فیکٹ چیک: مکان کے ملبے کے بیچ کھڑے بچے کی یہ تصویر افغانستان میں آئے حالیہ زلزلہ کی نہیں، سال 2022 کی ہے
وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ اس تصویر کا افغانستان میں حالیہ روز آئے زلزلہ سے کوئی تعلق نہیں ۔یہ افغانستان میں سال 2022 میں آئے زلزلہ سے متاثر علاقہ کی تصویر ہے۔
- By: Umam Noor
- Published: Sep 5, 2025 at 03:52 PM
نئی دہلی (وشواس نیوز)۔ گزشتہ روز افغانستان میں ایک زبردست زلزلہ آیا ہے۔ زلزلہ کے سبب کئی جانیں بحق ہو گئیں۔ اسی بیچ سوشل میڈیا پر ایک بچے کی تصویر وائرل ہو رہی ہے۔ تصویر میں بچے کو کئی ٹوٹی ہوئی عمارتوں کے بیچ میں کھڑے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔وائرل تصویر کو شیئر کرتے ہوئے دعوی کیا جا رہا ہے کہ یہ افغانستان میں آئے حالیہ زلزلہ کی ہے۔
وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ اس تصویر کا افغانستان میں حالیہ روز آئے زلزلہ سے کوئی تعلق نہیں ۔یہ افغانستان میں سال 2022 میں آئے زلزلہ سے متاثر علاقہ کی تصویر ہے۔
کیا ہے وائرل پوسٹ میں؟
فیس بک صارف زینت خان نے وائرل تصویر کو 1 ستمبر کو شیئر کرتے ہوئے لکھا ’’افغانستان میں بھیانک زلزلہ 800 سو لوگوں کی ہوٸی موت اللہ پاک حفاظت فرماۓ آمین‘‘۔
پوسٹ کے آرکائیو ورژن کو یہاں دیکھیں۔

پڑتال
اپنی پڑتال کو شروع کرتے ہوئے سب سے پہلے ہم نے گوگل لینس کے ذریعہ سرچ کیا۔ سرچ کئے جانے پر ہمیں یہ تصویر گلوکار عدنان سمیع کی جانب سے ایکس پر پوسٹ کی ہوئی ملی۔ یہاں اس تصویر کو 8 اکتوبر 2023 کو افغانستان کے حوالے سے پوسٹ کیا گیا ہے۔
اسی بنیاد پر سرچ کئے جانے پر ہمیں یہ فوٹو صحیح خبر نام کی ویب سائٹ پر 4 جولائی 2022 کو شائع ہوئی خبر میں ملی۔ یہاں خبر میں بتایا گیا کہ یہ تصویر افغانستان میں آئے زلزلہ کی ہے۔ اس زلزلہ میں تقریبا پندرہ سو لوگوں کی موت جبکہ دو ہزار لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ وہیں اس خبر میں ہمیں تصویر کے کریڈٹ میں ایران کی نیوز ایجنسی تسنیم نیوز کا حوالا نظر آیا۔

پڑتال کو آگے بڑھاتے ہوئے ہم نے تسنیم نیوز کی ویب سائٹ پر وائرل تصویر کو سرچ کیا۔ سرچ میں ہمیں یہ تصویر اور بھی دیگر تصاویر کے ساتھ جون 2022 کو شائع ہوئی فوٹو گیلری میں ملی۔ معلومات کے مطابق، ‘22 جون کو افغانستان کے جنوب مشرقی شہر خوست کے قریب ایک دیہی، پہاڑی علاقے میں ایک طاقتور زلزلہ آیا۔ وہیں اس مہلک ترین زلزلے میں 1,000 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے‘‘۔


ڈیلی میل ڈاٹ کو ڈاٹ یو کے کی جون 2022 کے آرٹیکل میں بھی اس مہلک زلزلہ سے متعلق رپورٹ پڑھی جا سکتی ہے۔ خبر یہاں پڑھی۔
وائرل پوسٹ سے متعلق تصدیق کے لئے ہم نے افغانستان کے صحافی جاوید تنویر سے رابطہ کیا۔ انہوں نے بھی تصدیق دیتے ہوئے بتایا تھا کہ افغانستان میں شدید زلزلہ گزشتہ روز آیا جس سے کافی نقصان بھی پہنچا ہے، حالاںکہ یہ تصویر کئی برسوں سے وائرل ہے۔
اردو العربیہ کی دو ستمار کی خبر کے مطابق، اتوار اور پیر کی درمیانی شب افغانستان میں آنے والے اس خوفناک زلزلے کی رچر سکیل پر شدت 6.0 تھی اور یہ حالیہ برسوں کے دوران اس علاقے کا شدید ترین زلزلہ تھا۔ زلزلے سے غیر معمولی نقصان کی اطلاعات کا سلسلہ جاری ہے۔ مواصلاتی اعتبار سے کمزور انفراسٹرکچر کی وجہ سے زلزلے کے اثرات کی اطلاعات بھی آہستہ آہستہ سامنے آرہی ہیں‘‘۔
اب باری تھی گمراہ کن پوسٹ کو شیئر کرنے والی فیس بک صارف کی سوشل اسکیننگ میں ہم نے پایا کہ صارف زینت خبر کو ساڑھے چھ لاکھ سے زیادہ لوگ فالوو کرتے ہیں۔
نتیجہ: وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ اس تصویر کا افغانستان میں حالیہ روز آئے زلزلہ سے کوئی تعلق نہیں ۔یہ افغانستان میں سال 2022 میں آئے زلزلہ سے متاثر علاقہ کی تصویر ہے۔
- Claim Review : یہ افغانستان میں آئے حالیہ زلزلہ کی ہے۔
- Claimed By : فیس بک صارف زینت خان
- Fact Check : گمراہ کن
مکمل حقیقت جانیں... کسی معلومات یا افواہ پر شک ہو تو ہمیں بتائیں
سب کو بتائیں، سچ جاننا آپ کا حق ہے۔ اگر آپ کو ایسے کسی بھی میسج یا افواہ پر شبہ ہے جس کا اثر معاشرے، ملک یا آپ پر ہو سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ آپ نیچے دئے گئے کسی بھی ذرائع ابلاغ کے ذریعہ معلومات بھیج سکتے ہیں۔











