فیکٹ چیک: راجیو گاندھی کے ہاتھ میں ڈیجیٹل کیمرہ نہیں بلکہ، وی ایچ- ایس کیمکارڈر ہے

0

وشواس  ٹیم (نئی دہلی)۔ سوشل میڈیا پر ایک تصویر وائرل ہو رہی ہے، جس میں راجیو گاندھی کے ہاتھ میں ایک کیمرہ ہے، جس کو لے کر یہ دعوی کیا جا رہا ہے کہ ان کے ہاتھ میں جو کیمرہ ہے وہ ڈیجیٹل کیمرہ ہے، تاہم وہ وی ایچ۔ ایس کیمکارڈر ہے۔ وشواس نیوز نے اپنی چانچ پڑتال میں اس خبر کو فرضی ثابت کیا۔

کیا ہے وائرل پوسٹ میں

تاریخ 14 مئی، فیس بک پیج ’’پنڈت جانی لیور‘‘ پر ایک تصویر اپ لوڈ ہوتی ہے، اس تصویر میں راجیو گاندھی ہیں اور ان کے ہاتھ میں ایک کیمرہ ہے جس پر جے وی سی (کمپنی کا نام) لکھا ہے۔ تصویر پر ایک کیپشن لکھا ہے ’’ اور پھر چمچے پوچھتے ہیں مودی کے پاس 1988 میں کیمرہ آیا کیسے‘‘۔ یہ پوسٹ سوشل میڈیا کے تمام پلیٹ فارمس پر وائرل ہو چکی ہے۔

پڑتال

ہم نے سب سے پہلے اس تصویر کا اسکرین شاٹ لیا اور اس کے بعد گوگل رورس امیج ٹول میں اس کو سرچ کیا۔ ہمارے آگے اس تصویر کی بہت ساری معلومات سلسلہ وار طریقہ سے کھلتی چلی گئی، جس میں یہ تصویر دیگر کیپشن کے ساتھ سوشل میڈیا پر شیئر اور وائرل کی گئی تھی۔ کچھ ٹویٹ بھی ہمارے ہاتھ لگے جہاں پر اس سے متعلق دعوے تھے۔
Chowkidar Tajinder Pal Singh BaggaVerified account @TajinderBagga

مگر ساتھ ہی کانگریس کا 2017 کا ایک ٹویٹ ہاتھ لگا جہاں پر اس تصویر کو ٹویٹ کیا گیا تھا اور لکھا گیا ’’راجیو گاندھی کو فوٹو گرافی سے پیار تھا‘‘۔

ٹویٹ کی گئی یہ تصویر اور شیکھر گپتا کا ایک آرٹیکل بھی ہمارے ہاتھ لگا جس میں اس تصویر کا استعمال کیا گیا تھا، یہ آرٹیکل 21 دسمبر 2015 کو شائع ہوا۔

یہ واضح ہو گیا کہ تصویر کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہیں کی گئی ہے یہ تصویر صحیح ہے اور راجیو گاندھی کی یہ تصویر سال 1983 کی ہے۔ ان کے ساتھ جو کیمرہ تصویر میں نظر آرہا ہے وہ جے وی سی کیمرہ ہے جو سال 1983 میں ہی لانچ ہو گیا تھا۔ اگر ان کی اس تصویر کو غور سے دیکھیں گے تو نظر آجائےگا کہ کیمرے پر جے وی سی بھی لکھا ہوا ہے۔

یہ تصویر اس موقع کی ہے جو وہ سال 1983 میں ہنڈن ایئر فورس اسٹیشن پر ہندوستانی فضائیہ کا شو اپنے وی ایچ۔ ایس کیمکارڈر میں قید کر رہے تھے۔ اب باری تھی اس دعوی کی جس کو لے کر سوشل میڈیا پر بحث چل رہی ہے کہ یہ راجیو گاندھی کے ہاتھ میں ڈیجیٹل کیمرہ ہے یا پھر کوئی اور کیمرہ۔ ہم نے تصویر کو ان ویڈ ٹول کے ذریعہ زوم کر کے دیکھا تو اس پر لکھا تھا ’’جے وی سی‘‘۔

اب یہ بات آئی کیسے ضرورت تھی اس خبر کی تہ تک جانے کی۔ وزیر اعظم نے حال ہی میں ایک انٹرویو کے دوران ای میل اور ڈیجیٹل کیمرہ کو لے کر کچھ باتیں بولی تھی، جس کو لے کر سوشل میڈیا پر یہ بہت بڑا مدعا بن گیا تھا۔ مودی نے انٹرویو میں یہ کہا تھا، انہوں نے 1988 میں ڈیجیٹل کیمرہ سے فوٹو کھینچی تھی اور اسے ای میل بھی کیا تھا، تاہم ہندوستان میں ڈیجیٹل کمیرہ 1990 اور ای میل 1995 میں آیا۔ اسی بات کو بنیاد بناتے ہوئے راجیو گاندھی کی کیمرہ کے ساتھ سوشل میڈیا پر ایک تصویر شیئر ہونے لگی، جس میں یہ دعوی کیا جانے لگا کہ راجیو گاندھی نے مودی سے پہلے ڈیجیٹل کیمرہ کا استعمال کیا تھا۔

