X

فیکٹ چیک: خواتین کے ساتھ بےرحمی سے پیش آرہے پولیس اہلکار کا ویڈیو کشمیر کا نہیں بلکہ نیپال کے بیر گنج کا ہے

نئی دہلی (وشواس نیوز)۔ کشمیر کے نام سے وائرل ہو رہے فرضی ویڈیو اور تصاویر کا سلسلہ جاری ہے۔ آئے دن سوشل میڈیا پر دیگر ریاستوں اور ممالک کے ویڈیو اور تصاویر کشمیر کی بتا کر وائرل کی جا رہی ہیں۔ وشواس ٹیم کے ہاتھ ایک ویڈیو لگا جس میں دو پولیس اہلکاروں کو ایک خاتون اور ایک لڑکی کو مارتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ صارفین دعویٰ کر رہے ہیں کہ یہ ویڈیو کشمیر کا ہے۔ وشواس ٹیم کی پڑتال میں یہ دعویٰ فرضی ثابت ہوتا ہے۔ وائرل ویڈیو کشمیر کا نہیں بلکہ نیپال کے پیر گنج کا نومبر 2018 کا ہے۔

کیا ہے وائرل پوسٹ میں؟

فیس بک پیج ’4 گاڈ سیک، اسٹاپ ایٹ‘ کی جانب سے 30 اگست کو پوسٹ کئے گئے ایک ویڈیو میں دو پولیس اہلکار خواتین کو مارتے ہوئے نظر آہے ہیں۔ صارف نے کیپشن کے ذریعہ دعویٰ کیا ہے کہ ’’مسلم خواتین اور بچوں پر تشدد..اے اللہ تمام مسلمانوں کی حفاظت فرما‘‘۔

پڑتال

ہم نے اپنی پڑتال کا اغاز کرتے ہوئے ان ویڈ ٹول کے ذریعہ ویڈیو کے کی فریمس نکالے اور گوگل پر رورس امیج سرچ کیا۔ سرچ میں ہمارے ہاتھ کوئی مناسب لنک نہیں لگا۔ پھر ہم نے ان ویڈ ٹول کے ذریعہ نکالی گئی ایک تصویر کو ینڈکس میں سرچ کیا۔ سرچ کرتے ہی ہمارے سامنے متعدد تصاویر آگئی اور انہیں ہمیں وائرل ویڈیو سے لی گئی تین تصاویر کی ایک خبر نظر آئی۔

تصویر کے ساتھ دئے گئے لنک پر ہم گئے۔ اور ہم نے پایا کہ فیس میو ڈاٹ کام ایک نیپالی پوٹرل کا ہے۔ اس پورٹل میں 24 نومبر 2018 کو شائع ایک خبر میں وائرل ویڈیو سے لی گئی تین تصاویر کا استعمال کیا گیا تھا۔

اس خبر میں ہمیں ایک فیس بک لنک بھی ایمبڈ نظر آیا۔ جس میں وائرل ویڈیو کو دیکھا جا سکتا ہے۔


فیس بک صارف کے کیپشن کا ہم نے ترجمہ کرنے کے لئے گوگل ٹرانسلیٹنگ ٹول کا استعمال کیا اور ویڈیو کے ساتھ دئے گئے کیپشن کا ترجمہ اردو میں کچھ اس طرح ہوا، ’’بیرگنج میں خواتین کے ساتھ انتہائی ظالمانہ اور غیر انسانی سلوک‘‘۔

اب ہم نے گوگل پر بیر گنج سے متعلق مناسب کی ورڈس ڈال کر گوگل پر 17 نومبر 2018 سے لے کر 30 نومبر 2018 تک کی ٹائم لائن سیٹ کی اور سرچ کیا۔ اور سرچ میں ہمیں وہی خبر ملی جس کی ہم پڑتال کر رہے تھے۔

دئے گئے لنک میں ہم کاٹھمانڈو پوسٹ ڈاٹ کام پر پہنچے۔ اس خبر میں استعمال کی گئی تصویر بھی وائرل ویڈیو کا ہی حصہ ہے۔ خبر کی سرخی ہے
Video of police manhandling Birgunj women sparks outrage

