سے ویڈیو کو ٹویٹر پر سرچ کرنا شروع کیا۔ سرچ میں ہمیں اوکھلا کے ایم ایل اے امانت اللہ خان کی جانب سے 20 جون 2021 کو ٹویٹ کیا ہوا یہی ویڈیو لگا۔ ویڈیو کے ہی رپلائے میں حاکم انصاری نام کے صارف نے معاملہ سے جڑی ایک اخبار کی کلپ کو شیئر کیا ہے۔ اخبار میں دی گئی معلومات کے مطابق، ’امراوتی میں ایک گاڑی کے ڈرائیور نے موٹر سائکل کو ٹکر لگا دی جس کے بعد وہاں کے لوگوں نے شخص کی پٹائی کر دی‘‘۔

اب ہم نے گوگل نیوز سرچ کے ذریعہ متعدد کی ورڈس ڈالے اور خبروں کو سرچ کرنا شروع کیا۔ سرچ میں ہمیں مہارٹھی ٹائمس ڈاٹ کام کی ویب سائٹ پر 15 جون 2021 کو اپ لوڈ ہوئی خبر ملی۔ خبر میں دی گئی جانکاری کے مطابق،’ امراوتی کے تیوسا میں ایک عجیب معاملہ پیش آیا۔ منگل کے روز دوپہر میں نشے کی حالت میں ایک شخص نے اپنی وین میں سے دو پہیے گاڑی کو تین کلو میٹر تک گھسیٹ کر لیتا چلا گیا۔ مقامی لوگوں نے گاڑی کو روکنے کی کوشش کی لیکن ڈرائیور نہیں رکا اور گاڑی کو شاہ راہ کی جانب موڑ دیا۔ تبھی لوگوں نے گاڑی چلا رہے شخص کی پٹائیی کی جس کے بعد ویڈیو وائرل ہو گیا۔ ڈرائیور کی شناحت 26سالہ محمد فیضان کے طور پر ہوئی ہے‘‘۔ مذکورہ معاملہ سے متعلق خبر لوک مت کی نیوز ویب سائٹ پر بھی پڑھ سکتے ہیں۔

مزید معلومات حاصل کرنے کے لئے ہم نے امراوتی کے تیوسا پولیس اسٹیشن کی انچارج ریتا اوئیکے سے رابطہ کیا اور انہوں نے ہمیں بتایا کہ یہ معاملہ فرقہ وارانہ نہیں تھا۔ اس معاملہ میں دونوں ہی گروپوں کی جانب سے شکایت درج کروائی گئی ہے۔ لیکن اس معاملہ کا کوئی مذہبی ذاوریہ نہیں تھا۔ ڈرائیور نشے کی حالت میں گاڑی چلا رہا تھا اور ایک بائیک کو نقصان پہنچایا تھا اسی کے بعد یہ معاملہ پیش آیا۔ اب جس حوالے سے ویڈیو وائرل ہے اس کا دعوی بے بنیاد ہے۔

فرضی پوسٹ کو شیئر کرنے والے فیس بک صار چوہدری شاہداقبال کی سوشل اسکیننگ میں ہم نے پایا کہ صارف فیس بک پر کافی سرگرم ہیں رہتے ہیں۔

نتیجہ: وشواس نیوز نے اپنی پرتال میں وائرل دعوی فرضی پایا۔ مہاراشٹرا امراوتی کے تیوسا میں یہ معاملہ پیش آیا تھا۔ مار کھا رہا شخ نشے کی حالت میں چار ویلر گاڑی چلا رہا تھا اور ایک ٹو ویلر گاڑی کو نقصان پہنچایا تھا۔ جس کے بعد وہاں کے مقامی لوگوں نے شخص کی پٹائی کی تھی۔

  • Claim Review : ‏کرتا قمیض پہنننا مسلم نوجوان کا جرم بن گیا مہاراشٹرا میں انتہاپسند ہجوم کا کرتا قمیض پہنے مسلمان پر بہیمانہ تشدد
  • Claimed By : چوہدری شاہداقبال
  • Fact Check : جھوٹ‎
جھوٹ‎
فرضی خبروں کی نوعیت کو بتانے والے علامت
  • سچ
  • گمراہ کن
  • جھوٹ‎

مکمل حقیقت جانیں... کسی معلومات یا افواہ پر شک ہو تو ہمیں بتائیں

سب کو بتائیں، سچ جاننا آپ کا حق ہے۔ اگر آپ کو ایسے کسی بھی میسج یا افواہ پر شبہ ہے جس کا اثر معاشرے، ملک یا آپ پر ہو سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ آپ نیچے دئے گئے کسی بھی ذرائع ابلاغ کے ذریعہ معلومات بھیج سکتے ہیں۔

ٹیگز

اپنی راے دیں
مزید پڑھ

No more pages to load

متعلقہ مضامین

Next pageNext pageNext page

Post saved! You can read it later