فیکٹ چیک: ہریانہ کے سرسا ضلع میں بچہ چور گروہ کے سرگرم ہونے والی خبر فرضی ہے

نئی دہلی (وشواس ٹیم)۔ آج کل واٹس ایپ گروپس اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمس پر ایک میسج وائرل ہو رہا ہے جس میں ہریانہ کے سرسا ضلع کے بارے میں یہ افواہ پھیلائی جا رہی ہے کہ ضلع میں بچہ چور گروہ سرگرم ہے۔ اس میسج کے ساتھ پولیس کا نام لیا جا رہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ یہ اطلاعات سرسا ڈپٹی کمشنر نے جاری کی ہیں۔ ہماری پڑتال میں ہم نے پایا کہ یہ دعویٰ غلط ہے۔ سرسا پولیس نے ہم سے بات کر کے یہ واضح کیا کہ ضلع میں کوئی بچہ چور گروہ سرگرم نہیں ہے۔ یہ پوسٹ فرضی ہے جس کو پولیس انتظامیہ نے خارج کیا ہے۔ ہریانہ پولیس میں ڈپٹی کمشنر جیسا کوئی عہدہ نہیں ہوتا۔

دعویٰ

وائرل پوسٹ میں دعویٰ کیا جا رہا ہے، ’’سرسا ضلع میں بچہ چور گروہ داخل۔ سرگرم رہیں، خبردار رہیں، ہوشیار رہیں اور اپنے بچوں کا خیال رکھیں‘‘۔

فیکٹ چیک

اس دعویٰ کی پڑتال کرنے کے لئے ہم نے سرسا پولیس کے پی آر او سرجیت سنگھ سے بات کی جنہوں نے ہمیں بتایا، ’’یہ دعویٰ پوری طرح فرضی ہے۔ ہریانہ پولیس میں ڈپٹی کمشنر جیسا کوئی عہدہ نہیں ہوتا۔ یہ میسج غلط ہے۔ سرسا میں کوئی بچہ چور گروہ سرگرم نہیں ہے۔ ضلع پولیس انتظامیہ اس خبر کو پوری طرح خارج کرتا ہے‘‘۔

پی آر او سرجیت سنگھ نے ہمارے ساتھ کچھ مقامی اخبارات کی کلپ بھی شیئر کی جن میں پولیس کے ذریعہ اس وائرل خبر کو خارج کیا گیا ہے۔

مزید تصدیق کے لئے ہم نے سرسا ایس پی ارون سنگھ سے بھی بات کی جنہوں نے لوگوں سے ایسی خبروں پر یقین نہ کرنے کی گزارش کی۔

اس پوسٹ کو اینٹی کرائم یوتھ کلب نام کے ایک فیس بک پیج کے ذریعہ شیئر کیا گیا تھا اس پیج کے کل 10,725 فالووس ہیں۔

اس پوسٹ کو 8 اگست 2019 کو ’ہریانہ ویداھان سبھا چوناؤ 2019 ‘کے نام کے ایک فیس بک پیج کے ذریعہ بھی شیئر کیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ 18 اگست کے بعد ہی ان کے پاس اچانک ایسی افواہوں والے معاملہ آنے بڑھ گئے تھے۔


جب ہم نے پڑتال کی تو پایا کہ اس وائرل میسج کے بعد سرسا پولیس کو متعدد ایسے فون آ رہے ہیں، جہاں لوگوں کو بچہ چوری کا شک ہوا ہے۔ مگر پولیس کے پہنچنے پر معلوم ہوا کہ یہ محض افواہ تھی۔ ایسی ہی ایک خبر دینک جاگرن ویب سائٹ پر بھی 11 اگست کو شائع ہوئی تھی، جہاں ایسے 2 معاملوں کا ذکر ہے، جب بچہ چوری کی افواہیں اڑیں اور پولیس نے تفتیش میں کچھ بھی نہیں پایا۔

بچہ چوری ایک سنجیدہ معاملہ ہے اور اکثر اس سے متعلق فرضی خبروں پر بھی لوگ یقین کر لیتے ہیں۔ وشواس نیوز نے بھی ایسی کچھ حبروں کی پڑتال کی تھی اور انہیں غلط پایا۔ جنہیں یہاں نچے پڑھا جا سکتا ہے۔

اپنے بچوں کی حفاظت کرنا ہر والدین کا فرض ہے لیکن ایسی کسی بھی افواہ پر انہیں آنکھ بند کر کے یقین نہیں کرنا چاہئے، بلکہ اپنی سطح پر اس کی تصدیق کرنی چاہئے۔

نتیجہ: ہماری پڑتال میں ہم نے پایا کہ یہ دعویٰ غلط ہے۔ سرسا پولیس سے ہوئی بات میں انہوں نے یہ صاف کیا کہ ضلع میں کوئی بچہ چور گروہ سرگرم نہیں ہے۔ یہ وائرل میسج گمراہ کن ہے، جس کو ضلع انتظامیہ خارج کرتا ہے۔ علاوہ ازیں ہریانہ پولیس میں ڈپٹی کمشنر جیسا کوئی عہدہ نہیں ہوتا۔

مکمل سچ جانیں…سب کو بتائیں

اگر آپ کو ایسی کسی بھی خبر پر شک ہے جس کا اثر آپ کے معاشرے اور ملک پر پڑ سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ ہمیں یہاں جانکاری بھیج سکتے ہیں۔ آپ ہم سے ای میل کے ذریعہ رابطہ کر سکتے ہیں
contact@vishvasnews.com 
اس کے ساتھ ہی واٹس ایپ (نمبر9205270923 ) کے ذریعہ بھی اطلاع دے سکتے ہیں۔

  • Claim Review : ہریانہ کے سرسا ضلع میں بچہ چور گروہ سرگرم
  • Claimed By : FB page Anti Crime Youth Club
  • Fact Check : False
False
    Symbols that define nature of fake news
  • True
  • Misleading
  • False

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Post saved! You can read it later