گزشتہ سال 26 نومبر 2018 کو شائع اس خبر کے مطابق، نیپال کے صوبہ نمبر 2 کے بیر گنج علاقہ میں دو پولیس اہکاروں نے ایک خاتون اور ایک لڑکی پر تشدد کیا تھا۔ خبر کے مطابق، خواتین پر الزام تھا کہ وہ سرحد پار موجود تاجیروں کو ساڑیاں پہنچاتی ہیں۔ خبر میں ہمیں مذکورہ معاملہ پر کئےگئے صوبہ 2 کے چیف اٹرنی دیپیندر جھا کے ٹویٹ کی بھی جانکاری ملی۔

اب ہم نے ٹویٹر پر صوبہ 2 کے چیف اٹرنی دپیندر جھا کو تلاش کیا اور پہلے ہی سرچ میں ہمیں وہ مل گئے۔ اور ساتھ ہی مذکورہ معاملہ پر کیا گیا ان کا ٹویٹ بھی ملا۔ جس میں انہوں نے آئی جی پی اور اے جی ایف سے اس معاملہ میں ملوث پولیس اہکاروں کے خلاف جلد از جلد کاروائی کا مطالبہ کیا۔

ہم نے پایا کہ دیپندر جھا کا ٹویٹ نیپالی سماجی کارکن کنچن جھا کا ری ٹویٹ ہے۔ کنچن جھا نے ہی 22 نومبر 2018 کو اس ویڈیو کو سب سے پہلے ٹویٹ کیا تھا۔

اب یہ تو واضح ہو چکا تھا کہ وائرل ویڈیو کشمیر کا نہیں بلکہ نیپال کا ہے۔ لیکن ہم نے اپنی خبر کو پختہ کرنے کے لئے دینک جاگرن کے سینئر رپورٹر راہل شرما سے بات کی اور ان کے ساتھ ویڈیو شیئر کیا۔ انہوں نے ہمیں بتایا کہ’’ پولیس اہلکار کی وردی سے صاف نظر آرہا ہے کہ یہ ویڈیو کشمیر کا نہیں ہے۔ کشمیر میں پولیس اہکاروں کی وردی ایسی نہیں ہوتی جیسی وائرل ویڈیو میں نظر آرہی ہے۔ وائرل ویڈیو کشمیر کا نہیں بلکہ کہیں اور کا ہے جسے کشمیر کے نام پر وائرل کیا جا رہا ہے‘‘۔

اب باری تھی اس ویڈیو کو فرضی حوالے کے ساتھ وائرل کرنے والے فیس بک پیج ’4 گاڈ سیک، اسٹاپ ایٹ‘ کی سوشل اسکیننگ کرنے کی۔ ہم نے پایا کہ اس پیج کو 7,485 لوگ فالوو کرتے ہیں۔ اور اس پیج پر زیادہ تر ویڈیو شیئر کی جاتی ہیں۔

نتیجہ: وشواس ٹیم کی پڑتال میں کشمیر کے نام سے وائرل ہو رہا ویڈیو فرضی ثابت ہوتا ہے۔ وائرل ویڈیو کشمیر کا نہیں بلکہ نیپال کے بیر گنج علاقہ کا 2018 کا ہے۔

  • Claim Review : مسلم خواتین اور بچوں پر تشدد..اے اللہ تمام مسلمانوں کی حفاظت فرما۔
  • Claimed By : FB Page- 4God sack,Stop it
  • Fact Check : False
False
    Symbols that define nature of fake news
  • True
  • Misleading
  • False
جانیں سچی اور فرضی خبروں کی حقیقت کوئز کھیلیں اور خبروں کی حقیقت چیک کرنے کا طریقہ سیکھیں کوئز کھیلے

مکمل سچ جانیں...

اگر آپ کو ایسی کسی بھی خبر پر شک ہے جس کا اثر آپ کے معاشرے اور ملک پر پڑ سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ ہمیں یہاں جانکاری بھیج سکتے ہیں۔ آپ ہم سے ای میل کے ذریعہ رابطہ کر سکتے ہیں contact@vishvasnews.com
اس کے ساتھ ہی واٹس ایپ (نمبر9205270923 ) کے ذریعہ بھی اطلاع دے سکتے ہیں

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Post saved! You can read it later