X

فیکٹ چیک: ذاکر نائیک کے اس ویڈیو کا فیفا ورلڈ کپ 2022 سے کوئی لینا۔ دینا نہیں ہے

وشواس نیوز نے وائرل ویڈیو کی چھان بین کی تو پتہ چلا کہ اس ویڈیو کا قطر میں ہو رہے فیفا ورلڈ کپ 2022 سے کوئی تعلق نہیں ہے، یہ 2016 کا ویڈیو ہے، جب کچھ لوگوں نے اسلام قبول کیا تھا۔ اس پرانی ویڈیو کو فیفا ورلڈ کپ سے جوڑنے کے گمراہ کن دعوے کے ساتھ گردش کیا جا رہا ہے۔

  • By Vishvas News
  • Updated: November 27, 2022

نئی دہلی (وشواس نیوز)۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہو رہا ہے، جس میں ذاکر نائیک کو ایک سٹیج پر کھڑے کچھ لوگوں کو اسلام قبول کرنے کے لیے کلمہ پڑھتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ ویڈیو کو ایک صارف کی جانب سے اس دعوے کے ساتھ شیئر کیا جا رہا ہے کہ ان چاروں افراد نے فیفا ورلڈ کپ 2022 میں ذاکر نائیک کے لیکچر کے بعد اسلام قبول کیا۔

وشواس نیوز نے وائرل ویڈیو کی چھان بین کی تو پتہ چلا کہ اس ویڈیو کا قطر میں ہو رہے فیفا ورلڈ کپ 2022 سے کوئی تعلق نہیں ہے، یہ 2016 کا ویڈیو ہے، جب کچھ لوگوں نے اسلام قبول کیا تھا۔ اس پرانی ویڈیو کو فیفا ورلڈ کپ سے جوڑنے کے گمراہ کن دعوے کے ساتھ گردش کیا جا رہا ہے۔

کیا ہے وائرل پوسٹ میں؟

وائرل پوسٹ کو شیئر کرتے ہوئے ایک فیس بک صارف نے لکھا، ‘فیفا ورلڈ کپ کے مبارک ترین لمحات ڈاکٹر ذاکر نائیک کے پہلے بیان پر ہی الحمدللہ چار لوگوں نے کلمہ حق کا اقرار کیا اللہ تعالی قبول فرمائے کتنے بابرکت لوگ ہیں…… جن کے تھنک ٹینکس دین اسلام کے بارے میں سوچتے ہیں اور ڈھیروں مبارکباد قطر کی گورنمنٹ کے لیے….. ہمارے حکمرانوں کو بھی اللہ ھدایت دے’۔

پوسٹ کا آرکائیو ورژن یہاں دیکھیں۔

پڑتال

ویڈیو کی چھان بین کے لیے، ہم نے اسے یوٹیوب پر مطلوبہ الفاظ کے ساتھ تلاش کرنا شروع کیا۔ تلاش میں، ہمیں 19 جون 2016 کو یوٹیوب چینل پر اپ لوڈ کردہ اسی ویڈیو کا ایک طویل ورژن ملا۔ ویڈیو کے ساتھ یہاں دی گئی معلومات کے مطابق، ‘قطر کے کٹارا ایمفی تھیٹر میں ذاکر نائیک کا پروگرام۔ ان میں بہت سے لوگ تھے جنہوں نے اسلام قبول کیا اور میں نے اپنے فون سے سٹیج پر شہادت پانے والوں میں سے کچھ کی ریکارڈنگ کی۔

اسی ویڈیو کا اسکرین شاٹ الشرق نامی نیوز ویب سائٹ پر ملا۔ 28 مئی 2016 کو دی گئی معلومات کے مطابق، ‘گزشتہ جمعرات کی شام کٹارا کلچرل ولیج فاؤنڈیشن میں اسلامی مبلغ ذاکر نائیک نے “کیا خدا موجود ہے؟” کے عنوان پر اپنا لیکچر دیا۔ ایک اندازے کے مطابق 13,000 سے زیادہ لوگوں نے شرکت کی اور کچھ نے اسلام قبول کیا۔

ہمیں 25 مئی 2016 کو قطر ٹریبیون کی ویب سائٹ پر بھی یہی خبر ملی۔ یہاں دی گئی معلومات کے مطابق یہ لیکچر کچھ ٹی وی چینلز پر لائیو بھی دکھایا گیا اور ڈاکٹر ذاکر کا لیکچر ختم ہونے کے بعد چار افراد اسٹیج پر آئے اور اسلام قبول کرنے کا اعلان کیا۔ مکمل خبر یہاں پڑھی جا سکتی ہے۔

ویڈیو کی تصدیق کے لیے ہم نے نیوز 18 کے سینئر اسپورٹس ایڈیٹر ونیت رام کرشنن سے بھی رابطہ کیا اور ان کے ساتھ ویڈیو شیئر کیا۔ انہوں نے ہمیں تصدیق کی کہ یہ ویڈیو فیفا ورلڈ کپ کی نہیں ہے، یہ 2016 کی ہے۔

گمراہ کن پوسٹ شیئر کرنے والے فیس بک صارف کی سوشل اسکیننگ میں، ہم نے پایا کہ اس صارف کا تعلق پاکستان سے ہے۔

نتیجہ: وشواس نیوز نے وائرل ویڈیو کی چھان بین کی تو پتہ چلا کہ اس ویڈیو کا قطر میں ہو رہے فیفا ورلڈ کپ 2022 سے کوئی تعلق نہیں ہے، یہ 2016 کا ویڈیو ہے، جب کچھ لوگوں نے اسلام قبول کیا تھا۔ اس پرانی ویڈیو کو فیفا ورلڈ کپ سے جوڑنے کے گمراہ کن دعوے کے ساتھ گردش کیا جا رہا ہے۔

  • Claim Review : ان چاروں افراد نے فیفا ورلڈ کپ 2022 میں ذاکر نائیک کے لیکچر کے بعد اسلام قبول کیا
  • Claimed By : Kamran Afd
  • Fact Check : گمراہ کن
گمراہ کن
فرضی خبروں کی نوعیت کو بتانے والے علامت
  • سچ
  • گمراہ کن
  • جھوٹ‎

مکمل حقیقت جانیں... کسی معلومات یا افواہ پر شک ہو تو ہمیں بتائیں

سب کو بتائیں، سچ جاننا آپ کا حق ہے۔ اگر آپ کو ایسے کسی بھی میسج یا افواہ پر شبہ ہے جس کا اثر معاشرے، ملک یا آپ پر ہو سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ آپ نیچے دئے گئے کسی بھی ذرائع ابلاغ کے ذریعہ معلومات بھیج سکتے ہیں۔

ٹیگز

اپنی راے دیں

No more pages to load

متعلقہ مضامین

Next pageNext pageNext page

Post saved! You can read it later