فیکٹ چیک: داؤدی بوہرہ برادری کی پرانی ریلی کو ابھی کا بتا کر کیا جا رہا ہے وائرل

نئی دہلی (وشواس ٹیم)۔ فیس بک اور ٹویٹر جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمس پر آج کل ایک ویڈیو وائرل ہو رہا ہے جس میں لوگ ہاتھوں میں قومی ترنگا لئے اور بھارت ماتا کی جے بولتے ہوئے ریلی نکالتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ پوسٹ میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ ویڈیو جموں و کشمیر سے دفعہ 370 ہٹائے جانے کے  بعد کا ہے۔ ہماری پڑتال میں ہم نے پایا کہ یہ ویڈیو گزشتہ روز کا نہیں، بلکہ 18 فروری 2019 کا ہے جب بوہرا برادری کے لوگوں نے پلوامہ دہشت گردانہ حملہ میں شہید ہوئے سی آر پی ایف کے جوانوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے ریلی نکالی تھی۔

دعویٰ

وائرل پوسٹ میں 45 سیکنڈ کا ایک ویڈیو کا جس میں لوگوں کے ہاتھوں میں قومی ترنگا ہے اور بھارت ماتا کی جے کے نعرے کے ساتھ ریلی کو نکلتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ ویڈیو میں موجود لوگ مسلمان نظر آرہے ہیں۔ پوسٹ میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ، ’’ سیکولر مذہب جس نے کبھی ’بھارت ماتا کی جے‘ کی مخالفت کی تھی۔ اب ہندوستانی پرچم کے ساتھ وندے مارتم کے نعرے لگا رہے ہیں۔ دفعہ 370 اور 35 اے کے خاتمہ کا اثر۔ ہیش ٹیگ کشمیر ہمارا ہے، ہیش ٹیگ کشمیر میں ترنگا‘‘۔

کچھ اور پوسٹس میں بھی اس ویڈیو کو کشمیر کا بتایا جا رہا ہے۔

فیکٹ چیک

پڑتال شروع کرنے کے لئے ہم نے اس ویڈیو کو ان ویڈ ٹول پر ڈالا اور کی فریمس کو گوگل رورس امیج پر سرچ کیا۔ سرچ کرنے پر نتائج میں ہمیں فایس فایس نام کے یو ٹیوب چینل پر اپ لوڈیڈ 1 منٹ 52 سیکنڈ کا ایک ویڈیو ملا، جس کی سرخی تھی ’’بنگلورو میں بنیرگھٹا روڈ علاقہ کے پاس بوہرہ مسلمانوں نے شہید سی آر پی ایف جوانوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ریلی نکالی‘‘۔ اس ویڈیو کو یو ٹیوب پر 26 فروری 2019 کو اپ لوڈ کیا گیا تھا۔ اس ویڈیو میں’شہید جوان امر رہے‘‘ کے نعروں کو بھی سنا جا سکتا ہے۔ اس سے ہمیں یہ پتہ چلتا ہے کہ اصل میں یہ ریلی بنگلورو میں پلوامہ میں شہید ہوئے فوجیوں کی حمایت میں نکالی گئی تھی۔

اس ویڈیو میں پہلے ہی سیکنڈ میں ہمیں ایک عمارت نظر آتی ہے جس پر برہانی فلورا لکھا ہوا ہے۔ ہم برہانی فلورا کو گوگل پر سرچ کیا تو ہمیں برہانی فلورا منزل نام کی ایک عمارت بنگلورو میں ملی۔ گوگل میپس میں سرچ کرنے پر سیٹیلائٹ ویو میں یہ عمارت ویڈیو کے لوکیشن جیسی ہی لگ رہی ہے۔

علاوہ ازیں ہمیں 18 فروری 2019 کو لنڈا نیو مائی نام کے ٹویٹر ہینڈل سے کیا گیا ایک ٹویٹ بھی ملا جس میں یہ ویڈیو تھا اور ساتھ میں کیپشن لکھا تھا، ’’ ’’بنگلورو میں بنیرگھٹا روڈ علاقہ کے پاس بوہرا مسلمانوں نے شہید سی آر پی ایف جوانوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ریلی نکالی‘‘۔
#IndianArmyOurPride #StandWithForces #IndiaWithMartyrs”

اس کے بعد ہم نے بوہرا برادری کے دہلی ونگ کے لیڈر مرتضی شاطر سے بات کی جنہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ، ’’یہ ویڈیو تب کا ہے جب بنگلورو میں بنیرگھٹا روڈ علاقہ کے پاس بوہرا مسلمانوں نے پلوامہ حملہ میں شہید سی آر پی ایف جوانوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ریلی نکالی تھی۔ اس ریلی کی خبر ان کے پاس بھی آئی تھی‘‘۔

اس پوسٹ کو ہیمر دیسائی نام کے ہینڈل سے ٹویٹر پر شیئر کیا گیا تھا۔ اس پوسٹ کو فیس بک پر بھی متعدد صارفین غلط حوالے کے ساتھ شیئر کر رہے ہیں جن میں سے ایک ہیں فیس بک صارف ادیان ایاپاس۔

جموں و کشمیر سے دفعہ 370 ختم کئے جانے کے بعد سے اس طرح کے فرضی ویڈیو اور تصاویر کا سوشل میڈیا پ سیلاب آگیا ہے۔ وشواس نیوز نے بھی متعدد خبروں کی پڑتال کی ہے۔ جس کے لنک آپ نیچے دیکھ سکتے ہیں۔

فیکٹ چیک: جموں و کشمیر ہائی کورٹ کی عمارت پر پہلے سے موجود ہے ترنگا، فرضی تصویر ہو رہی وائرل
فیکٹ چیک: پٹنہ میں 4 سال پہلے ہوئے لاٹھی چارج کا ویڈیو کشمیر کے نام پر وائرل
فیکٹ چیک: کشمیر میں خواتین کے احتجاجی مظاہرہ والا پرانا ویڈیو پھر سے ہو رہا وائرل

نتیجہ: ہماری پڑتال میں ہم نے پایا کہ یہ پوسٹ گمراہ کن ہے، یہ ویڈیو بنگلورو کا ہے جب بوہرہ برادری کے لوگوں نے پلوامہ حملہ میں شہید ہوئے جوانوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ریلی نکالی تھی۔ اس ویڈیو کو فرضی حوالے کے ساتھ کشمیر کے نام پر پھیلایا جا رہا ہے۔

مکمل سچ جانیں…سب کو بتائیں

اگر آپ کو ایسی کسی بھی خبر پر شک ہے جس کا اثر آپ کے معاشرے اور ملک پر پڑ سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ ہمیں یہاں جانکاری بھیج سکتے ہیں۔ آپ ہم سے ای میل کے ذریعہ رابطہ کر سکتے ہیں
contact@vishvasnews.com 
اس کے ساتھ ہی واٹس ایپ (نمبر9205270923 ) کے ذریعہ بھی اطلاع دے سکتے ہیں۔

  • Claim Review : سیکولر مذہب جس نے کبھی ’بھارت ماتا کی جے‘ کی مخالف کی تھی۔ اب ہندوستانی پرچم کے ساتھ وندے مارتم کے نعرے لگا رہے ہیں
  • Claimed By : ‎Udayan Ayyappas‎
  • Fact Check : False
False
    Symbols that define nature of fake news
  • True
  • Misleading
  • False

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Post saved! You can read it later