X

فیکٹ چیک: کورونا وائرس چار روز تک گلے میں رہتا ہے اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے

  • By Vishvas News
  • Updated: May 31, 2020

نئی دہلی (وشواس نیوز)۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک پوسٹ میں دعوی کیا گیا ہے کہ چار دن تک گلے میں کورونا وائرس موجود رہتا ہے۔ پوسٹ کے ساتھ یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ پانی پینے یا غرارہ کرنے سے وائرس کا خاتمہ ہوتا ہے۔ وشواس نیوز کو پتہ چلا کہ یہ پوسٹ فرضی ہے۔ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ چار دن تک حلق میں کورونا وائرس باقی رہتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پانی پینا یا نمک کے پانی سے غرارہ کرنا ایک اچھی عادت ہے، لیکن یہ کورونا وائرس کا علاج نہیں کرسکتی ہے۔

کیا ہے وائرل پوسٹ میں؟

فیس بک پیج ’ایکسس ٹو جسٹس‘ کی جانب سے 23 مارچ کو ایک پوسٹ شیئر کی گئی جس میں لکھا تھا، ’’ پھیپھڑوں تک پہنچنے سے پہلے کورونا وائرس چار دن تک گلے میں رہتا ہے اور اس وقت فرد کو کھانسی ہونے لگتی ہے اور گلے میں تکلیف ہوتی ہے۔ اگر وہ بہت زیادہ پانی پیتا ہے اور گرم پانی اور نمک یا سرکہ سے گرمجوشی سے وائرس کا خاتمہ ہوتا ہے۔ اس معلومات کو پھیلائیں کیوں کہ آپ اس معلومات سے کسی کو بچا سکتے ہیں‘‘۔

پڑتال

وائرل پوسٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کورونا وائرل گلے میں چار دنوں تک زندہ رہتا ہے۔ اس بارے میں جب ہم نے عالمی صحت ادارہ (ڈبلو ایچ او) کی رپورٹ کو دیکھا تو پتہ چلا کہ اس وائرس کے زندہ رہنے کی مدت 1۔14 دن تک ہے۔ زیادہ تر معاملات میں یہ مدت تقریبا پانچ روز کی ہے۔

اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ 4 دن تک حلق میں کورونا وائرس باقی رہتا ہے۔

وائرل پوسٹ میں مزید لکھا ہے کہ کافی زیادہ پانی پینے اور نمک یا سرکہ کے ساتھ غلاغرارہ کرنے سے وائرس کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔

سنٹر فار ڈزیز کنٹرول اینڈ پریونشن (سی ڈی سی) کےمطابق فی الحال کورونا وائرس کے علاج کے لئے کوئی ویکسین مہیہ نہیں ہے۔

خود کو وائرس سے بچانے کے لئے

ہاتھ دھوتے رہنا چاہئے۔

بیمار لوگوں سے رابطے سے گریز کریں۔

· جب آپ دوسروں کے آس پاس ہوں تو اپنے منہ اور ناک کو کپڑوں سے ڈھانپیں۔

ان چیزوں کو صاف کریں جن کو آپ روزانہ ہاتھ لگاتے ہیں۔

وشواس نیوز نے اسے لے کر وزارت آیوش کے فارموکووجلینس افسر ڈاکٹر ومل این سے بات کی۔ انہوں نے کہا، ’’ ایسا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ جس سے یہ ثابت ہو کہ کورونا وائرس 4 دنوں تک گلے میں رہتا ہے۔ یہ کووڈ 19 کا فی الحال کوئی علاج نہیں ہے۔ گرم پانی پینے سے راحت بےشک ملتی ہے لیکن یہ اس کا علاج نہیں ہے۔ زخکام میں نکمین یا سرکہ آمیز پانی سے راحت ملتی ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس سے کورونا وائرس کا علاج کیا جا سکتا ہے‘‘۔

ڈس کلیمر، اعلامیہ دست برداری: وشواس نیوز کی کورونا وائرس (کووڈ-19) سے منسلک فیکٹ چیک خبروں کو پڑھتے یا اسے شیئر کرتے وقت آپ کو اس بات پر غور کرنا ہوگا کہ جن اعداد و شمار یا ریسرچ متعقلہ ڈیٹا کا استعمال کیا گیا ہے، وہ مسلسل بدل رہے ہیں۔ بدل اسلئے رہے ہیں کیوں کہ اس وبا سے جڑے اعداد و شمار (متاثرین اور ٹھیک ہونے والے مریضوں کی تعداد، اس سے ہونے والی اموات کی تعداد) میں مسلسل تبدیلیاں ہو رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی اس بیماری کا ویکسین بننے سے منسلک چل رہے تمام ریسرچ کے پختہ نتائج آنے باقی ہیں، اور اس وجہ سے علاج اور بچاؤ کو لے کر فراہم کردہ اعداد و شمار میں بھی تبدیلیاں ہو سکتی ہیں۔ اسلئے ضروری ہے کہ خبر میں استعمال کئے گئے ڈیٹا کو اس کی تاریخ سے جوڑ کر دیکھا جائے۔

اب باری تھی فرضی پوسٹ کو شیئر کرنے والے فیس بک پیج ’ایکسس ٹو جسٹس‘ کی سوشل اسکیننگ کرنے کی۔ ہم نے پایا کہ اس پیج کو پاکستان سے چلایا جاتا ہے۔علاوہ ازیں اس پیج کو 2473 صارفین فالوو کرتے ہیں۔


نتیجہ: کورونا وائرس کے 4 دنوں تک گلے میں رہنے کا دعوی کرنے والی پوسٹ فرضی ہے۔ اس دعوی کو ثابت کرنے کے لئے کوئی ثبوت موجود نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ، پانی پیا یا نمک آمیز پانی سے غرارہ کرنا گلے کی خراش کے لئے اچھا ہے، لیکن یہ کورونا وائرس کو ٹھیک نہیں کر سکتا ہے۔

  • Claim Review : پھیپھڑوں تک پہنچنے سے پہلے کورونا وائرس چار دن تک گلے میں رہتا ہے اور اس وقت فرد کو کھانسی ہونے لگتی ہے اور گلے میں تکلیف ہوتی ہے۔ اگر وہ بہت زیادہ پانی پیتا ہے اور گرم پانی اور نمک یا سرکہ سے گرمجوشی سے وائرس کا خاتمہ ہوتا ہے۔ اس معلومات کو پھیلائیں کیوں کہ آپ اس معلومات سے کسی کو بچا سکتے ہیں
  • Claimed By : FB Page- Access to Justice
  • Fact Check : جھوٹ‎
جھوٹ‎
    فرضی خبروں کی نوعیت کو بتانے والے علامت
  • سچ
  • گمراہ کن
  • جھوٹ‎

مکمل حقیقت جانیں... کسی معلومات یا افواہ پر شک ہو تو ہمیں بتائیں

سب کو بتائیں، سچ جاننا آپ کا حق ہے۔ اگر آپ کو ایسے کسی بھی میسج یا افواہ پر شبہ ہے جس کا اثر معاشرے، ملک یا آپ پر ہو سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ آپ نیچے دئے گئے کسی بھی ذرائع ابلاغ کے ذریعہ معلومات بھیج سکتے ہیں۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Post saved! You can read it later