تصویر میں نظر آرہے کیمرہ کی حقیقت

راجیو گاندھی کی شیئر کی جا رہی تصویر میں جو کیمرہ دکھائی دے رہا ہے اصل میں وہ ڈیجیٹل کیمرہ نہیں ہے۔ جو کیمرہ اس فوٹو میں ان کے ہاتھ میں ہے وہ ایک وی ایچ ایس کیمرہ ہے، جسے کیمکارڈر بھی کہتے ہیں۔ سال 1983 میں ہی سونی کمپنی نے پہلی بار بازار میں کنزیومر کیمکارڈر لانچ کیا تھا۔ اسی سال جے وی سی نام کی کمپنی نے دنیا کا پہلے وی ایچ۔ ایس کیمکارڈر بھی لانچ کیا تھا۔

اب باری تھی کیمرہ ایکسپرٹ کی رائے جاننے کی، ہم نے اس سلسلہ میں ویڈیو جرنلسٹ سدھارتھ سفایا سے بات کی انہوں نے ہمیں جے وی سی کے بارے میں جانکاری دی۔ ’’1983 میں ہی سونی کمپنی نے پہلی بار بازار میں کنزیومر کمیکارڈر بھی لانچ کیا تھا۔ جے پی سی ایک جاپانی کمپنی ہے، جو پروفیشنل ایلیکٹرانکس  گڈس کا پروڈکشن کرتی ہے۔ دا جاپان وکٹر کمپنی (جے وی سی) نے جاپان میں پہلی بار ٹیلی ویزن اور ویڈیو ہوم سسٹم انٹروڈیوس کیا تھا۔ بعد میں، جے پی سی نے پروفیشنل کیمکارڈر اور ڈیجیٹل کیمرہ کا پروڈکشن شروع کر دیا‘‘۔

اصل میں ڈیجیٹل کیمرہ اور کیمکارڈر میں کچھ اس طرح کا فرق ہوتا ہے۔

پہلا۔ ڈیجیٹل کیمرہ کے اندر جو آڈیو اور ویڈیو ڈیٹا ہوتا ہے وہ نمبر کی شکل میں ریکارڈ ہوتا ہے۔

دوسرا۔ آڈیوی کے معاملہ میں اسٹور ہوا نمبر اس خاص موقع پر مائیک کے ذریعہ حاصل ہوئے ایئر کے پریشر کو ریکارڈ کرتا ہے۔

تیسرا۔ ویڈیو کے معاملہ میں برائٹنیس کو نمبرس میں بدلا جاتا ہے اور یہ کام سسنر کرتا ہے، تاہم اگر کیمکارڈر کی بات کی جائے تو کیمکارڈر میں کیسیٹ لگا کر ریکارڈ کیا جاتا تھا۔ یہ ڈیجیٹل ریکارڈنگ کا حصہ نہیں تھی۔

اس طرح سے یہ دعوی کہ راجیو گاندھی نے 1983 میں ڈیجیٹل کیمرہ استعمال کیا تھا، یہ غلط ہے۔

سوشل میڈیا پر یہ پوسٹ جس پیج سے وائرل ہوئی تھی اب باری تھی اس کی سوشل اسکیننگ کی، ’’ پنڈت جانی لیور‘‘ پیج کے 27398 لائک اور 28147 فالوورس ہیں۔

نتیجہ: وائرل ہو رہی تصویر کا دعوی غلط ہے، راجیو گاندھی کے ہاتھ میں ڈیجیٹل کیمرہ نہیں، بلکہ وی ایچ ایس کیمکارڈر ہے۔

مکمل سچ جانیں…سب کو بتائیں

اگر آپ کو ایسی کسی بھی خبر پر شک ہے جس کا اثر آپ کے معاشرے اور ملک پر پڑ سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ ہمیں یہاں جانکاری بھیج سکتے ہیں۔ آپ ہم سے ای میل کے ذریعہ رابطہ کر سکتے ہیں
contact@vishvasnews.com 
اس کے ساتھ ہی واٹس ایپ (نمبر9205270923 ) کے ذریعہ بھی اطلاع دے سکتے ہیں۔

Written BY Umam Noor
  • Claim Review : سال 1983 میں راجیو گاندھی نے استعمال کیا ڈیجیٹل کمیرہ
  • Claimed By : पण्डित जॉनी लीवर
  • Fact Check : False

ٹیگز

متعلقہ مضامین