فیکٹ چیک: وائناڈ میں نہیں، ناگاپٹنم میں دو فریقوں کے درمیان ہوئے اختلافات کے بعد منہدم ہوا تھا امبیڈکر کا مجسمہ، مسلمانوں سے کوئی لینا- دینا نہیں

نئی دہلی (وشواس نیوز)۔ سوشل میڈیا پر آج کل ایک ویڈیو وائرل ہو رہا ہے، جس میں کچھ لوگوں کو بھیم راؤ امبیڈکر کا مجسمہ توڑتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ پوسٹ میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ کیرالہ کے وائناڈ کا ویڈیو ہے اور اس کو توڑنے والے لوگ مسلمان ہیں۔ ہم نے اپنی پڑتال میں پایا کہ یہ ویڈیو وائناڈ کا نہیں، بلکہ تمل ناڈو کے ناگاپٹنم کا ہے۔ دو فریقوں کے درمیان ہوئے معاملہ کے بعد کچھ سرونوں نے بھیم راؤ امبیڈکر کے مجسمہ کو مقصان پنچایا تھا۔ یہ معاملہ قرقہ وارانہ نہیں تھا۔

دعویٰ

وائرل ویڈیو میں کچھ لوگوں کو بھیم راؤ امبیڈکر کے مجسمہ کو منہدم کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ پوسٹ میں دعویٰ کیا جا رہا ہے، ’’وائناڈ میں امبیڈکر کے مجسمہ کو توڑتے انشا اللہ والے لوگ کرو اور جے بھیم جے میم‘‘۔

فیکٹ چیک

اس پوسٹ کی پڑتال کرنے کے لئے ہم نے اس ویڈیو کو ان ویڈ ٹول پر ڈال کر اس کے کی فریمس نکالے اور پھر انہیں گوگل رورس امیج پر سرچ کیا۔ ہمارے ہاتھ مائی نیشن ڈاٹ کام کی ایک خبر لگی، جس میں اس ویڈیو کو ایمبیڈ کیا گیا تھا۔ خبر کے مطابق، یہ معاملہ 25 اگست کا ہے جب ہندو سورنوں اور دلتوں کے درمیان ہوئے اختلافات کے بعد، سورنوں نے تمل ناڈو کے ناگاپٹنم کے ویدر نیم میں بھیم راؤ امبیڈکر کا مجسمہ منہدم کر دیا تھا۔

ہمیں 26 اگست 2016 کو شائع ہوئی یہی خبر دا ہندو کی ویب سائٹ پربھی ملی۔



وائرل پوسٹ میں اس معاملہ کو وائناڈ کا بتایا گیا ہے، اسلئے ہم نے تصدیق کے لئے وائیناڈ کے سپریٹینڈینٹ آف پولیس کروپاسمی آر سے بات کی جنہوں نے واضح کیا کہ یہ معاملہ وائناڈ کا نہیں ہے۔

مزید تصدیق کے لئے ہم نے ناگاپٹنم کے ایس پی کے راج شیکھرن سے بات کی انہوں نے بتایا کہ، ’’25 اگست کو دلت برادری کے پیدل چل رہے ایک شخص کو ایک ہندو سورن برادری سے تعلق رکھنے والے شخص کے ذریعہ چلائی گئی گاڑی نے ٹکر مار دی تھی۔ جس کے بعد معاملہ کشیدہ ہو گیا اور مجسمہ بھی منہدم کر دیا گیا۔ یہ مذہب یا برادری سے متعلق کوئی معاملہ نہیں تھا‘‘۔

اب باری تھی اس پوسٹ کو فرضی حوالے کے ساتھ وائرل کرنے والے فیس بک پیج سناتنی اور مودی فین کی سوشل اسکیننگ کرنے کی۔ ہم نے پایا کہ یہ پیج ایک مخصوص ائیڈولاجی کی جانب متوجہ ہے۔

نتیجہ: ہم نے اپنی پڑتال میں پایا کہ یہ ویڈیو وائناڈ کا نہیں، بلکہ تمل ناڈو کے ناگاپٹنم کا ہے۔ دو فریقوں کے درمیان ہوئے اختلافات کے بعد سورنوں نے بھیم راؤ امبیڈکر کے مجسمہ کو منہدم کر دیا تھا۔ یہ دو مذاہب یا برادریوں کے درمیان کا معاملہ نہیں تھا۔

  • Claim Review : ’وائناڈ میں امبیڈکر کے مجسمہ کو توڑتے انشا اللہ والے لوگ کرو اور جے بھیم جے میم
  • Claimed By : FB Page- Sanatani aur Modi Fan
  • Fact Check : False
False
    Symbols that define nature of fake news
  • True
  • Misleading
  • False

مکمل سچ جانیں...

اگر آپ کو ایسی کسی بھی خبر پر شک ہے جس کا اثر آپ کے معاشرے اور ملک پر پڑ سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ ہمیں یہاں جانکاری بھیج سکتے ہیں۔ آپ ہم سے ای میل کے ذریعہ رابطہ کر سکتے ہیں contact@vishvasnews.com
اس کے ساتھ ہی واٹس ایپ (نمبر9205270923 ) کے ذریعہ بھی اطلاع دے سکتے ہیں

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Post saved! You can read it later